ٹرمپ کا ایران سے مذاکرات کے لیے وفد پاکستان بھیجنے کا اعلان، تہران تاحال تذبذب کا شکار
اتوار 19 اپریل 2026 21:39
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ پیر کو ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے اپنا وفد پاکستان بھیج رہے ہیں، تاہم مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی ختم ہونے میں چند روز باقی ہونے کے باوجود تہران نے تاحال شرکت کا حتمی فیصلہ نہیں کیا۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق نئی سفارتی کوشش کا اعلان کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ایران کے بنیادی ڈھانچے کے خلاف دھمکیوں کو بھی دہرایا۔ انہوں نے اتوار کو اپنے ٹروتھ سوشل اکاؤنٹ پر لکھا کہ معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں امریکہ ایران کے تمام پاور پلانٹس اور پلوں کو نشانہ بنائے گا۔
دوسری جانب ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران مذاکرات کے امکان پر سرد مہری کا مظاہرہ کر رہا ہے، خصوصاً اس پس منظر میں کہ امریکی ناکہ بندی بدستور اس کی بندرگاہوں پر برقرار ہے۔
فارس اور تسنیم نیوز ایجنسیوں نے نامعلوم ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ تہران نے تاحال شرکت یا عدم شرکت کا فیصلہ نہیں کیا اور مجموعی فضا زیادہ مثبت نہیں۔ رپورٹس میں کہا گیا کہ امریکی ناکہ بندی کا خاتمہ مذاکرات کے لیے پیشگی شرط ہے۔
سرکاری خبر رساں ادارے ارنا نے بھی ناکہ بندی اور واشنگٹن کے ’غیر معقول اور غیر حقیقی مطالبات‘ کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں بامعنی مذاکرات کا کوئی واضح امکان نظر نہیں آتا۔
ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی ختم ہونے میں اب صرف تین دن باقی ہیں۔ یہ جنگ 28 فروری کو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے اچانک حملوں کے بعد شروع ہوئی تھی۔
اب تک صرف ایک 21 گھنٹے طویل مذاکراتی نشست 11 اپریل کو اسلام آباد میں ہوئی، جو کسی نتیجے کے بغیر ختم ہوئی، تاہم اس کے بعد مزید بات چیت کے لیے رابطے جاری رہے۔
ایران کے اسپیکر قومی اسمبلی اور چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے ہفتہ کی شب کہا تھا کہ دونوں فریق اب بھی حتمی معاہدے سے ’کافی دور‘ ہیں۔
اسلام آباد میں سکیورٹی سخت
دوسری جانب غیر یقینی صورتحال کے باوجود اسلام آباد میں ممکنہ مذاکرات کے پیش نظر اتوار کو سکیورٹی سخت کر دی گئی۔
حکام نے شہر اور جڑواں شہر راولپنڈی میں سڑکوں کی بندش اور ٹریفک پابندیوں کا اعلان کیا۔ اسلام آباد کے حساس ہوٹلوں میریٹ اور سیرینا کے اطراف مسلح اہلکار اور چیک پوسٹس قائم کر دی گئیں۔
امریکی صدر کے مطابق ان کا وفد، جس کے ارکان کے نام ظاہر نہیں کیے گئے، پیر کی شام پاکستانی دارالحکومت پہنچے گا۔ وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار کے مطابق وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کریں گے، جبکہ مشرق وسطیٰ کے ایلچی سٹیو وٹکوف اور ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر بھی اس میں شامل ہوں گے۔
مذاکرات میں سب سے بڑا تنازع ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخیرے پر ہے۔ ٹرمپ نے جمعہ کو دعویٰ کیا تھا کہ ایران تقریباً 440 کلوگرام افزودہ یورینیم حوالے کرنے پر آمادہ ہو گیا ہے، تاہم ایران کی وزارت خارجہ نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ یہ ذخیرہ کسی کو منتقل نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی اس حوالے سے مذاکرات میں کوئی بات ہوئی ہے۔
اتوار کو ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے سوال اٹھایا کہ ایران اپنے جوہری پروگرام کے ’قانونی حق‘ سے کیوں دستبردار ہو۔
آبنائے ہرمز دوبارہ بند
جنگ کے آغاز پر ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز بند کیے جانے کے بعد ٹرمپ پر جنگ ختم کرنے کے لیے دباؤ بڑھ گیا ہے۔ یہ اہم آبی گزرگاہ عالمی تیل اور ایل این جی کی ترسیل کا بڑا ذریعہ ہے اور اس کی بندش نے عالمی معیشت کو متاثر کیا ہے۔
امریکہ نے اسے کھلوانے میں ناکامی کے بعد ایرانی بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی کر دی تاکہ تہران کی تیل آمدن روکی جا سکے۔
ایران نے جمعہ کو مختصر طور پر آبنائے ہرمز کھولی، تاہم اگلے روز امریکی ناکہ بندی برقرار رہنے پر اسے دوبارہ بند کر دیا۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ اجازت کے بغیر گزرنے والی کسی بھی کشتی کو دشمن سے تعاون تصور کیا جائے گا اور اسے نشانہ بنایا جائے گا۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اتوار کو کہا کہ یہ ناکہ بندی جنگ بندی کی خلاف ورزی اور ایرانی عوام کے خلاف غیر قانونی اجتماعی سزا ہے۔
مختصر کھلنے کے دوران چند آئل اور گیس ٹینکرز نے راستہ عبور کیا، تاہم اتوار کی صبح تک یہ گزرگاہ مکمل طور پر خالی تھی۔ اس سے قبل ایرانی فائرنگ اور دھمکیوں کے واقعات نے اس راستے کو انتہائی خطرناک بنا دیا تھا۔
