العلا میں 500 سے زائد مقامی پودوں کو فروغ دینے کا ہدف
العلا، مقامی پودوں کی نرسری اور بیج بینک کے ذریعے ماحولیاتی بحالی کے ایک ماڈل کے طور پر اپنی پوزیشن کو مضبوط بنا رہا ہے۔
سعودی خبررساں ایجنسی کے مطابق مملکت کے وژن 2030 کے اہداف کے تحت 500 سے زائد مقامی نباتاتی اقسام کو فروغ دینے کا ہدف مقرر ہے، جو صحرائی ماحول میں پائیدار سبزہ کی بحالی کے لیے اہم اقدام ہے۔
یہ کوششیں العلا رائل کمیشن کے مربوط پروگراموں کا حصہ ہیں، جس میں پودوں کی بحالی، ماحولیاتی توازن، اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ میں مدد کے لیے دس لاکھ سے زیادہ مقامی پودے تیار کرکے ماحولیاتی نظام کو بحال کیا جا سکتا ہے۔
یہ منصوبہ ایک ایسے نظام کا حصہ ہیں جو مقامی ماحول سے ہم آہنگ پودوں کی دوبارہ افزائش پرمبنی ہیں۔ اس کے ذریعے ان پودوں کے قدرتی علاقے کو بحال کرتے ہوئے جنگلی حیات کے تحفظ اور ماحولیاتی توازن کو یقینی بنانا ہے۔
ایک وسیع ماحولیاتی بحالی پروگرام پر کام جاری ہے، جو خطے کے بڑے منصوبوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس کے تحت 12 ہزار مربع کلو میٹر سے زائد رقبے پر پھیلے قدرتی محفوظ علاقوں کا وسیع نیٹ ورک قائم کیا گیا ہے۔

بحالی کی کوششوں میں ہزاروں ہیکٹر رینج لینڈز کی بحالی اور 1700 سے زائد جنگلی جانوروں کو دوبارہ ان کے قدرتی ماحول میں منتقل کرنا شامل ہے۔
پروگرام میں نایاب اور معدومیت کے خطرے سے دوچار انواع خاص کر عربی النسل چیتے( النمر العربی) کے تحفظ اور افزائش نسل پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔
مقامی پودوں کی کاشت سے 70 سے زائد ماحولیاتی منصوبوں پر عمل کیا گیا جبکہ 7 لاکھ سے زائد درخت اور پودے لگائے گئے،جن کی بقا کی شرح 90 فیصد سے زیادہ ہے۔

اس انیشیٹو میں سو سے زائد مقامی اقسام کے پودے شامل ہیں جو العلا کے ماحول سے مطابقت رکھتے ہیں۔ شرعان ریزور میں گزشتہ 5 برسوں کے دوران سبزے میں 30 فیصد اضافہ ہوا ہے جس سے زمین کی زرخیزی بہتر ہوئی اور صحرائی علاقے میں کمی ریکارڈ کی گئی۔
ان اقدامات کے نتیجے میں حیاتیاتی تنوع میں بھی نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی، کئی نایاب انواع کے جانوروں کی واپسی اور افزائش نسل ممکن ہوئی، جن میں ’الاسحم فالکن‘ شامل ہے، جس کی عالمی سطح پر آبادی کا تقریبا چار فیصد حصہ العلا میں پایا جاتا ہے۔ یہ پیش رفت ماحولیاتی نظام کی بحالی اور توازن کی واضح علامت ہے۔

العلا رائل کمیشن ان اقدامات کےلیے جدید سائنسی سسٹم کا استعمال کررہا ہے، جن میں بیجوں کو سٹور کرنا، ان کی جانچ اور افزائش کے امکانات کا جائزہ لینا شامل ہے۔
جنگلی حیات کی نگرانی اور ماحولیاتی ڈیٹا کا تجزیہ کرنے کےلیے سیٹلائٹس اور ڈرونز کا بھی استعمال کیا جارہا ہے جبکہ عالمی ادارے خصوصا ’انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر‘ آئی یو سی این کا تعاون بھی ہے۔

یہ کوششیں مملکت کے وژن 2030 اور گرین سعودی عرب کے اہداف سے ہم آہنگ ہیں، جن کا مقصد ماحولیاتی پائیداری کو فروغ دینا، سبزے میں اضافہ اور نایاب انواع کا تحفظ ہے۔
ان اقدامات کے ذریعے العلا کمشنری ایک متوازن ترقیاتی ماڈل کے طورپر بھی ابھر رہی ہے، جہاں قدرتی وسائل کے تحفظ اور پائیدار ترقی کو یکجا کیا گیا ہے۔ انسان و ماحول کے درمیان تعلق کو ایک نئی راہ دی جا رہی ہے۔
