Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

لاہور: کوٹ لکھپت میں پراپرٹی ڈیلر کی آدھ جلی لاش ملنے کا معاملہ، دو ملزمان گرفتار

پولیس نے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے جلد ہی ملزموں کو گرفتار کر لیا (فائل فوٹو: بزنس ریکارڈر)
لاہور کے علاقے کوٹ لکھپت میں 22 مئی کی رات کو نسبتاً ایک ویران سڑک کے کنارے ایک مرد اور خاتون نے ایک بوری کو رَدی سے ڈھانپنے کے بعد آگ لگا دی۔
ان سے کچھ ہی فاصلے پر کھڑا ایک راہگیر یہ سارا منظر دیکھ رہا تھا۔ بوری کو آگ اپنی لپیٹ میں لے چکی تھی تو وہ تیزی سے قدم اٹھاتا ہوا جوڑے کے قریب آیا کہ وہ کیا جلا رہے ہیں؟ وہ دونوں گھبرا گئے اور موٹر سائیکل پر سوار ہو کر وہاں سے فرار ہو گئے۔
راہگیر کے شور مچانے پر اردگرد موجود لوگ اکھٹے ہو گئے اور پولیس ہیلپ لائن پر کال کر دی گئی۔ پولیس کے آنے تک لوگوں نے آگ بجھا دی۔ جب آگ بجھی تو بوری جل چکی تھی تاہم اس میں ایک لاش موجود تھی جو نصف سے زیادہ جل چکی تھی۔
پولیس نے فوری طور پر لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھجوایا اور مقتول کی شناخت جلد ہی اشرف کے نام سے ہوئی جو پراپرٹی کا کام کرتا تھا۔
ایس پی ماڈل ٹاون اسد علی بتاتے ہیں کہ ’لاش کو جب ہسپتال بھیجا اور وہ شناخت کے مراحل میں تھی تو اسی وقت ہماری ایک ٹیم موقعے پر ہی موجود رہی اور اس راہگیر سے یہ تفصیل حاصل کی کہ وہ جوڑا کس طرف فرار ہوا تھا جس کے بعد اس سڑک کے اردگرد نصب کیمروں کی تمام فوٹیجز حاصل کی گئیں۔‘
’اس دوران مقتول کی شناخت ہو چکی تھی جو پراپرٹی کا کاروبار کرتا تھا اور اس کے نام پر موجود موبائل سم کا ڈیٹا بھی نکلوا لیا گیا تھا۔‘
اس واقعے کے 24 گھنٹے بعد تک پولیس کو کچھ ٹریسز ملنا شروع ہو گئے۔ ایس ایچ او کوٹ لکھپت افضال رؤف اس کہانی کی مزید تفصیل بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’ان کیمروں کی فوٹیجز کی مدد سے جلد ہی فرار ہونے والے جوڑے کی فوٹیج مل گئی جس میں نظر آ رہی ایک خاتون کی عمر 45 سال کے لگ بھگ تھی جبکہ اس کے ساتھ ایک 40 سال کا شخص تھا۔‘
انہوں نے کہا کہ ’ان کی موبائل فون لوکیشنز اور دیگر چیزوں سے جلد ہی ہم نے خاتون کا سراغ لگا لیا جس کے بعد اس کو حراست میں لے لیا گیا۔‘
خاتون نے گرفتاری کے بعد پولیس کو دیے گئے اپنے بیان میں کہا کہ ’انہوں نے پراپرٹی ڈیلر کو اس لیے قتل کیا کیونکہ وہ انہیں اور ان کی بیٹی کو بلیک میل کرتا تھا۔‘
خاتون کے بیان کے مطابق اشرف نامی پراپرٹی ڈیلر پہلے اسے زیادتی کا نشانہ بناتا رہا اور فلم بندی کرتا رہا بعد میں ان کی جواں سال بیٹی کو بھی اسی طرح مسلسل زیادتی کا نشانہ بناتا رہا اور ویڈیوز بناتا رہا جس کی وجہ سے خاتون نے اپنے ایک اور دوست کے ساتھ مل کر اشرف کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا۔

دونوں ملزم پولیس حراست میں ہیں اور ان سے مزید تفتیش جاری ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)

پولیس کا کہنا ہے کہ اس کیس سے متعلق تمام شواہد اکھٹے کر لیے گئے ہیں اور موبائل فونز کو بھی فرانزک کے لیے بھجوا دیا گیا ہے جبکہ دونوں ملزم پولیس حراست میں ہں اور ان سے اس کیس کے حوالے سے مزید تفتیش کی جا رہی ہے۔
ایس ایچ او افضال رؤف کے مطابق ملزمہ کا ابتدائی بیان قلم بند کر لیا گیا ہے اور جسمانی ریمانڈ لے کر تفتیش شروع کر دی گئی ہے اور واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جارہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پولیس ہر زاویے سے اس معاملے کی تفتتیش کرے گی جس کے بعد ہی عدالت میں چالان جمع کروایا جائے گا۔

شیئر: