بیان میں افغانستان کو وہ ملک قرار دیا ہے جس کے شہری اب ورک ویزہ بھی حاصل نہیں کر سکیں گے۔
ہوم آفس کا کہنا ہے کہ ان ممالک سے تعلق رکھنے والے طلبہ کی جانب سے اسائلم کی درخواستوں میں اضافہ ہوا ہے اور 2021 سے اب تک مجموعی طور پر ایک لاکھ 35 ہزار کے قریب افراد قانونی راستہ اختیار کرتے ہوئے برطانیہ میں داخل ہوئے۔
برطانیہ کی ہوم سیکریٹری شبانہ محمود نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’برطانیہ ہمیشہ ان لوگوں کو پناہ دے گا جو جنگوں اور مظالم سے جان بچا کر آئیں مگر ہمارے ویزا سسٹم کا غلط استعمال نہیں ہونا چاہیے۔‘
انہوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ’یہی وجہ ہے کہ میں ویزے دینے سے انکار کا وہ فیصلہ کر رہی ہوں جس کی مثال موجود نہیں، یہ ان لوگوں کے لیے ہے جو ہماری کشادہ دلی کا غط فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔‘
ہوم آفس کے مطابق 2021 اور 2025 کے دوران افغانستان، میانمار، کیمرون اور سودان کے طلبہ کی جانب سے پناہ کے لیے دی جانے والی درخواستوں میں 470 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا۔
برطانیہ کی سیاست میں دوسرے ممالک سے ہجرت کر کے آنے والوں کا معاملہ ایک اہم ایشو بن گیا ہے اور دائیں بازو کی جماعت ریفارم یوکے کی جانب سے مائیگریشن کے خلاف سخت مؤقف اپنائے جانے کے بعد عوامی رائے کے پولز میں بھی اس کی حمایت میں اضافہ ہوا ہے۔
ہوم آفس کا کہنا ہے کہ 2021 اور 2025 کے دوران طلبہ ویزے پر آنے والوں کی جانب سے پناہ کی درخواستوں میں بہت اضافہ ہوا ہے (فوٹو: روئٹرز)
موجودہ اور پچھلی حکومتیں یہ کوشش کرتی رہی ہیں کہ وہ فرانس چینل کے راستے چھوٹی کشتیوں کے ذریعے ملک میں داخل ہونے کی کوششوں کو روکیں، جن کے ذریعے بڑی تعداد میں دوسرے ممالک سے لوگ وہاں پہنچتے ہیں تاہم ان کو دوسرے راستوں سے ملک میں آنے والوں کو پناہ دینے کے حوالے سے بھی دباؤ کا سامنا رہا ہے۔
یوکے ہوم آفس نے کہا ہے حکومت 2025 کے دوران طلبہ کے اسائلم کلیمز میں 20 فیصد تک کمی لائی ہے تاہم اس حوالے سے مزید اقدامات کی بھی ضرورت ہے کیونکہ اس وقت سسٹم میں موجود کلیمز میں بھی 13 فیصد طلبہ کی جانب سے کیے گئے ہیں۔