Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے‘، فساد کے شکار نرم لہجے کے شاعر بشیر بدر نہیں رہے

بشیر بدر 15 فروری 1935 کو اتر پردیش کے شہر ایودھیا میں پیدا ہوئے (فوٹو: نیشنل ہیرلڈ)
آپ نے غالباً اردو  زبان کا یہ مشہور شعر تو ضرور سنا ہوگا،
اُجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دو
نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے
یہ شعر اُردو زبان کے معروف شاعر بشیر بدر کا ہے جنہوں نے زندگی کی 90 بہاریں دیکھیں اور گذشتہ روز ان کی زندگی کی شام آ گئی اور وہ اپنے دامن میں نہ جانے کتنے اُجالے سمیٹ کر رخصت ہو گئے۔
آج جب بشیر بدر کی موت کی خبر انٹرنیٹ اور فیس بک کے ذریعے مجھ تک پہنچی تو مجھے وہ دن یاد آ گئے جب ہمارے چچا اور ہمارے دادا جان ان شاعروں کا ذکر کیا کرتے تھے جنہیں اُنہوں نے دیکھا اور سنا تھا۔
دادا نے اگر کانپور میں اپنے طالب علمی کے زمانے میں جگر مرادآبادی، مجاز لکھنوی، فراق گورکھپوری، حسرت موہانی وغیرہ کی محفلوں میں شرکت کی تھی تو چچا اور میرے والد نے اپنے طالب علمی کے زمانے میں دہلی میں دنیا بھر سے آنے والے شاعروں کو دیکھا اور سنا تھا۔
ان میں جہاں کیفی اعظمی، علی سردار جعفری جیسے بڑے شاعر شامل تھے وہیں احمد فراز، راحت اندوری، ندا فاضلی اور بشیر بدر جیسے شعرا شامل تھے جو مشاعروں کی شان سمجھے جاتے تھے۔
انٹرنیٹ کی آمد سے قبل اگر کسی دیسی شاعر کو انڈیا میں سب سے زیادہ مقبولیت حاصل ہوئی تو وہ بلاشبہ بشیر بدر تھے اور ان کی مقبولیت کی وجہ ان کے اشعار کی سادگی اور دلنشینی تھی۔
ان کی موت سے ایک ایسے نرم لہجے کا چراغ گل ہو گیا جس کی روشنی دور تک پہنچ رہی تھی۔
ان کی وفات کے ساتھ ہی اردو شاعری کا ایک ایسا عہد اختتام کو پہنچا جس نے محبت، تنہائی، ہجرت، شکستہ دلی اور انسانی رشتوں کے لطیف احساسات کو نئی زبان عطا کی۔ وہ صرف ایک شاعر نہیں تھے بلکہ ایک تہذیبی روایت، ایک شائستہ آواز اور اردو غزل کی جدید حسیت کے نمائندہ تھے۔

ان کا اصل نام سید محمد بشیر تھا، لیکن ادبی دنیا میں وہ بشیر بدر کے نام سے مشہور ہوئے (فوٹو: نیوزگرام)

ڈاکٹر بشیر بدر 15 فروری 1935 کو اتر پردیش کے شہر ایودھیا میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام سید محمد بشیر تھا، لیکن ادبی دنیا میں وہ بشیر بدر کے نام سے مشہور ہوئے۔ ابتدائی تعلیم کے بعد انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے اُردو ادب میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور بعد میں تدریس کے شعبے سے وابستہ رہے۔ ان کی زندگی کا ایک بڑا حصہ بھوپال میں گزرا، جہاں انہوں نے ادب، تحقیق اور شاعری کے میدان میں اپنی شناخت قائم کی۔
بشیر بدر نے اُردو غزل کو ایک نئی تازگی عطا کی۔ ان کے یہاں کلاسیکی غزل کی لطافت بھی تھی اور جدید زندگی کے مسائل کا شعور بھی۔ وہ مشکل الفاظ اور پیچیدہ استعارات کی بجائے سادہ مگر گہرے لہجے کے شعر کہتے تھے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ان کے اشعار خواص کے ساتھ عوام میں بھی بے حد مقبول ہوئے۔ ان کے کئی اشعار زبان زدِ عام ہوئے۔
مثال کے طور پر ان کے یہ اشعار بہت مشہور ہوئے،
کوئی ہاتھ بھی نہ ملائے گا، جو گلے ملو گے تپاک سے
یہ نئے مزاج کا شہر ہے ذرا فاصلے سے ملا کرو
ــــــــــــــــــــ
لوگ ٹوٹ جاتے ہیں ایک گھر بنانے میں
تم ترس نہیں کھاتے بستیاں جلانے میں
ــــــــــــــــــــ
اُجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دو
نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے
ــــــــــــــــــــ
تم محبت  کو کھیل  کہتے  ہو
ہم نے برباد زندگی  کر لی
ــــــــــــــــــــ
کچھ تو مجبوریاں رہی ہوں گی
یوں کوئی بے  وفا نہیں ہوتا
ــــــــــــــــــــ
مسافر ہیں ہم بھی مسافر ہو تم بھی
کسی موڑ پر پھر ملاقات ہوگی
ــــــــــــــــــــ
زندگی تو نے مجھے قبر سے کم دی ہے زمیں
پاؤں پھیلاؤں تو دیوار میں سر لگتا ہے
یہ اشعار محض شعری مصرعے نہیں بلکہ ہمارے سماج، سیاست اور انسانی رویوں کی آئینہ داری کرتے ہیں۔
سن 1984 کے بھوپال فسادات نے ان کی زندگی پر گہرا اثر ڈالا۔ ان کا گھر جلا دیا گیا، ان کا نادر کتب خانہ خاکستر ہوگیا اور برسوں کی علمی و ادبی محنت راکھ میں بدل گئی۔ اس سانحے نے ان کے باطن کو شدید طور پر زخمی کیا۔

انٹرنیٹ کی آمد سے قبل اگر کسی دیسی شاعر کو غیرمعمولی مقبولیت حاصل ہوئی تو وہ بلاشبہ بشیر بدر تھے (فوٹو: انڈین ٹیلی ویژن)

بعد کی شاعری میں جو کرب، ہجرت کا احساس اور انسانی بے رحمی کی تصویر دکھائی دیتی ہے، اس کے پیچھے یہی ذاتی تجربات کارفرما تھے۔ مگر اس کے باوجود انہوں نے نفرت کے جواب میں محبت، تلخی کے مقابلے میں شائستگی اور مایوسی کے بدلے امید کا راستہ اختیار کیا۔
دشمنی جم کر کرو لیکن یہ گنجائش رہے
جب کبھی ہم دوست ہو جائیں تو شرمندہ نہ ہوں
یا
 گھروں پہ نام تھے، ناموں کے ساتھ عہدے تھے
بہت تلاش کیا کوئی آدمی نہ ملا
میرے چچا بتاتے ہیں کہ ایک بار وہ معروف مزاحیہ شاعر ساغر خیامی کے گھر آئے تھے جہاں ان سے ان کی ملاقات ہوئی تھی اور ان سے ان کا کلام سماعت کیا تھا۔
جسے لے گئی ہے ابھی ہوا وہ ورق تھا دل کی کتاب کا
کہیں آنسوؤں سے مٹا ہوا کہیں آنسوؤں سے لکھا ہوا
ان کی یہ غزل بھی بہت مشہور ہوئی جو انہوں نے اس رات سنائی تھی،
اگر تلاش کروں کوئی مل ہی جائے گا
مگر تمہاری طرح کون مجھ کو چاہے گا
تمہیں ضرور کوئی چاہتوں سے دیکھے گا
مگر وہ آنکھیں ہماری کہاں سے لائے گا
تمہارے ساتھ یہ موسم فرشتوں جیسا ہے
تمہارے بعد یہ موسم بہت ستائے گا
بشیر بدر کی شاعری میں محبت محض رومانوی جذبہ نہیں بلکہ انسانی رشتوں کی ایک تہذیبی صورت ہے۔ ان کے اشعار میں گفتگو کا سلیقہ، خاموشی کی معنویت اور تعلقات کی نزاکت نمایاں نظر آتی ہے۔ انہوں نے غزل کو محفلوں سے نکال کر روزمرہ زندگی کے قریب کردیا۔ یہی سبب ہے کہ نئی نسل بھی ان کی شاعری سے بے حد متاثر رہی۔

بشیر بدر کی موت سے ایک ایسے نرم لہجے کا چراغ گل ہو گیا جس کی روشنی دور تک پہنچ رہی تھی (فوٹو: دی پرنٹ)

ان کے متعدد شعری مجموعے شائع ہوئے جن میں ’آمد‘، ’آس‘، ’آہٹ‘ اور ’اجنبی پیڑوں کے سائے‘ وغیرہ شامل ہیں۔ انہیں اردو ادب میں نمایاں خدمات کے اعتراف میں کئی اعزازات سے نوازا گیا، جن میں حکومتِ ہند کا ’پدم شری‘ بھی شامل ہے۔
نئی نسل کے لیے ان کا یہ شعر بہت معنویت رکھتا ہے اور شاید یہ ان کی اپنی یاد کا بھی حصہ ہو۔
اُڑنے دو پرندوں کو ابھی شوخ ہوا میں
پھر لوٹ کے بچپن کے زمانے نہیں آتے
اُن کی وفات پر آج ان کا یہ شعر یاد آ رہا ہے،
عجب چراغ  ہوں، دن  رات جلتا  رہتا  ہوں
میں تھک گیا ہوں ہوا سے کہو بجھائے مجھے

شیئر: