لبنان میں اسرائیل کی ’تاریخی‘ دراندازی، ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدہ پیچیدگی کا شکار؟
اسرائیلی افواج نے لبنان سے چوتھائی صدی قبل انخلا کے بعد پہلی بار اتنی بڑی پیش قدمی کی ہے، حالانکہ امریکی ثالثی میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی کا ایک معاہدہ موجود ہے اور دونوں ممالک کئی دہائیوں بعد پہلی مرتبہ براہِ راست مذاکرات بھی کر چکے ہیں۔
امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق اسرائیل کی یہ پیش قدمی ایران اور امریکہ کے جنگ بندی معاہدے میں بھی ایک نئی پیچیدگی پیدا کر رہی ہے، کیونکہ ایران، لبنان میں جاری لڑائی کا خاتمہ بھی معاہدے کا حصہ بنانا چاہتا ہے۔
اس صورت حال پر عالمی سطح پر زیادہ ردِعمل سامنے نہیں آیا، البتہ قطر نے اسے ’خطرناک کشیدگی‘ قرار دیا ہے، جبکہ امریکہ کی جانب سے کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا۔
اتوار کو اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں ایک اہم علامتی اور تاریخی قلعے پر قبضہ کر لیا، جہاں سے لبنان کے وسیع علاقوں اور شمالی اسرائیل پر نظر رکھی جا سکتی ہے۔
بیوفورٹ قلعہ اسرائیلی سرحد سے قریباً 15 کلومیٹر دُور ہے اور یہاں سے جنوبی لبنان کے وسیع علاقے پر نظر رکھی جا سکتی ہے۔
تزویراتی اہمیت کے حامل اس قلعے پر اسرائیلی فوجیوں نے 18 سال تک قبضہ کیے رکھا، اور بعد ازاں مئی 2000 میں اسرائیلی فوج لبنان سے چلی گئی تھی۔
سرائیلی فوج کئی روز سے بیوفورٹ قلعے کے قریب واقع دیہات، جن میں نبطیہ شہر کے نزدیک یحمر اور زوطر الشرقیہ شامل ہیں، میں پیش قدمی کر رہی ہے۔
اسرائیلی افواج سٹریٹجک دریائے لیطانی کو عبور کر چکی ہیں، جسے اسرائیلی فوج ایک عملی سرحد کے طور پر استعمال کرتی رہی ہے۔
16 اپریل کو امریکہ کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے باوجود جنوبی لبنان کے بڑے علاقے اب بھی اسرائیلی فوج کے کنٹرول میں ہیں۔
رپورٹس کے مطابق اسرائیلی حملے اور زمینی کارروائیاں جنگ بندی کے بعد بھی جاری رہیں، جبکہ حزب اللہ کی جانب سے بھی اسرائیل پر راکٹ حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
