’ذہنی دباؤ کم اور فٹنس بہتر‘: رمضان میں واکنگ ٹریکس پر سعودی شہریوں کی چہل قدمی
’ذہنی دباؤ کم اور فٹنس بہتر‘: رمضان میں واکنگ ٹریکس پر سعودی شہریوں کی چہل قدمی
منگل 24 فروری 2026 12:26
جازان میں جسمانی سرگرمیوں کے ایک مقامی ماہر نے کہا ہے کہ رمضان میں ورزش یا اس طرح کے دیگر مشاغل، صحتِ عامہ کو بہتر بنا سکتے ہیں۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق ڈاکٹر ابراہیم بکری نے جو جازان یونیورسٹی میں سپورٹس مینجمنٹ میں سپیشلسٹ ہیں، کہا ہے کہ رمضان کے دوران ورزش کو ترک نہیں کرنا چاہیے بلکہ اسے ایک بندوبست کے تحت جاری رکھنا چاہیے۔
’افطار سے قبل ہلکی پھلکی ورزش ایک مناسب آپشن ہے جیسے آہستہ آہستہ چلنا اور معمولی ورزش کرنا جس سے پٹھوں کو کام کرنا پڑتا ہے کیونکہ وہ جسم میں موجود توانائی اور پانی کو کم کیے بغیر خون کی گردش کو تیز کرتے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ نمازِ مغرب سے آدھ گھنٹہ قبل اس طرح کی ہلکی ورزش بہت اچھے نتائج پیدا کرتی ہے جو ذہنی دباؤ اور خون میں شوگر کی کمی جیسے مسائل کے لیے بہتر ثابت ہوتے ہیں۔ اس سے نیند میں بھی بہتری آتی ہے اور رورزہ دار کی جسمانی سرگرمیوں پر مثبت اثر پڑتا ہے۔
ڈاکٹر ابراہیم بکری نے کہا کہ سحر و افطار کے درمیان کافی مقدار میں پانی پینے کی بھی بہت اہمیت ہے لیکن خوراک میں احتیاط کرنی چاہیے۔
عرب نیوز کے مطابق رمضان کے دوران کئی افراد افطار سے قبل ورزش کے لیے وقت نکال لیتے ہیں تاکہ وہ خود کو فِٹ رکھ سکیں اور اپنا وزن کم کر لیں۔
سپورٹس اور فٹنس کے ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ رمضان میں پیدل چلنا اچھا ہوتا ہے کیونکہ اس سے ذہنی دباؤ کم ہوتا ہے، فٹنس بہتر ہوتی ہے، میٹابولک صحت تندرست اور چربی کم ہو جاتی ہے۔
افطار سے کچھ پہلے آپ کو جدہ میں سمندر کے کنارے واکنگ ٹریکس یا تفریح کے لیے بنے ایریاز میں سینکڑوں لوگ پیدل چلتے نظر آئیں گے۔ ان سب کا مقصد ایک ہی ہوتا ہے اور وہ یہ کہ وہ صحتمند لائف سٹائل اختیار کریں۔
ڈاکٹر ابراہیم بکری کے مطابق نمازِ مغرب سے آدھ گھنٹہ قبل ہلکی ورزش اچھے نتائج پیدا کرتی ہے (فوٹو: عرب نیوز
جدہ کے کئی رہائشی اس بار پکا ارادہ کیے ہوئے ہیں کہ وہ ورزش کریں گے، خاص طور پر افطار سے قبل واک کریں گے کیونکہ روزے کے دوران پیدل چلنے سے جسم پر فاضل چربی جلانا آسان ہو جاتا ہے۔
جدہ میں تہلیہ کے علاقے کے ایک واک وے پر چلتے چلتے، عادل المصری نے عرب نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ماہِ رمضان میں وہ دن میں دو مرتبہ ورزش کرتے ہیں۔ ایک بار افطار سے قبل اور دوسری دفعہ روزہ کھولنے کے بعد۔
انھوں نے بتایا ’پیدل چلنا میرے لیے زندگی ہے۔ میں یہ کام سال بھر کرتا ہوئی لیکن رمضان میں یہ میرے لیے ایک خاص سرگرمی بن جاتی ہے کیونکہ روزے میں اس کے اثرات زیادہ مثبت ہوتے ہیں۔ میں اپنے اہلِ خانہ سے بھی کہتا ہوں اور دوستوں سے بھی کہ اس موقع کو ہاتھ سے نہ جانے دیں، سپورٹس میں حصہ لیں اور صحت مند طرزِ زندگی اختیار کریں‘۔
38 برس کے عبداللہ الحامد نے زور دیتے ہوئے کہا کہ رمضان میں پیدل چلنا سب کے لیے مناسب ہے اور اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کسی کی عمر کتنی ہے۔
ان کا کہنا تھا ’میں روزانہ ورزش کرتا ہوں اور رمضان میں تو خاص طور سے اس سے نہیں چُوکتا کیونکہ مجھے یقین ہے کہ روزے کے دوران افطار سے قبل چلنے سے اضافی کیلوریز جل جاتی ہیں اور وزن کم ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ پیدل چلنے سے ذہنی دباؤ میں بہت کمی آتی ہے، خاص طور پر جب آپ نے دفتر میں لمبا دن گزارا ہو۔ میرے لیے افطار سے قبل تیس سے ساٹھ منٹ تک چلنا کافی ہوتا ہے۔‘
ریٹیل کے کشادہ ایئر کینڈیشنڈ مال بھی چلنے کے لیے مقبول جگہیں ہیں۔
سپورٹس اور فٹنس کے ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ رمضان میں پیدل چلنا اچھا ہوتا ہے (فوٹو: عرب نیوز)
عبداللہ البلادی کی عمر 48 سال ہے اور وہ ریٹیل مال میں باقاعدگی کے ساتھ واک کرتے ہیں۔ وہ افطار سے پہلے اپنے گھر کے نزدیک کسی بھی مال میں جا کر واک کے لیتے ہیں تاکہ باہر کے گرم موسم سے محفوظ رہ سکیں۔
’مجھے گھر کے قریب واقع مال میں چلنا پسند ہے کیونکہ مجھے وہ ماحول آرام دہ لگتا ہے، خاص طور پر رمضان میں۔ میں روزانہ افطار سے پہلے مال میں جاتا ہوں اور وہاں ایک گھنٹہ چلتا ہوں۔ روزہ کھولنے سے قبل مجھے اس طرح کی واک کا بہت لطف آتا ہے۔
کلبوں کے ٹرینر اور صحت کے شعبے سے تعلق رکھنے والے ماہرین کہتے ہیں کہ رمضان کے مبارک مہینے میں افطار سے قبل واک کرنی چاہیے۔
اوسامہ حسین سند یافتہ ٹرینر ہیں اور انھوں نے عرب نیوز کو بتایا کہ ہلکی ورزش کے لیے مناسب وقت افطار سے پہلے کا ہوتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’پیدل چلنا، جوگنگ اور ہلکی پھلکی ورزش جیسی سرگرمیاں جسم کو توانا رکھتی ہیں اور صحت کے لیے مفید ہوتی ہیں۔‘
فٹنس کے شوقین کہتے ہیں کہ افطار سے قبل کا دورانیہ، پیدل چلنے کے لیے بہترین ہے (فوٹو: ایس پی اے)
’ہلکی ورزش کے لیے بہترین وقت افطار سے قبل کا ہے کیونکہ روزہ رکھنے اور افطار سے پہلے ورزش سے ہم جسم کو فائدہ پہنچا سکتے ہیں۔‘
انھوں نے کہا روزے کے دوران مختصر دورانیے کی زیادہ بار کی جانے والی مشقیں کرنے میں آسانی ہوتی ہے چہ جائے کہ آپ دیر تک مشکل ایکسرسائز کرتے رہیں۔ ’اسی لیے افطار سے قبل پیدل چلنا مثالی ورزش ہے۔‘
فٹنس کے شوقین کہتے ہیں کہ افطار سے قبل کا دورانیہ، پیدل چلنے کے لیے بہترین ہے کیونکہ سرکاری اور پرائیویٹ دفاتر میں چھٹی ہو چکی ہوتی ہے اور رمضان میں آپ کو زیادہ کام بھی نہیں کرنے ہوتے کیونکہ رمضان کی شامیں اہلِ خانہ کے ساتھ یا تراویح پڑھنے کے لیے وقف ہوتی ہیں۔