Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’رنویر سنگھ پر پابندی کا مطالبہ‘، اداکار نے فلم ’ڈان 3‘ سے الگ ہونے کا فیصلہ کیوں کیا؟

اداکار رنویر سنگھ نے ہدایت کار فرحان اختر کی فلم ’ڈان 3‘ سے اچانک الگ ہونے کا فیصلہ کیا (فوٹو: بالی وڈ ہنگامہ)
اس وقت انڈین فلم انڈسٹری بالی وڈ ایک منفرد قسم کے تنازعے کا شکار ہے اور بظاہر دو دھڑوں میں تقسیم نظر آتی ہے۔
اس وقت فرحان اختر کی فلم ’ڈان 3‘ کو لے کر ایک نیا تنازع زوروں پر ہے جس کے مرکز میں فلم ’دھورندھر‘ کی کامیابی کے گھوڑے پر سوار اداکار رنویر سنگھ ہیں۔
فلمی دنیا میں اکثر فنکاروں کے فلمیں چھوڑنے یا پراجیکٹ بدلنے کی خبریں سامنے آتی رہتی ہیں، مگر اس بار معاملہ اس وقت سنگین رُخ اختیار کر گیا جب فلمی ملازمین کی تنظیم ایف ڈبلیو آئی سی ای نے رنویر سنگھ کے خلاف ’نان کوآپریشن ڈائریکٹو‘ جاری کر دیا، جسے عام زبان میں بائیکاٹ یا پابندی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب یہ خبریں سامنے آئیں کہ رنویر سنگھ نے ’ڈان 3‘ سے اچانک کنارہ کشی اختیار کر لی ہے۔ یہ فلم معروف اداکار اور فلم ساز فرحان اختر (ابن جاوید اختر) کی ہدایت میں بن رہی تھی اور اطلاعات کے مطابق اس کی تیاری پر کافی سرمایہ خرچ ہو چکا تھا۔
اخبار دی اکنامک ٹائمز کے مطابق پروڈیوسرز کا دعویٰ ہے کہ فلم کی پری پروڈکشن، لوکیشن ریکی اور دیگر انتظامات پر تقریباً 45 کروڑ روپے خرچ ہو چکے تھے، جس کے بعد رنویر کے الگ ہونے سے پورا منصوبہ متاثر ہوا۔
ایف ڈبلیو آئی سی ای نے اس معاملے پر دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے اعلان کیا کہ ان کی تنظیم سے وابستہ لوگ اور تکنیکی ماہرین رنویر سنگھ کے ساتھ اس وقت تک کام نہیں کریں گے جب تک یہ تنازع حل نہیں ہو جاتا۔
تاہم اخبار دی انڈین ایکسپریس کے مطابق بعد میں تنظیم کے مشیر اشوک پنڈت نے وضاحت کی کہ یہ قانونی پابندی نہیں بلکہ ایک عارضی ’نان کوآپریشن ڈائریکٹو‘ ہے، کیونکہ کسی فنکار پر مکمل پابندی لگانے کا اختیار صرف حکومت یا عدالت کے پاس ہوتا ہے، کسی یونین کے پاس نہیں۔

بعض مداحوں کا خیال ہے کہ رنویر سنگھ کو ان کی حالیہ کامیابیوں کے بعد نشانہ بنایا جا رہا ہے  (فوٹو: اے ایف پی)

اس تنازعے کے بعد سوشل میڈیا پر شدید بحث چھڑ گئی۔ کچھ لوگوں نے رنویر سنگھ کو نان پروفیشنل قرار دیا تو کئی مداحوں اور فلمی شخصیات نے ان کا دفاع بھی کیا۔
معروف مصنفہ اور سماجی مبصر شوبھا ڈے نے اس معاملے پر طنزیہ تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’رنویر سنگھ بالی وڈ کے لیے دہلی جم خانہ بن گئے ہیں‘، یعنی ہر طرف طاقت اور رسوخ کی سیاست چل رہی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا فلمی تنظیموں کو اس حد تک مداخلت کرنی چاہیے۔
دوسری جانب اداکارہ راکھی ساونت نے بھی کھل کر رنویر سنگھ کا دفاع کیا۔ انہوں نے ایف ڈبلیو آئی سی ای اور فرحان اختر دونوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’کئی لوگ رنویرسنگھ کی کامیابی سے حسد کرتے ہیں۔‘
ان کا بیان سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہوا اور حسبِ معمول انہوں نے اپنے مخصوص انداز میں تنازعے کو مزید گرما دیا ہے۔
ایک تقریب میں جب ان سے اس بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ ’کسی میں طاقت ہے تو ہمارے بھائی سلمان خان پر پابندی لگا کر دکھائے۔ سلمان خان ایک ایک کی بینڈ بجا دے گا۔ رنویر اپنی محنت سے آیا ہے، دیپکا اور رنویر دونوں اپنی محنت سے آئے ہیں۔‘
دی ٹائمز آف انڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق گلوکار میکا سنگھ نے بھی رنویر سنگھ کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ وہ ذاتی طور پر ایف ڈبلیو آئی سی ای سے بات کریں گے تاکہ معاملہ سلجھ سکے۔ میکا سنگھ نے کہا کہ فلمی صنعت کو اختلافات کے باوجود متحد رہنا چاہیے۔
دوسری جانب رنویر سنگھ کی ٹیم نے ایک محتاط بیان جاری کیا۔ بالی وڈ ہنگامہ کے مطابق ان کے ترجمان نے کہا کہ اداکار نے خاموشی اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ وہ اس تنازعے کو باوقار انداز میں حل کرنا چاہتے ہیں۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ وقت کے ساتھ مختلف ’بیانیے‘سامنے آئے ہیں مگر رنویر اس مسئلے کو عوامی تماشا بنانے کی بجائے قانونی اور پیشہ ورانہ طریقے سے نمٹانا چاہتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر اس تنازعے کو صرف ایک فلمی اختلاف کے طور پر نہیں دیکھا جا رہا بلکہ بالی وڈ کی اندرونی سیاست، سٹار ڈم اور پروڈیوسرز کے اثر و رسوخ سے بھی جوڑا جا رہا ہے۔

 فلم کے ہدایت کار معروف اداکار اور فلم ساز فرحان اختر ہیں (فوٹو: بالی وڈ ہنگامہ)

بعض مداحوں کا خیال ہے کہ رنویر سنگھ کو ان کی حالیہ کامیابیوں کے بعد نشانہ بنایا جا رہا ہے، جبکہ دوسرے حلقے یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر کسی فلم پر کروڑوں روپے خرچ ہو جائیں تو کیا اداکار کو اچانک الگ ہونے کا حق ہونا چاہیے؟
خیال  رہے کہ فلم ’ڈان‘ سیریز میں اس سے قبل اپنے زمانے کے سپر سٹار امیتابھ بچن اور بعد میں شاہ رخ خان نظر آئے اور ان دونوں کی وجہ سے یہ فلم غیر معمولی مقبولیت سے ہمکنار ہوئی۔رنویر سنگھ کو جب ’ڈان 3‘ کے لیے منتخب کیا گیا تھا تو اس وقت بھی مداحوں نے ملا جلا ردِعمل ظاہر کیا تھا۔ ایسے میں موجودہ تنازعے نے اس فلم کے مستقبل کو مزید غیر یقینی بنا دیا ہے۔
فی الحال بالی وڈ کی نظریں اس بات پر جمی ہوئی ہیں کہ آیا رنویر سنگھ اور فرحان اختر کے درمیان یہ تنازعہ بات چیت سے حل ہو پاتا ہے یا نہیں۔ مگر ایک بات طے ہے کہ ’ڈان 3‘ اب صرف ایک فلم نہیں رہی بلکہ یہ بالی وڈ کے طاقتور نظام، فنکاروں کی آزادی اور فلمی صنعت کے بدلتے ہوئے مزاج کی علامت بھی بن چکی ہے۔

شیئر: