Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

فرینکلی سپیکنگ: ایران کے خلاف ’آپریشن ایپک فیوری‘ کا جائزہ

نومی باریا کوف کا کہنا تھا کہ نیتن یاہو نے صدر ٹرمپ نے ایران پر حملہ کروایا (فوٹو: اے ایف پی)
امریکہ و اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف شروع کیے گئے ’آپریشن ایپک فیوری‘ کے تین ماہ گزرنے کے بعد مشرق وسطیٰ عدم استحکام کا شکار ہے اور کچھ ایسی ہی صورت حال غزہ سے لے کر لبنان، ایران اور آبنائے ہرمز تک بھی پھیلی ہوئی ہے۔
انسانی حقوق کی سینیئر قانون دان نومی باریا کوف کے نزدیک اس مہم کا نتیجہ بالکل واضح ہے۔
انہوں نے عرب نیوز کے کرنٹ افیئرز کے پروگرام ’فرینکلی سپیکنگ‘ میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ’واضح الفاظ میں کہوں تو یہ ایک بہت بڑی ناکامی تھی اور اس کے بارے میں کسی شک کی گنجائش نہیں اور اس آپریشن کے نتیجے میں خطہ پہلے سے زیادہ خطرات میں چلا گیا ہے جبکہ سفارت کاری کے ذریعے معاملے کے حل کی امید بھی کم ہو گئی ہے۔’
ان کے مطابق ’ہم آج اس مقام پر کھڑے ہیں جہاں صورت حال اس آپریشن سے پہلے کے وقت کے مقابلے میں کہیں زیادہ خراب ہے اور 60 روز بعد کا نام تبدیل کر کے ’پراجیکٹ فریڈم‘ کر دیا گیا، مجھے نہیں پتہ ہم کس سمت میں جا رہے ہیں مگر ہم تنازع کے پرامن اور پائیدار حل سے بہت دور چلے گئے ہیں۔‘
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس تنازع نے ایک ممکنہ اہم سفارتی پیش رفت کی راہ روکی جو عمان کی ثالثی میں واشنگٹن اور تہران کے درمیان خاموشی سے آگے بڑھ رہی تھی۔
نومی بار یاکوف کے بقول ’میرا خیال ہے کہ ہم اس برد 26 فروری کو ایک معاہدے کے بالکل قریب پہنچ چکے تھے اور ایسا ایران پر امریکہ و اسرائیل کے حملے شروع ہونے سے فقط دو دن قبل تھا۔‘
انہوں نے کہا کہ اس وقت عمانی ثالثوں نے جوہری پروگرام سے متعلق مذاکرات کے تکنیکی مرحلے کے لیے تاریخ مقرر کر دی تھی جو اس امر کی علامت تھی کہ سنجیدہ پیش رفت ہو رہی ہے کیونکہ جب مذاکرات فریم ورک سے بڑھتے ہوئے تکنیکی تفصیلات میں چلے جائیں تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ فریقین واقعی کسی نتیجے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔‘

نومی باریا کوف کا کہنا تھا کہ امریکی و اسرائیلی کارروائی نے خطے کو مزید خطرات میں دھکیل دیا ہے (فوٹو: عرب نیوز)

ان کے مطابق ’اس جنگ نے تہران حکومت کو تبدیل کرنے اور خطے میں استحکام لانے کے بجائے کچھ خطرناک عناصر کو طاقتور بنا دیا ہے اور ایران کی یہ نام نہاد نئی حکومت جو پچھلی کی ہی ایک شاخ ہے، پرانی حکومت سے کہیں زیادہ خطرناک ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ اس تنازع سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے درمیان کشیدگی کو بھی بے نقاب کیا ہے اور دونوں کے تعلقات تیزی سے خراب ہوئے ہیں۔
’مجھے اپنے ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ٹیلی فون کالز میں نیتن یاہو پر سخت برہمی کا اطہار کرتے رہے ہیں۔‘
نومی باریا کوف کے مطابق ’نیتن یاہو نے کئی برس تک صدر ٹرمپ کو ایران کے خلاف فوجی کارروائی شروع کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی اور اس کے ممکنہ نتائج کو غیرمعمولی حد تک بڑھا چڑھا کر پیش کیا اور انہیں یقین دلایا کہ مہم کامیاب ہو سکتی ہے۔‘
 انہوں نے کہا کہ نیتن یاہو نے دوسرے دور اقتدار کے دوران وائٹ ہاؤس کے سات دورے کیے اور ہر بار وہ امریکی صدر کو ایران پر حملے اور بمباری کے لیے قائل کرنے کی بھرپور کوشش کرتے رہے۔
’نیتن یاہو نے صدر ٹرمپ کو یقین دلایا تھا کہ حکومت کی تبدیلی تو انگلی ہلانے جتنا آسان کام ہو گا۔‘

نومی باریا کوف انسانی حقوق کی وکیل اور امن مذاکرات کی حامی ہیں (فوٹو: عرب نیوز)

نومی باریا کوف کا کہنا تھا کہ اسرائیلی رہنماؤں کا خیال تھا کہ ایران کی اعلیٰ شخصیات جن میں سپریم لیڈر علی خامنہ ای بھی شامل تھے، کو نشانہ بنائے جانے کے بعد عوامی بغاوت شروع ہو جائے گی خصوصاً محرومی کا شکار اقلیتوں سرگرم ہو جائیں گی۔‘
انہوں نے اس خیال کو ’غیرمنطقی اور مضحکہ خیز‘ قرار دیا کہ کُرد حکومت کی تبدیلی کے لیے تحریک چلا سکیں گے۔
نومی باریا کوف نے اسرائیل کی طویل مدتی پالیسی کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔
’اگرچہ اسرائیل کے خفیہ ادارے سٹریٹیجک کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں تاہم ان کے پاس مستقبل کے لیے کوئی واضح اور قابل عمل حکمت عملی موجود نہیں ہے۔‘
ان کے مطابق ’میرا خیا ہے کہ اسرائیلی انٹیلی جنس کی پیش گوئیاں اور اندازے تباہ کن حد تک ناکام رہے ہیں۔ اگرچہ وہ اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں مگر ایران، غزہ اور لبنان کے حوالے سے ایک ہی سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس کی حکمت عملی کیا ہے۔‘
انہوں نے اس دعوے کو بھی مسترد کیا کہ واشگنٹن نے اسرائیل کو جنگ میں دھکیلا۔
’یہ جنگ دراصل بنجمن نیتن یاہو کی کئی دہائیوں پر محیط ایران مخالف مہم کا نتیجہ ہے۔ یہ نیتن یاہو ایک ایسا خواب تھا جس کو وہ عشروں سے حقیقت کا رنگ دینے کی کوشش کر رہے تھے۔‘

28 فروری کو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے ساتھ ہی جنگ شروع ہو گئی تھی (فوٹو: گیٹی امیجز)

ان کے بقول ’نیتن یاہو جئی عشروں تک یہ موقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ ایران نہ صرف اسرائیل بلکہ پوری دنیا کے لیے خطرہ ہے اور وہاں کی حکومت کو تبدیل ہونا چاہیے۔‘
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے اور دوسرے دور اقتدار میں بنیادی فرق مشیروں کا ہے۔
’پہلے دور حکومت میں بھی نیتن یاہو نے انہیں ایران پر حملے کے لیے قال کی کوشش کی تھی لیکن صدر ٹرمپ نے مزاحمت کی کیونکہ اس وقت ایسے مشیر موجود تھے جنہوں نے ان کو ایران پر حملہ نہ کرنے کا مشورہ دیا تھا۔‘
ان کے بقول ’صدر ٹرمپ کے دوسرے دور اقتدار کے دوران ان کی انتظامیہ میں مشرق وسطیٰ کے ماہرین کی کمی ہے۔‘

 

شیئر: