Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’روشن دریافتیں‘: العلا نمائش میں سلطنت دادن کی قدیم میراث اجاگر

قدیم آثار کی میراث اور تہذیب کو اجاگر کیا جا رہا ہے۔ (فوٹو: ایس پی اے)
العلا گورنریٹ ’روشن دریافتیں۔۔۔ دادان کی تاریخ کی تہوں سے پردہ اٹھانا‘ کے عنوان سے ایک مستقل نمائش کا بندوبست کرتا ہے، جس میں دادن شہر جو دارالحکومت کا درجہ بھی رکھتا تھا اور لیحان کی سلطنتوں کی تاریخ کو بھی نمایاں کیا جار رہا ہے۔
یہ نمائش ایک معلوماتی تجربہ پیش کرتی ہے، جس میں دادن میں پائے جانے والے قدیم آثار کی میراث اور تہذیب کے اہم پہلوؤں کو اکٹھا کر کے لوگوں کے سامنے رکھا جاتا ہے۔
اس طرح یہ ایک دستاویزی بیانیے کی شکل اختیار کر لیتی ہے جس سے ورثے کے علاقائی اور عالمی نقشے پر اِس نمائش کی اہمیت دو چند ہو جاتی ہے۔
نمائش دیکھنے کے لیے آنے والوں کو تاریخ میں ہونے والے واقعات کی ترتیب کو لحاظ میں رکھتے ہوئے ایک سفر پر لے جایا جاتا ہے ،جہاں انھیں روزانہ کی زندگی، روایتی مہارتوں اور قدیم زمانے میں مروّج اعتقادات کی جھلک دکھائی جاتی ہے۔
اِس کے ساتھ ہی انھیں پتھروں پر کندہ تحریریں اور سو سے زیادہ نوادرات بھی دیکھنے کو ملتے ہیں جنھیں بین الاقوامی سائنسی مشن کی نگرانی میں حالیہ زمانے میں کھدائی کے دوران دادن اور ام الدرج کی سائٹس سے دریافت کیا گیا ہے۔
دریافت شدہ نوادرات میں تانبے سے بنے ہوئے نیزے، مجسمے، جن پر یونانی اثرات کی چھاپ ہے اور معینائی تحریریں بھی ملی ہیں جو اس زمانے کی تجارتی سرگرمیوں کا دستاویزی بیان ہیں اور ظاہر کرتی ہی کہ قدیم تجارتی راستوں پر کبھی دادن مرکزی حیثیت کا حامل ہوا کرتا تھا۔
ان دریافتوں سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ شمال مغربی عرب اور بحیرۂ روم کی تہذیبوں کو آپس میں ملانے کے لیے ایک  تجارتی اور ثقافتی نیٹ ورک قائم تھا۔ اِس سے ورثے کی ایک نمایاں سائٹ کے طور پر دادن کی حیثیت کو مزید تقویت ملتی ہے۔
اِس نمائش میں سنہِ عسیوی سے قبل کے ہزاریے کے آغاز سے دادن کی صنعتوں اور ہنر و مہارت کی ترقی کو بھی دستاویزی شکل دی گئی ہے، جن میں دھات کا کام اور ٹیکسٹائل کی پیداوار شامل ہیں جو اِن مہارتوں اور صنعتوں کے طویل عرصے سے قائم رہنے والے اثر کا ایک واضح اظہار ہیں۔
العلا کا رائل کمیشن ثقافتی ورثے کے پروگرام کے تحت اِن مہارتوں کے تحفظ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
العلا میں جاری یہ نمائش ایسے وقت ہو رہی جب اٹھارہ اپریل کو ورثے کا عالمی دن بھی منایا گیا ہے تاکہ میراث کو محفوظ رکھنے کے لیے آگاہی کو بڑھایا جائے اور ثقافتی سیاحت کو فروغ دیا جا سکے۔

 

شیئر: