Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

فروری کی آخری شام جب سعودی عرب کے آسمان کا مشاہدہ ’قابلِ دید‘ ہوگا

اس سال رمضان میں آسمان میں سیاروں کی کئی ایسی وضعیں بن رہی ہیں جو سعودی عرب میں فلک بینوں کو یادگار سماوی نظارے پیش کریں گی جن میں کواکب کا مقترن ہونا، پورا چاند اور سورج کا خطِ استوا کو قطع کرتے ہوئے جانبِ شمال سفر شروع کرنا شامل ہے۔
جدہ ایسٹرونومی سوسائٹی کے ڈائریکٹر ماجد ابو زہرا کے مطابق یہ آسمانی وضعیں، رمضان کا چاند نکلنے کے ساتھ ہی شروع ہوئی ہیں۔ اس مرتبہ طلوعِ ماہتاب، ایک خوبصورت قوسی شکل میں اُس وقت ہوا ہے جب غروبِ آفتاب کے فوراً بعد، تین کواکب یعنی زحل، عطارد اور زھرہ، مغربی افق پر کافی نیچے دکھائی دیے۔
ایسی اوضاع جن میں سے ایک کا نام قِران ہے، اُس وقت بنتی ہیں جب ہم زمین سے کواکب کو دیکھتے ہیں اور وہ ایک دوسرے کے انتہائی قریب نظر آتے ہیں۔
ماجد نے زور دیتے ہوئے کہا کہ اِس ماہ جب چاند مختلف شکلوں (ہلال سے بڑھ کر پہلے ربع، پھر کامل اور پھر آخری ربع) میں نظر آئے گا تو یہ چاند کے سائے کا مشاہدہ کرنے اور اس کی سطح پر مخصوص ہئیتیں دیکھنے کا مثالی موقع ہوگا۔ اس کے علاوہ ٹیلی سکوپ کی مدد سے کئی ستاروں اور دیگر اجرامِ فلکی کو بھی دیکھا جا سکے گا۔
ابو عزۃ المحمدی نے، جو’ کنگ سعود یونیورسٹی کے کالج آف سائنس‘ کے ایسٹرونومی ڈیپارٹمنٹ میں ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں، عرب نیوز کو متوقع سماوی اوضاع کے بارے میں تفصیل سے بتایا۔
انھوں نے کہا کہ ’اس برس رمضان کی روحانی فضا کی دلکش تکمیل کے لیے کئی فلکی مظاہر ہمارے سامنے آئیں گے جو عوام الناس اور خصوصاً فلک بینوں کی بھر پور توجہ حاصل کریں گے۔
ابو عزۃ کا کہنا تھا کہ تین مارچ کو چاند گرہن ہوگا مگر یہ سعودی عرب میں نظر نہیں آئے گا البتہ عمان کے کچھ علاقوں اور متحدہ عرب امارات میں اس کا مبہم سایہ دکھائی دے گا۔ اس گرہن کی خاص بات یہ ہوگی کہ قمر، کرۂ ارض کے بیرونی سائے میں سے گزرے گا جس سے چاند کی تاریکی ڈرامائی تو نہیں ہوگی لیکن چاند پر تھوڑا بہت اندھیرا ضرور چھائےگا۔

انھوں نے کہا کہ ’جوں جوں ماہِ مبارکِ رمضان آگے بڑھتا جائے گا، بدرِ کامل مرکزی اہمیت کا حامل ہوتا جائے گا۔
اِس عمر اور اس خاص وضع کے چاند کو کئی روایات میں ’دا لیوینڈر مون‘ بھی کہتے ہیں یعنی وہ چاند جو استوائے فلکی کے نیچے نظر آتا ہے۔ تاہم یہ نام بہار کے پھولوں کے کِھلنے اور موسم کے رنگوں کے بدلنے کے تصور کو ہمارے سامنے لے آتا ہے۔ اس سال ’دا لیوینڈر مون‘ اور چاند گرہن ایک دوسرے کے آس پاس واقع ہوں گے۔
ابو عزۃ المحمدی کے مطابق عید کے قریب ہم اعتدالِ ربیعی کا مشاہدہ بھی کر سکیں گے۔ یہ وضع اس وقت بنتی ہے جب بہار کے موسم میں دن اور رات برابر ہو جاتے ہیں۔
انھوں نے فلک بینی کے شوقین افراد کے لیے رمضان کی راتوں کے سائنسی اور جمالیاتی دونوں پہلوؤں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ اس بار انٹرنیشنل سپیس سٹیشن کو بغیر آلات کے دیکھنے کا موقع بھی مل سکتا ہے۔

ستارے دیکھنے والوں کے لیے ایک اور دلچسپ خبر یہ ہے کہ اس مہینے میں ایک شام ایسی بھی آئے گی جب چھ سیارے مغربی افق پر دکھائی دیں گے۔ اس طرح کا منظر کبھی کبھار ہی نظر آتا ہے۔
یہ وضعِ فلکی 28 فروری کو سورج غروب ہونے کے فوراً بعد سنیچر کے دن دکھائی دے گی۔ ان چھ کواکب میں سے چار سیاروں کو آنکھوں سے دیکھا جا سکے گا جن میں زھرہ، عطارد، مشتری اور زحل شامل ہیں۔ تاہم یورینس اور نیپچون ٹیلی سکوپ کے ذریعے ہی دیکھے جا سکیں گے۔
تالا الحجوری اُس ٹیم کے رکن ہیں جو فلکی اور خلائی معلومات فراہم کرتی ہے۔ انھوں نے عرب نیوز کو بتایا کہ ’یہ مناظر آنے والے دنوں میں سیاروں کے قِران کی مشاہداتی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں۔ ان میں چاند، زحل، عطارد اور زھرہ کا مقترن ہونا بہت خاص ہے۔

سورج ڈوبنے کے فوراً بعد نچلے درجے کے ارتفاع پر جب یہ سیارے آفتاب سے انتہائی فاصلے پر دائرۃ البروج میں قوسی شکل بنائیں گے تو ہمیں افقِ مغرب پر ایک خاص وضعِ سماوی دکھائی دے گی جس کا مشاہدہ قابلِ دید ہوگا۔
الحجوری نے مزید کہا کہ ’20 مارچ کو جب آفتاب بظاہر اُستوائے فلکی کو قطع کرتے ہوئے اِس سے دُور ہٹنا شروع گا تو یہ اس بات کی دلیل بھی ہوگی کہ نصف کرۂ شمالی میں سماوی تبدیلیوں اور موسموں کے بدلنے کا وقت آن پہنچا ہے۔

شیئر: