ایران کی جانب سے امریکہ پر پیشگی حملے کی اطلاع نہیں تھی: امریکی انٹیلیجنس
امریکہ و اسرائیل کے مشترکہ حملے میں سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای سمیت متعدد اہم عہدیدار ہلاک ہوئے تھے (فوٹو: ایرانی میڈیا)
صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کے عہدیداروں نے کانگریس کے سٹاف کو دی جانے والی ایک نجی بریفنگ میں بتایا کہ انٹیلی جنس اداروں کی جانب سے ایسی کوئی اطلاع نہیں دی گئی تھی کہ ایران امریکہ کے خلاف پیشگی حملے کی تیاری کر رہا ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے اس بریفنک کے حوالے سے واقفیت رکھنے والے تین افراد کا حوالہ دیا ہے، جنہوں نے شناخت ظاہر نہ کرتے ہوئے بات کی۔
ان میں سے دو کہنا تھا کہ انتظامی عہدیداروں نے تسلیم کیا کہ ایران کے میزائلوں اور پراکسیز سے پہلے کی نسبت زیادہ خطرہ موجود ہے تاہم تیسرے سورس کا کہنا ہے کہ انتظامی حکام نے اس امر پر زور دیا کہ ایران کے میزائل اور پراکسیز خطے میں امریکی اہلکاروں اور اس کے اتحادیوں کے لیے فوری خطرہ ہیں۔
دو ذرائع کی جانب سے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ حکام کی جانب سے ایسی کوئی تفصیل نہیں فراہم کی گئی کہ امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملے کے بعد ایران میں مزید کیا کچھ ہو گا۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کانگریس کے سٹاف کو جو معلومات دی گئیں وہ صدر ٹرمپ کے پیغام کے برعکس ہیں۔
امریکی صدر نے حملے شروع ہونے کے بعد ایک ویڈیو پیغام میں کہا تھا کہ ’ہمارا مقصد ایرانی حکومت کی طرف سے آنے والے خطرات کو ختم کرنا اور امریکی عوام کا دفاع ہے۔‘
انہوں نے ایرانی قیادت ’بہت سخت اور خوفناک لوگوں کا شیطانی گروہ‘ بھی قرار دیا تھا۔
اسی طرح ٹرمپ انتظامیہ کے ایک سینیئر اہلکار نے سنیچر کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر صحافیوں کو بتایا تھا کہ ایسے اشارے موجود تھے کہ ایرانی حملہ کر سکتے ہیں۔‘
وائٹ ہاؤس اور پنٹاگان نے حملے کے حوالے سے تبصرے کے لیے کی گئی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔
مذکورہ بریفنگ کے حوالے سے تفصیلات سب سے پہلے پولیٹیکو نے رپورٹ کیں۔
منگل کو وزیر خارجہ مارک روبیو، وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ، سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف اور جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین ایران کے خلاف امریکی فوجی آپریشن کے حوالے سے کانگریس ارکان کو بریفنگ دیں گے۔
وائٹ ہاؤس کی جانب سے اتوار کو کہا گیا تھا کہ کہ پیر کو مارک روبیو کانگریس کی قیادت کو بریف کریں گے اور پیٹ ہیگستھ اور ڈین کین آپریشن کے حوالے ایک پریس کانفرنس کی تیاری بھی کر رہے ہیں۔
آپریشن سے واقفیت رکھنے والے ایک اسرائیلی اہلکار اور ایک اور سورس کا کہنا ہے کہ آپریشن سے قبل کئی ہفتے تک اسرائیل اور امریکہ کے حکام سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سمیت سینیئر ایرانی رہنماؤں کی نقل و حرکت پر نظر رکھے رہے اور پھر ایسی معلومات شیئر کیں جن کی وجہ سے دن کی روشنی میں حملے ممکن ہوئے۔
اسرائیلی اہلکار کا کہنا ہے کہ تین مقامات پر ایک منٹ میں تین حملے ہوئے جن میں خامنہ ایک اور پاسداران انقلاب کے سربراہ اور وزیر دفاع سمیت تقریباً 40 اعلیٰ شخصیات ہلاک ہوئیں۔
اہلکار کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’متعدد عوامل نے مل کر ایک ایسا سنہری موقع پیدا کیا جس میں زیادہ سے زیادہ ایرانی لیڈرشپ نشانہ بنی۔‘