افطار کے فوراً بعد ہمیں جلدی پیٹ بھرنے کا احساس کیوں ہوتا ہے؟
افطار کے فوراً بعد ہمیں جلدی پیٹ بھرنے کا احساس کیوں ہوتا ہے؟
بدھ 25 فروری 2026 12:08
رمضان میں فروٹ کھانے سے جسم کی وٹامن کی ضرورت پوری ہوتی ہے (فوٹو: پکسلز)
رمضان میں افطار ہونے پر محض سُوپ، کھجور یا کافی کا کپ پیتے ہی لوگوں کو لگتا ہے کہ ان کا پیٹ بھر گیا ہے۔ غذا کی ایک ماہر کے مطابق اس کی وجہ نظامِ انہضام کی سُستی یا ہارمونز میں تبدیلی ہوتی ہے۔
عرب نیوز سے بات کرتے ہوئے ملاک قندیل نے جو شیف بھی ہیں اور افطار میں کھانے پینے کا مینیو بناتی ہیں، بتایا کہ روزہ رکھنے کے کئی گھنٹوں بعد معدے میں نظامِ ہضم کی رفتار سُست ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے تھوڑی سے چیز کھانے کے بعد بھی یوں محسوس ہوتا ہے جیسے پیٹ بھر گیا ہو۔ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ قوتِ ہاضمہ، خوراک کو ہضم کرنے میں زیادہ وقت لیتی ہے۔
انھوں نے روزہ رکھنے کے وسیع فوائد کے ذکر کے دوران وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’میں ہمیشہ کہتی ہوں کہ اگر آپ کھانے کی عادت کو کنٹرول کر لیں تو آپ کچھ بھی کنٹرول کر سکتے ہیں بلکہ جو چاہیں کر سکتے ہیں۔‘
’ذرا سوچیے کہ کھانا سب سے مضبوط انسانی جبلت ہے۔ جب آپ کو اس پر کنٹرول حاصل ہو جائے، تو آپ زندگی کے دوسرے شعبوں میں بھی ضبطِ نفس کی صلاحیتیں حاصل کر لیں گے۔ جب آپ روزہ رکھتے ہیں تو آپ میں نظم و ضبط پیدا ہوتا ہے اور صبر کی قوت بڑھ جاتی ہے۔‘
انھوں نے زور دے کر کہا کہ روزے رکھنے سے جسم میں ہارمونز میں تبدیلیاں ہوتی ہیں۔ کئی گھنٹے تک کچھ نہ کھانے پینے کی وجہ سے نظامِ ہضم سست ہو جاتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ تیل اور تلی ہوئی چیزیں معدے اور بڑی آنت کے نچلے حصے کو متاثر کرتی ہیں جبکہ جلدی جلدی کھانے سے ہوا معدے میں داخل ہوتی ہے اور آپ کا پیٹ پھولنا شروع ہو جاتا ہے۔‘
کھجور ہر افطار دسترخوان کا لازمی جز ہے (فوٹو: ایس پی اے)
قندیل کے مطابق افطار میں نرم روی بہترین حکمتِ عملی ثابت ہوتی ہے۔ پانی کے گلاس سے افطار کریں اور صرف ایک دو کھجوریں کھا لیں۔ اس کے بعد دس منٹ کا وقفہ دیں اور مغرب کی نماز ادا کریں اور پھر فیملی کے ساتھ بیٹھ جائیں۔
وہ یہ بھی کہتی ہیں کہ افطار کا آغاز سُوپ، انڈے یا چِکن سے کریں اور بہت زیادہ نشاستہ دار اور تیل والی غذا سے پرہیز کریں۔ تھوڑا فروٹ کھالیں تاکہ جسم کو وٹامن مل جائیں۔ دو گھنٹوں کے بعد ویسے ہی کھا لیں جیسے سحری کے وقت کھاتے ہیں لیکن ایک کیلا بھی کھا لیں جو جسم میں پانی کی کمی اور پیاس دونوں کو کم کرتا ہے۔
ملاک قندیل کے مطابق افطار کا آغاز سُوپ، انڈے یا چِکن سے سے بھی کیا جا سکتا ہے (فوٹو: عرب نیوز)
افطار مینیو کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے جدہ میں ریکسوس ابحر کے شیف گوخن کیکک نے کہا ’افطار مینیو کو ڈیزائن کرنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ رمضان کی روح بھی ملحوظ رہے اور مہمانوں کے جسمانی تقاضوں کا بھی خیال رکھا جائے۔کئی گھنٹوں کے روزے کے بعد جسم کو ضرورت سے زیادہ غذا فراہم کرنے کے بجائے نرمی کے ساتھ متحرک کرنا بہتر ہے۔‘
’میرا مقصد روایتی ذائقوں کا احترام ذہن میں رکھنا اور مہمانوں کو کھانے پینے کے ایسے سفر پر لے جانا ہوتا ہے جہاں وہ آرام محسوس کریں۔‘ وہ کہتے ہیں کہ مینیو بناتے وقت وہ مختلف مراحل کو ذہن میں رکھتے ہیں تاکہ جلدی سے پیٹ نہ بھر لیا جائے۔ ’میں کہوں گا کہ افطار کو مراحل ہی میں منقسم ہونا چاہیے۔‘