Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

بیوفورٹ قلعے پر قبضہ لبنان میں فوجی کارروائی میں ڈرامائی تبدیلی ہے: نیتن یاہو

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے اتوار کو کہا کہ اسرائیلی فوج لبنان کے اندر مزید پیش قدمی کرے گی، جب کہ اسرائیلی فوج نے تاریخی بیوفورٹ قلعے (قلعۃ الشقیف) پر قبضہ کر لیا ہے۔ نیتن یاہو نے اسے حزب اللہ کے خلاف جاری مہم میں ’ایک ڈرامائی تبدیلی‘ قرار دیا۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایران کی حمایت یافتہ تنظیم حزب اللہ نے اتوار کو دعویٰ کیا کہ اس نے شمالی اسرائیل کے شہروں شلومی اور نہاریا میں اسرائیلی فوجی تنصیبات اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا، جبکہ عکا کے علاقے میں فضائی حملوں کے سائرن بھی بجتے رہے۔
لبنان 2 مارچ کو مشرق وسطیٰ کی جنگ میں اس وقت شامل ہوا جب حزب اللہ نے ایران کے سپریم لیڈر کے امریکی، اسرائیلی حملے میں قتل کے ردعمل میں اسرائیل پر راکٹ داغے۔
اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان لڑائی روکنے کے لیے 17 اپریل کو جنگ بندی نافذ ہوئی تھی، تاہم اس پر کبھی مکمل عمل درآمد نہیں ہو سکا۔ دونوں فریق روزانہ ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام لگاتے ہیں۔

فرانس کا ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ

لبنان میں بڑھتی ہوئی لڑائی کے پیش نظر فرانس نے اتوار کو اعلان کیا کہ اس نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کرنے کی درخواست کی ہے۔ فرانس نے اسرائیل کی ’لبنانی علاقوں میں بڑھتی ہوئی قبضہ گیری‘ پر تشویش کا اظہار کیا۔
اسرائیلی افواج نے جنوبی لبنان پر اپنی سابقہ دو دہائیوں پر محیط قبضے کے دوران، جو 2000 میں ختم ہوا تھا، بیوفورٹ قلعے کو فوجی اڈے کے طور پر استعمال کیا تھا۔
قلعے پر قبضے کے چند گھنٹوں بعد جاری ایک ویڈیو بیان میں نیتن یاہو نے کہا کہ ’ہم متحد، پُرعزم اور پہلے سے زیادہ طاقتور ہو کر واپس آئے ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’میری ہدایت ہے کہ ان علاقوں میں اپنی موجودگی مزید گہری اور وسیع کی جائے جو حزب اللہ کے کنٹرول میں تھے۔ بیوفورٹ پر قبضہ ایک اہم مرحلہ اور ہماری پالیسی میں بڑی تبدیلی ہے۔‘
اے ایف پی کے مطابق قلعے کے اطراف گولہ باری کی آوازیں سنائی دیتی رہیں اور دھوئیں کے بادل اٹھتے دکھائی دیے، جبکہ قلعے پر اسرائیلی پرچم بھی لہرایا جا رہا تھا۔
اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا کہ فوج نے اس تاریخی قلعے پر قبضہ کر لیا ہے، جو جنوبی لبنان کے وسیع علاقے پر نظر رکھنے کی سٹریٹجک حیثیت رکھتا ہے۔
انہوں نے سوشل میڈیا پر لکھاکہ ’بیوفورٹ کی تاریخی جنگ کے 44 سال بعد اور پہلی لبنان جنگ (1982) میں مارے جانے والے فوجیوں کی یاد کے دن، ہمارے فوجی دوبارہ بیوفورٹ کی چوٹی پر پہنچے ہیں اور وہاں اسرائیلی پرچم لہرا دیا ہے۔‘

بے گھر لبنانیوں میں خوف

جنوبی لبنان کے سب سے بڑے شہر صیدا میں قائم ایک پناہ گاہ میں موجود زینب فقیہ نے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’یقیناً ہم خوفزدہ ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’ہمارے لیے اپنے گھر واپس جانا ناممکن ہے کیونکہ شہر بری طرح تباہ ہو چکا ہے۔‘
انہوں نے بیوفورٹ قلعے تک اسرائیلی فوج کی پیش قدمی کو ’المیہ‘ قرار دیا۔
نبطیہ سے بے گھر ہونے والے ایک اور شہری عیسیٰ طفیلی نے کہا کہ ’ہم واپس آئیں گے، اگر آج نہیں تو کل، جب تک مزاحمت موجود ہے۔‘

شیئر: