Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

افغان طالبان کی سرحد پر بلااشتعال کارروائی، پاکستان کا فوری، مؤثر اور بھرپور جواب

افغان فوج کا کہنا ہے کہ اس نے پاکستان کے خلاف ’شدید حملے‘ شروع کر دیے ہیں۔ (فائل فوٹو: اے ایف پی)
پاکستان کی حکومت نے کہا ہے کہ افغان طالبان نے  غلط اندازہ لگاتے ہوئے خیبر پختونخوا میں پاک-افغان سرحد کے متعدد مقامات پر بلا اشتعال فائرنگ شروع کی جس کا پاکستان کی سکیورٹی فورسز کی جانب سے فوری اور بھرپور جواب دیا جا رہا ہے۔
پاکستان کی وزارت اطلاعات نے جمعرات کی شب ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ’طالبان رجیم کی فورسز کو چترال، خیبر، مہمند، کرم اور باجوڑ سیکٹرز میں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔‘
’ابتدائی اطلاعات کے مطابق افغان جانب بھاری جانی نقصان ہوا ہے اور ان کی متعدد چوکیوں اور آلات کو تباہ کر دیا گیا ہے۔‘
بیان مزید کہا گیا کہ ’پاکستان اپنی علاقائی سالمیت اور اپنے شہریوں کے تحفظ اور سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھائے گا۔‘
پاکستان کی جوابی کاروائی میں 36 افغان رجیم کے اہلکار مارے گئے: عطا تارڑ
دوسری جانب رات گئے وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ  کا ایک بیان میں کہنا تھا کہ افغان طالبان رجیم کی جانب سے پاکستان افغانستان سرحد پر بلا اشتعال فائرنگ کی کاروائیوں کا بھرپور و مؤثر جواب دیا جا رہا ہے اور جاتا رہے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ افغان طالبان رجیم اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے جھوٹا و بے بنیاد پرپیگینڈا کیا جارہا ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’اب تک کی مصدقہ اطلاعات کے مطابق پاکستانی فوج کی کاروائی میں افغان طالبان رجیم کے کارندے ہلاک ہو چکے اور متعدد زخمی ہیں۔‘
’وطن کا دفاع کرتے ہوئے پاک فوج کے دو جوان شہادت کے مرتبے پر فائز ہوئے جبکہ تین جوان زخمی ہیں۔ ‘
پاکستان کے سرکاری میڈیا کے مطابق پاکستان کے سکیورٹی ذرائع نے کہا کہ ’بلااشتعال افغان جارحیت کا پاکستان کی سکیورٹی فورسز پوری طاقت سے منہ توڑ جواب دے رہی ہیں۔ پاکستانی سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی سے افغان طالبان کے ٹھکانے تباہ اور خوارج بھاگ کھڑے ہوئے۔‘

سکیورٹی ذرائع نےمزید بتایا کہ ’چترال سیکٹر پر افغان طالبان کی چیک پوسٹ کو پاکستانی سکیورٹی فورسز نے نہایت درستگی سے نشانہ بنا کر تباہ کر دیا۔‘
’پاکستان کی سکیورٹی فورسز  نے ناوگئی سیکٹر باجوڑ، تیراہ خیبر، ضلع مہمند اور ارندو سیکٹر چکوال بھرپور جواب دیا۔ سکیورٹی فورسز نے باجوڑ میں افغان کی دو چوکیاں تباہ کر دیں۔‘
’پاکستانی سکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی سے افغان طالبان کے تمام کواڈ کاپٹرز گرا دیے گئے۔ ہوائی ڈرونز کے ذریعے بھی چن چن کر افغان طالبان رجیم کی پوسٹوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔‘
پاکستان کے وزیراعظم کے مشیر برائے غیرملکی میڈیا مشرف زیدی نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا ہے کہ ’پاکستان کی کسی چوکی پر قبضہ ہوا اور نہ ہی کوئی نقصان پہنچا ہے بلکہ پاکستانی حدود سے طالبان کی بلا اشتعال جارحیت کے جواب میں پاک-افغان سرحد پار بھاری جانی و مالی نقصان پہنچایا گیا ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’اس وقت تک کوئی پاکستانی سپاہی پکڑا گیا ہے اور نہ ہی کوئی جوان شہید ہوا ہے۔ پاکستان کو نقصان پہنچانے کے اب تک کے تمام دعوے افغانستان میں موجود انڈین ایجنٹوں کی خام خیالی کے سوا کچھ نہیں۔‘

’انشاء اللہ، یقین رکھیں کہ پاکستان کو نشانہ بنانے والی ہر جارحیت کا وہی ایک جواب ملے گا، فوری اور مؤثر۔‘

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق افغان طالبان نے بھی کئی پاکستانی فوجیوں کو ہلاک اور اغواء کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ ’کئی فوجی مارے گئے ہیں جبکہ کچھ فوجیوں کو زندہ پکڑا گیا ہے۔‘
اس سے قبل جمعرات ہی کی شب افغان طالبان نے کہا تھا کہ افغانستان کی افواج نے سرحد کے ساتھ پاکستانی فوجی پوسٹوں پر حملے شروع کر دیے ہیں۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے جمعرات کو کہا کہ یہ اقدام حالیہ پاکستانی فضائی حملوں کے جواب میں کیا گیا ہے۔
ذبیح اللہ مجاہد نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس  پر ایک بیان میں کہا کہ ’پاکستانی فوجی حلقوں کی جانب سے بار بار اشتعال انگیزی اور خلاف ورزیوں کے جواب میں ڈیورنڈ لائن کے ساتھ پاکستانی فوجی ٹھکانوں اور تنصیبات کے خلاف بڑے پیمانے پر جارحانہ کارروائیاں شروع کر دی گئی ہیں۔‘
بیان میں ڈیورنڈ لائن کے ساتھ موجود تنصیبات کا حوالہ دیا گیا تھا۔
دوسری جانب افغان فوج کا بھی کہنا تھا کہ اس نے پاکستان کے خلاف ’شدید حملے‘ شروع کر دیے ہیں۔
مشرقی افغانستان میں فوج کے ترجمان ولی اللہ محمدی نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا ’ننگرہار اور پکتیا میں پاکستان کے فضائی حملوں کے جواب میں... مشرقی زون کی سرحدی فورسز نے پاکستانی چوکیوں پر شدید حملے شروع کر دیے ہیں۔‘
ان کا اشارہ صوبہ ننگرہار  اور پکتیا میں ہونے والی کارروائیوں کی طرف تھا۔

 

شیئر: