Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

چین میں تنہائی کے شکار افراد کا معیشت میں 7.4 ارب ڈالر کا حصہ کیسے؟

یہ رجحان چین کے شہری طرزِ زندگی اور سروس اکانومی میں وسیع تبدیلیوں کی عکاسی کرتا ہے (فوٹو: روئٹرز)
چین کی مشہور چوٹیوں میں سے ایک ماؤنٹ تائی کی پتھریلی سیڑھیوں پر ہائیکرز ’کلائمبنگ بڈی‘ بک کر سکتے ہیں جو ان کے ساتھ چلتے ہیں، بیگ اٹھاتے ہیں اور چند سو یوآن کے عوض تصاویر کھینچتے ہیں۔
یہ تیزی سے مقبول ہونے والی سروس چین میں ابھرتی ہوئی ’کمپینین شپ اکانومی‘ کا حصہ ہے جس میں دوڑنے، سیر کرنے اور حتیٰ کہ ہاٹ پاٹ ریستورانوں میں کھانے کے لیے بھی پیسے دے کر ساتھی حاصل کیے جا سکتے ہیں، ایک ایسا کھانا جو روایتی طور پر دوستوں کے ساتھ بانٹا جاتا ہے۔
برطانوی خبر رساں دارے روئٹرز کے مطابق اکثر طلبہ یا نوجوان گیگ ورکرز سوشل میڈیا پر اشتہار دیتے ہیں، جہاں وہ ’ایموشنل ویلیو‘، گفتگو اور عملی مدد کا وعدہ کرتے ہیں، اور یوں ایک ایسا تجربہ جو کبھی دوستوں کے درمیان احسان سمجھا جاتا تھا، اب ادا شدہ سروس بن گیا ہے۔
اگرچہ اس ’کمپینین شپ اکانومی‘ کے حجم کے بارے میں کوئی سرکاری ڈیٹا موجود نہیں، مگر سرکاری میڈیا کے مطابق 2025 میں اس کی مالیت تقریباً 50 بلین یوآن (7.4 بلین ڈالر) تھی۔
یہ رجحان چین کے شہری طرزِ زندگی اور سروس اکانومی میں وسیع تبدیلیوں کی عکاسی کرتا ہے۔ محققین اور سرکاری میڈیا نے ’ایموشنل کنزمپشن‘ کی بڑھتی ہوئی مانگ کو بیان کیا ہے، کیونکہ نوجوان خاندان سے دور رہتے ہیں، طویل کام کرتے ہیں اور روایتی سماجی تعلقات قائم رکھنا مشکل پاتے ہیں۔
چین میں طویل عرصے سے جاری نوجوانوں کی بے روزگاری نے گیگ اور فری لانس کام پر انحصار کو بڑھایا ہے، کیونکہ گریجویٹس اور نوکری کے متلاشی مستحکم ملازمتوں کی کمی کے باعث ڈیلیوری، رائیڈ ہیلنگ اور دیگر آن لائن پلیٹ فارم ورک کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ سرکاری ڈیٹا کے مطابق چین میں 200 ملین سے زیادہ ’فلیکسیبل ورکرز‘ موجود ہیں۔
کمپنی کے لیے ادائیگی
چین وین شِن نے 2022 میں فوج چھوڑنے کے بعد صوبہ شینڈونگ میں ہائیکنگ کمپینین کمپنی قائم کی۔

سائیکو تھراپسٹ سمی وونگ کے مطابق پیسے دے کر ساتھی حاصل کرنے کی کشش جزوی طور پر یقین دہانی اور کنٹرول سے متعلق ہے (فوٹو: روئٹرز)

انہوں نے کہا کہ ’میں ہمیشہ ہائیکر رہا ہوں اور میرے پاس بہت تجربہ ہے۔ میں نے ہائیکنگ ایسکارٹ سروس کی بڑھتی ہوئی مانگ دیکھی اور اس شعبے میں قدم رکھنے کا فیصلہ کیا۔‘
ان کی ٹیم 10 سے کم افراد سے بڑھ کر اب تقریباً 370 تک پہنچ گئی ہے۔ کمپنی دن کے وقت ماؤنٹ تائی پر چڑھنے کے لیے 800 یوآن (116 ڈالر) وصول کرتی ہے۔
نفسیاتی پہلو
سائیکو تھراپسٹ سمی وونگ کے مطابق پیسے دے کر ساتھی حاصل کرنے کی کشش جزوی طور پر یقین دہانی اور کنٹرول سے متعلق ہے، کیونکہ عام سماجی ماحول میں تعلقات قائم کرنا محنت طلب اور غیر یقینی ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’لوگوں سے ملنے کے لیے جذباتی محنت اور سرمایہ کاری کی ضرورت ہوتی ہے، اور نتیجہ غیر یقینی ہوتا ہے، جو اضطراب پیدا کرتا ہے۔ پیڈ کمپینین شپ گاہکوں کو رد کیے جانے کے درد سے بچا سکتی ہے۔ جب آپ یہ سروس خریدتے ہیں تو آپ کو ہمیشہ ’ہاں‘ ملتی ہے۔‘

تانگ جون نے کہا کہ ’میرے زیادہ تر کلائنٹس خواتین ہیں اور ان کی بنیادی ضرورت جذباتی قدر ہے۔‘ (فوٹو: روئٹرز)

طلبہ اور گیگ ورک
24 سالہ طالب علم تانگ جون شِنگ جنوبی شہر گُوئیلن کی ایک یونیورسٹی میں پڑھتے ہیں اور سفر کے ساتھی کے طور پر جیب خرچ کماتے ہیں۔ یہ سائیڈ گیگ اس وقت شروع ہوا جب ایک پروفیسر نے انہیں ایک ہفتے کے روڈ ٹرپ پر ڈرائیور بنایا۔
انہوں نے کہا کہ ’اسی وقت مجھے احساس ہوا کہ آپ لوگوں کے ساتھ سفر کر کے اور ڈرائیونگ کر کے پیسے کما سکتے ہیں۔‘ تانگ عام طور پر ماہانہ تین سے پانچ ہزار یوآن کماتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’میرے زیادہ تر کلائنٹس خواتین ہیں اور ان کی بنیادی ضرورت جذباتی قدر ہے، کوئی ایسا شخص جو انہیں خوش کرے اور سفر کو آسان بنائے۔‘

 

شیئر: