ایرانی نژاد امریکی کاروباری خاتون شمیم مافی کو ایرانی حکومت کو اسلحے کی خریداری میں معاونت فراہم کرنے کے الزام میں امریکہ کے لاس اینجلس ایئرپورٹ سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔
امریکی اخبار ’نیویارک پوسٹ‘ کے مطابق 44 سالہ خاتون کو لاس اینجلس انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے اس وقت حراست میں لیا گیا جب وہ بیرونِ ملک سفر کے لیے موجود تھیں۔
یاد رہے کہ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ اور ایران کے تنازعے کو ختم کروانے کے لیے پاکستان کی ثالثی میں مذاکرات کا دوسرا دور متوقع ہے۔
مزید پڑھیں
-
امریکہ میں انوکھا انشورنس فراڈ جس میں ایک ’ریچھ‘ بھی ملوث تھاNode ID: 903209
امریکی حکام کے مطابق شمیم مافی پر الزام ہے کہ وہ ایران کی جانب سے ڈرونز، بم، بم فیوز اور لاکھوں گولیوں کی خرید و فروخت کے معاہدوں میں سہولت فراہم کر رہی تھیں، جنہیں سوڈان بھیجا جانا تھا۔
یہ مقدمہ امریکی اٹارنی کے دفتر برائے وسطی ضلع کیلیفورنیا کی جانب سے درج کیا گیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ ملزمہ نے امریکی پابندیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اسلحے کی ترسیل میں کردار ادا کیا۔
شمیم مافی کون ہیں؟
شمیم مافی ایک ایرانی نژاد کاروباری شخصیت ہیں جو امریکہ میں قانونی طور پر مقیم تھیں۔ انہوں نے سنہ2016 میں امریکی گرین کارڈ حاصل کیا اور کیلیفورنیا کے علاقے ووڈلینڈ ہلز میں رہائش پذیر تھیں۔
رپورٹس کے مطابق وہ سوشل میڈیا پر کافی متحرک تھیں اور اپنی پرتعیش طرزِ زندگی کی جھلکیاں شیئر کرتی رہتی تھیں۔
ان تصاویر میں دنیا بھر کے سفر اور مہنگی گاڑیوں کے ساتھ ان کی موجودگی نمایاں تھی، جن میں ایک قیمتی مرسڈیز بینز روڈسٹر بھی شامل تھی۔
Last night, Shamim Mafi, 44, of Woodland Hills, was arrested at Los Angeles International Airport for trafficking arms on behalf of the government of Iran. She is charged with a violation of 50 U.S.C. § 1705 for brokering the sale of drones, bombs, bomb fuses, and millions of… pic.twitter.com/l39Gf1WVed
— F.A. United States Attorney Bill Essayli (@USAttyEssayli) April 19, 2026












