Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

تہران پر ’بڑے پیمانے‘ پر مزید حملوں کا سلسلہ شروع کر دیا: اسرائیل

اسرائیل کی جانب سے نئے حملوں کا سلسلہ یروشلم پر ایرانی میزائل حملے کے بعد شروع کیا گیا ہے (فوٹو: اے ایف پی)
اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ تہران پر پیر کے روز ’بڑے پیمانے پر‘ نئے حملوں کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اسرائیلی فوج کا یہ اقدام ان حملوں کے دو روز بعد سامنے آیا ہے جو اس نے امریکہ کے ساتھ مل کر  کیے تھے۔
پیر کو جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کی فضائی افواج نے ایران کی ’دہشت گرد حکومت‘ کے خلاف تہران کے اندر حملوں کا ایک نیا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔
اسرائیلی حملے اتوار کو رات گئے ایران کی جانب سے یروشلم پر ہونے والے اس حملے کے بعد شروع کیے گئے ہیں، جس میں  تین افراد زخمی ہوئے تھے۔
یروشلم کی پولیس کا کہنا ہے کہ شہر کی ایک بڑی شاہراہ گولہ باری سے متاثر ہوئی جبکہ ایسی فوٹیج بھی جاری کی گئی ہے جس میں افسران کو سڑک کے ایسے حصے پر دیکھا جا سکتا ہے جو ملبے میں تبدیل ہو چکی ہے۔
اسرائیل کی ایمرجنسی سروس میگن ڈیوڈ ایڈوم کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ حملے میں تین افراد زخمی ہوئے جن میں ایک 46 سالہ شخص بھی شامل ہے، اس سے قبل سروس کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ واقعے میں کئی افراد زخمی ہوئے ہیں اور ان کو طبی امداد فراہم کی گئی ہے۔
اے ایف پی کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے شہر میں خوفناک دھماکوں کی آوازیں سنیں جبکہ اس سے تھوڑی دیر قبل اسرائیلی فوج نے کہا تھا کہ ’ایران سے میزائلز داغے جانے کی اطلاع ملی ہے۔‘
اسرائیل کے کان پبلک اور چینل 12 پر نشر ہونے والی فوٹیج میں پولیس افسروں اور ریسکیو ورکرز ان علاقوں میں دیکھا جا سکتا ہے جہاں میزائل گرے اور وہاں پر ہونے والے نقصانات بھی نظر آ رہے ہیں جبکہ تباہ شدہ گاڑیاں بھی دیکھی جا سکتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق فوجی سنسر شپ کے باعث میڈیا کو متاثر ہونے والے مقامات کی درست معلومات تک رسائی نہیں ہو پا رہی ہے۔
یورپی یونین نے مشرق وسطیٰ کو خبردار کیا ہے کہ اس کو ایک لمبی جنگ کے اثرات کا سامنا ہو سکتا ہے اور ساتھ یہ بھی کہا ہے کہ وہ بحیرہ احمر میں اپنے بحری مشن میں مزید جہاز شامل کر رہا ہے کیونکہ ایران کی جوابی کارروائی سے سمندری ٹریفک کو خطرات لاحق ہیں۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور دوسرے اعلیٰ حکام کانگریس کے سامنے ایران پر حملے کے حوالے سے مقدمہ پیش کریں گے۔
وائٹ ہاؤس کے ترجمان ڈیلن جانسن کا کہنا ہے کہ وزیر خارجہ مارک روبیو، سیکریٹری دفاع پیٹ ہیگستھ، سی آئی اے کے ڈائریکٹر جہان ریٹکلف اور ملٹری چیف جنرل ڈین کین کانگریس کے دونوں ایوانوں کے ارکان کو اقدام کے حوالے سے بریفنگ دیں گے۔

شیئر: