مشرقِ وسطیٰ کی ایئرلائنز کے مسافروں میں 46 فیصد کمی، عالمی فضائی ٹریفک بھی متاثر
مشرقِ وسطیٰ کی ایئرلائنز کے مسافروں میں 46 فیصد کمی، عالمی فضائی ٹریفک بھی متاثر
اتوار 31 مئی 2026 18:57
اپریل میں مشرقِ وسطیٰ کی ایئر لائن کمپنیوں نے مسافروں میں تمام خطوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ کمی ریکارڈ کی (فوٹو: شٹرسٹاک)
مشرقِ وسطیٰ کی ایئر لائن کمپنیوں نے اپریل کے دوران مسافروں کی طلب میں 46.6 فیصد کمی ریکارڈ کی ہے، جس کے باعث عالمی فضائی ٹریفک میں مجموعی طور پر 3.4 فیصد کمی واقع ہوئی ہے، کیونکہ خطے میں جاری تنازعات نے سفری ذرائع کو متاثر کیا ہے۔
عرب نیوز کے مطابق انٹرنیشنل ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کی تازہ ترین مسافر ٹریفک رپورٹ کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں اگر یہ شدید گراوٹ نہ آتی تو عالمی طلب مثبت رہتی۔ اس خطے میں ایئر لائنز کو آپریشنل رکاوٹوں، کمزور سفری طلب اور تنازعی کے باعث بڑھتے ہوئے اخراجات کا سامنا کرنا پڑتا رہا۔
یہ نمایاں کمی اس بات کو اُجاگر کرتی ہے کہ عالمی ہوا بازی میں مشرقِ وسطیٰ کی اہمیت غیرمعمولی طور پر بڑھ چکی ہے، کیونکہ خلیجی ایئر لائن کمپنیاں دنیا کے بڑے ٹرانزٹ نظام کو منتظم کرتی ہیں اور ایشیا، یورپ، افریقہ اور امریکہ کے درمیان طویل فاصلے کے اہم فضائی راستوں کو جوڑتی ہیں۔
آئی اے ٹی اے کے ڈائریکٹر جنرل ولی والش نے کہا کہ ’خطے میں جنگ کے باعث مشرقِ وسطیٰ کی ایئر لائن کمپنیوں کی طلب میں 46.6 فیصد کمی اس قدر شدید تھی کہ اس نے عالمی طلب کو مجموعی طور پر منفی 3.4 فیصد تک کم کیا۔‘
ولی والش نے خبردار کیا کہ حالات اب بھی غیر یقینی ہیں، کیونکہ ایئر لائن کمپنیوں کو ایندھن کی بڑھتی قیمتوں اور کمزور طلب کا سامنا ہے۔ پیشگی بکنگ کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ کمپنیاں آنے والے مہینوں میں اپنے شیڈول کم کر رہی ہیں تاکہ اخراجات اور مارکیٹ کے حالات میں توازن قائم رکھا جا سکے۔
اپریل میں مشرقِ وسطیٰ کی ایئر لائن کمپنیوں نے تمام خطوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ کمی ریکارڈ کی۔ مسافروں کی مجموعی طلب میں سال بہ سال 46.6 فیصد جبکہ بین الاقوامی ٹریفک میں 48.1 فیصد کمی آئی، جبکہ استعداد بھی نمایاں طور پر گھٹ گئی۔
یہ کمی اگرچہ مارچ کے مقابلے میں کچھ کم تھی، لیکن علاقائی فضائی نیٹ ورکس میں خلل کے باعث فضائی ٹریفک شدید متاثر رہی۔
ریور پرائم کے ریسرچ اینڈ اینالیسز ڈیپارٹمنٹ کی منیجر عسیل الارَنکی نے عرب نیوز کو بتایا کہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ اب صرف مقامی ایئر لائن کمپنیوں تک محدود بحران نہیں رہا بلکہ یہ عالمی ہوا بازی کی کارکردگی کو بھی متاثر کر رہا ہے۔
ان کے مطابق اس کے اثرات صرف ایئر لائن کمپنیوں تک محدود نہیں بلکہ سیاحت، تجارت، سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں تک پھیل چکے ہیں، جو سب مشرقِ وسطیٰ کی بڑے پیمانے پر فضائی رابطہ کاری پر انحصار کرتے ہیں۔
جیٹ ایندھن کی بڑھتی قیمتوں نے پہلے ہی کمزور طلب سے نبرد آزما ایئر لائن کمپنیوں پر دبائو بڑھا دیا ہے (فوٹو: روئٹرز)
انہوں نے خبردار کیا کہ عدم استحکام اگر طویل ہوا تو مسافروں اور کارگو ٹریفک کا رُخ خطے سے باہر متبادل مراکز کی جانب مڑ سکتا ہے، جس سے عالمی ہوا بازی میں مشرقِ وسطیٰ کی سٹریٹجک حیثیت متاثر ہو سکتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جیٹ ایندھن کی بڑھتی قیمتوں نے پہلے ہی کمزور طلب سے نبرد آزما ایئر لائن کمپنیوں پر دبائو بڑھا دیا ہے، جبکہ پروازوں کے راستے تبدیل ہونے اور بڑے علاقائی مراکز سے ٹرانزٹ مسافروں کی تعداد کم ہونے سے آپریشنل چیلنجز بھی بڑھ گئے ہیں۔
دوسری جانب ایشیا پیسیفک کی ایئر لائن کمپنیوں نے بڑی بین الاقوامی منڈیوں میں سب سے مضبوط کارکردگی دکھائی اور اپریل میں ریکارڈ لوڈ فیکٹر حاصل کیا۔ یورپی ایئر لائنز نے بھی معتدل ترقی رپورٹ کی، جس کی ایک وجہ یورپ اور ایشیا کے درمیان براہ راست سفر میں اضافہ تھا کیونکہ کچھ مسافروں نے مشرقِ وسطیٰ کے راستوں کو نظرانداز کیا۔
لاطینی امریکہ اور افریقہ کی ایئر لائنز میں توسیع کا رجحان برقرار رہا، جبکہ شمالی امریکہ میں ٹریفک مجموعی طور پر مستحکم رہی۔
عالمی منڈیوں میں کچھ بہتری کے باوجود اپریل کے اعداد و شمار نے واضح کیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں ہونے والی پیش رفت کس تیزی سے دنیا بھر میں ہوا بازی کے رجحانات کو بدل سکتی ہے۔