لبنان میں اسرائیل کی ’تاریخی‘ دراندازی، ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدہ پیچیدگی کا شکار؟
لبنان میں اسرائیل کی ’تاریخی‘ دراندازی، ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدہ پیچیدگی کا شکار؟
پیر 1 جون 2026 6:11
ایران، لبنان میں جاری لڑائی کا خاتمہ بھی امریکہ کے ساتھ ممکنہ معاہدے کا حصہ بنانا چاہتا ہے (فوٹو: اے ایف پی)
اسرائیلی افواج نے لبنان سے چوتھائی صدی قبل انخلا کے بعد پہلی بار اتنی بڑی پیش قدمی کی ہے، حالانکہ امریکی ثالثی میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی کا ایک معاہدہ موجود ہے اور دونوں ممالک کئی دہائیوں بعد پہلی مرتبہ براہِ راست مذاکرات بھی کر چکے ہیں۔
امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق اسرائیل کی یہ پیش قدمی ایران اور امریکہ کے جنگ بندی معاہدے میں بھی ایک نئی پیچیدگی پیدا کر رہی ہے، کیونکہ ایران، لبنان میں جاری لڑائی کا خاتمہ بھی معاہدے کا حصہ بنانا چاہتا ہے۔
اس صورت حال پر عالمی سطح پر زیادہ ردِعمل سامنے نہیں آیا، البتہ قطر نے اسے ’خطرناک کشیدگی‘ قرار دیا ہے، جبکہ امریکہ کی جانب سے کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا۔
اتوار کو اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں ایک اہم علامتی اور تاریخی قلعے پر قبضہ کر لیا، جہاں سے لبنان کے وسیع علاقوں اور شمالی اسرائیل پر نظر رکھی جا سکتی ہے۔
بیوفورٹ قلعہ اسرائیلی سرحد سے قریباً 15 کلومیٹر دُور ہے اور یہاں سے جنوبی لبنان کے وسیع علاقے پر نظر رکھی جا سکتی ہے۔
تزویراتی اہمیت کے حامل اس قلعے پر اسرائیلی فوجیوں نے 18 سال تک قبضہ کیے رکھا، اور بعد ازاں مئی 2000 میں اسرائیلی فوج لبنان سے چلی گئی تھی۔
سرائیلی فوج کئی روز سے بیوفورٹ قلعے کے قریب واقع دیہات، جن میں نبطیہ شہر کے نزدیک یحمر اور زوطر الشرقیہ شامل ہیں، میں پیش قدمی کر رہی ہے۔
اسرائیلی افواج سٹریٹجک دریائے لیطانی کو عبور کر چکی ہیں، جسے اسرائیلی فوج ایک عملی سرحد کے طور پر استعمال کرتی رہی ہے۔
16 اپریل کو امریکہ کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے باوجود جنوبی لبنان کے بڑے علاقے اب بھی اسرائیلی فوج کے کنٹرول میں ہیں۔
رپورٹس کے مطابق اسرائیلی حملے اور زمینی کارروائیاں جنگ بندی کے بعد بھی جاری رہیں، جبکہ حزب اللہ کی جانب سے بھی اسرائیل پر راکٹ حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
دوسری جانب اسرائیل نے کہا ہے کہ اس کی کارروائیاں ایران کی حمایت یافتہ تنظیم حزب اللہ کے خلاف ہیں، جو جنوبی لبنان میں مضبوط سیاسی اثر و رسوخ رکھتی ہے۔
لڑائی کے دوران لبنان یا شمالی اسرائیل میں اب تک کم سے کم 25 اسرائیلی فوجی بھی ہلاک ہو چکے ہیں (فوٹو: اے ایف پی)
اسرائیل نے الزام عائد کیا ہے کہ حزب اللہ نے اسرائیلی فوجیوں اور شمالی اسرائیل پر ہزاروں میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں۔
اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ علاقہ خالی کردیں بصورت دیگر وہ حملے کی زَد میں بھی آسکتے ہیں۔
لبنان کے وزیراعظم نواف سلام نے سنیچر کو اسرائیل پر الزام لگایا کہ وہ ’شہروں اور قصبوں کو مکمل تباہ کرنے کی پالیسی‘ پر گامزن ہے۔
ایران جنگ کا آغاز ہونے کے دو روز بعد دو مارچ سے لبنان میں شروع ہونے والی لڑائی میں اب تک درجنوں بچوں سمیت 3 ہزار 300 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، جبکہ قریباً 10 لاکھ افراد بے گھر ہوئے ہیں۔
لبنان یا شمالی اسرائیل میں ایک دفاعی کونٹریکٹر سمیت کم سے کم 25 اسرائیلی فوجی ہلاک ہوئے ہیں، اس کے علاوہ شمالی اسرائیل میں دو شہری بھی مارے گئے۔
یاد رہے کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان رواں برس 16 اپریل کو جنگ بندی کا معاہدہ ہوا تھا جس میں بعد ازاں 15 مئی کو 45 روز کی توسیع کی گئی تھی۔
تاہم امریکی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات اور جنگ بندی کے باوجود اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے، فریقین نے ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے۔