Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’آپریشن سندور 2.0‘ کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں: انڈین آرمی چیف

جنرل اوپیندر دویدی نے کہا کہ’آپریشن سندور‘ ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوا (فائل فوٹو: پی ٹی آئی)
انڈیا کے چیف آف آرمی سٹاف جنرل اوپیندر دویدی نے ہفتے کو کہا ہے کہ اگر ضرورت پیش آئی تو مسلح افواج ’آپریشن سندور 2.0‘ کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔
انڈین اخبار دی ہندو کی ایک رپورٹ کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ جدید دور کی ملٹی ڈومین جنگوں کے لیے تینوں مسلح افواج کے درمیان ہم آہنگی کو مزید مضبوط کیا جا رہا ہے، جو صرف بری، فضائی اور بحری محاذوں تک محدود نہیں رہیں بلکہ اس سے آگے جا چکی ہیں۔
جنرل اوپیندر دویدی نے پونے میں نیشنل ڈیفنس اکیڈمی کے 150 ویں کورس کی پاسنگ آؤٹ پریڈ کے موقع پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’اس وقت اگرچہ وقتی طور پر جنگ بند ہے، لیکن تینوں افواج جنگ کے اگلے مرحلے کے لیے بھرپور تیاری کر رہی ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’قومی سلامتی کا اقتصادی ترقی سے گہرا تعلق ہے اور اس کے لیے سٹریٹجک خود انحصاری ناگزیر ہے۔‘
انڈیا نے مئی 2025 میں ’آپریشن سندور‘ کے نام سے فوجی کارروائی کی تھی، جس کا مقصد پاکستان میں دہشت گردوں کے مبینہ ٹھکانوں کو نشانہ بنانا تھا۔ یہ کارروائی اپریل میں پہلگام حملے کے بعد کی گئی تھی، جس میں 26 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
جنرل اوپیندر دویدی نے کہا کہ جہاں تک ’آپریشن سندور‘ کا تعلق ہے، یہ ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوا بلکہ یہ عارضی وقفہ ہے۔ ان کے مطابق اگر ضرورت پیش آئی تو انڈین آرمی اور تینوں افواج ’آپریشن سندور 2.0‘ کے لیے تیار ہو رہی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’مستقبل کی جنگیں خلا، سائبر اور ذہنی اثرات جیسے نئے شعبوں سے متاثر ہوں گی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’آج کا میدانِ جنگ ٹرانسپیرنٹ ہو چکا ہے اور ہر نقل و حرکت دوسرے فریق کے علم میں آ جاتی ہے، چنانچہ فوجی منصوبہ سازوں کو فوج کی تعیناتی اور تحفظ کے تناظر میں انتہائی احتیاط برتنی چاہیے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’ہم نے وقت کے ساتھ یہ دیکھا ہے کہ اب ہمہ وقت تیار رہنا ہوتا ہے۔ میدانِ جنگ اس قدر ٹرانسپیرنٹ ہو چکا ہے کہ دوسرے فریق کو ہر حرکت کے بارے میں معلوم ہو جاتا ہے۔ اس لیے ہمیں فوج کی تعیناتی، بھرتی اور اپنے اہلکاروں اور سرحدی علاقوں میں رہنے والے شہریوں کے تحفظ کے لیے انتہائی محتاط رہنا ہوگا۔‘

شیئر: