جنوبی لبنان میں کشیدگی بڑھانے کا کوئی جواز نہیں: فرانسیسی صدر
فرانسیسی صدر نے کہا کہ امریکہ اور ایران کا جلد از جلد کسی معاہدے تک پہنچنا ’انتہائی ضروری‘ ہے (فوٹو: روئٹرز)
فرانسیسی صدر ایمانویل میکخواں نے اتوار کے روز کہا ہے کہ ’جنوبی لبنان میں جاری بڑے پیمانے کی کشیدگی کا کوئی جواز نہیں۔‘ جنوبی لبنان میں اسرائیلی افواج نے حزب اللہ کے خلاف ایک نئی کارروائی شروع کی ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق انہوں نے علاقائی رہنماؤں سے گفتگو کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ایک پیغام میں کہا کہ امریکہ اور ایران کا جلد از جلد کسی معاہدے تک پہنچنا ’انتہائی ضروری‘ ہے۔
فرانسیسی صدر ایمانویل میکخواں نے سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، عمان کے سلطان ہيثم بن طارق، متحدہ عرب امارات کے صدر محمد بن زاید، اور اپنے مصری ہم منصب عبدالفتاح السیسی سے بھی بات چیت کی۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل فرانس کی درخواست پر پیر کے روز ہنگامی اجلاس منعقد کرے گی، یہ اجلاس ایک ایسے وقت پر ہو رہا ہے جب اسرائیلی فوج نے ملک کے جنوب میں واقع قرونِ وسطیٰ کے قلعہ بوفور پر قبضہ کر لیا ہے اور لبنان میں اپنی کارروائیوں کا دائرہ کار بڑھا رہی ہے۔
میکخواں نے لکھا کہ ’فرانس لبنانی حکام کی ریاست کی خودمختاری اور ملک کی علاقائی سالمیت کی بحالی کی مسلسل حمایت کرتا رہے گا۔‘
انہوں نے کہا کہ علاقائی استحکام ’لبنان سے شروع ہونا چاہیے، اور ضروری ہے کہ تمام ہتھیار فوری طور پر ہمیشہ کے لیے خاموش ہو جائیں۔‘
انہوں نے وسیع تر تناظر میں کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کو ’اولین ترجیح‘ دی جانی چاہیے، اور آبنائے ہرمز کو ’کسی قسم کی شرط کے بغیر اور بین الاقوامی قانون کے تحت‘ فوری طور پر دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’اس کے بعد دیگر امور، خاص طور پر جوہری اور بیلسٹک پروگراموں اور علاقائی استحکام سے متعلق ایک جامع اور مضبوط معاہدے تک پہنچنے کے لیے مذاکرات جاری رہنے چاہییں۔‘
فرانسیسی صدر میکخواں نے کہا کہ ’فرانس اس بات کے لیے تیار ہے کہ برطانیہ کے ساتھ قائم کیے گئے آزاد کثیرالقومی مشن کے ذریعے بحری آمد و رفت کی بحالی میں اپنا مکمل کردار ادا کرے۔‘
