سعودی پروجیکٹ کے تحت یمن سے بارودی سرنگیں ہٹانے کی کوششیں جاری
اتوار 12 اپریل 2026 22:04
اپریل میں اب تک دو ہزار 693 دھماکہ خیز ڈیوائسز کو ہٹایا گیا ہے ( فوٹو: ایکس اکاونٹ)
سعودی عرب کے مسام پروجیکٹ کے ارکان نے اپریل میں اب تک یمن کے مختلف علاقوں سے دو ہزار 693 دھماکہ خیز ڈیوائسز کو ہٹایا ہے۔
مملکت نے خطرات کو کم کرنے اور متاثرہ علاقوں میں شہریوں کی سیفٹی کے لیے کوششیں جاری رکھی ہوئی ہیں۔
عرب نیوز کے مطابق ان میں دو ہزار 502 پھٹنے سے رہ جانے والا آرڈیننس، 16 اینٹی پرسنل مائنز، 116 اینٹی ٹینک مائنز اور دو دیسی ساختہ دھماکہ خیز ڈیوائسزشامل ہیں۔
اسی مدت کے دوران مسام پروجیکٹ کی ٹیموں نے 500,794 مربع میٹر اراضی کو صاف کرکے اسے شہریوں کے لیے محفوظ بنایا ہے۔
گزشتہ ہفتے مسام کی ٹیموں نے ایک ہزار 329 پھٹنے سے رہ جانے والا آرڈیننس اور 10 اینٹی پرسنل مائنز، 67 اینٹی ٹینک مائنز اور دو دیسی ساختہ دھماکہ خیز ڈیوائسز کو تلف کیا۔
مارب، عدن، الجوف، شبوہ، تعز، الحدیدہ، لحج، صنعا، البیضا، الضالع اور صعدہ میں یہ کارروائیاں کی گئی ہیں۔
مسام پروجیکٹ کے تحت باردوی سرنگیں صاف کرنے والے مقامی انجینیئروں کی تربیت کی جاتی ہے اور انھیں جدید آلات فراہم کیے جاتے ہیں، دھماکہ خیز مواد کی وجہ سے زخمی ہونے والے شہریوں کی مدد بھی کی جاتی ہے۔

یاد رہے یمن میں بحران کے آغاز سے اب تک تقریبا 50 لاکھ افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔
پروجیکٹ کے تحت مختلف ٹیموں کو دیہات، سڑکوں اور سکولوں سے بارودی سرنگوں یا دھماکہ خیز مواد کو ہٹانے کا کام سونپا جاتا ہے تاکہ عام لوگ محفوظ رہتے ہوئے نقل و حرکت کر سکیں۔ انسانی امداد کی فراہمی کو آسان بنایا جاسکے۔
