Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

امریکہ کا ایرانی کارگو جہاز پر قبضہ، تہران نے مذاکرات کا دوسرا دور مسترد کر دیا

صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ان کے نمائندے پیر کی شام کو اسلام آباد پہنچیں گے (فوٹو: اے پی)
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ نے ایران کے ایک ایسے کارگو جہاز کو قبضے میں لیا ہے جو ناکہ بندی کی خلاف ورزی کی کوشش کر رہا تھا۔
دوسری جانب ایران نے صدر ٹرمپ کی پھر سے فضائی حملوں کی دھمکی کے باوجود امن مذاکرات کے دوسرے دور میں شریک ہونے سے انکار کر دیا ہے۔
 برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اس پیش رفت سے لگتا ہے کہ خطے میں شاید جلد امن نہ لوٹے اور ہفتہ بھر سے جاری امریکہ کی وہ ناکہ بندی جس سے عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں بڑھیں، برقرار رہ سکتی ہے۔
امریکہ نے ایران کی بندرگاہوں کی ناکہ بندی برقرار رکھی ہوئی ہے جبکہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز سے بندشیں اٹھانے کے بعد پھر سے لگائی گئی ہیں، جس کا سلسلہ تقریباً دو ماہ قبل جنگ کے ساتھ ہی شروع ہوا تھا۔
صدر ٹرمپ نے اتوار کو سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ ’امریکہ نے ایک ایرانی جھنڈا بردار کارگو جہاز کو قبضے میں لیا ہے، جس نے ناکہ بندی کی حدود سے گزرنے کی کوشش کی، وہ اب مکمل طور پر ہمارے کنٹرول میں ہے اور ہم یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اس میں کیا ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکی فوج نے جہاز کے انجن روم میں سوراخ کر دیا ہے۔
اس دوران میں ہی ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی ارنا کی جانب سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ ایران نے امن مذاکرات مسترد کر دیے ہیں اس کی وجہ امریکہ کی جاری ناکہ بندی، بدلتے ہوئے موقف اور ’ضرورت سے زیادہ مطالبات‘ کو قرار دیا ہے۔
ٹرمپ نے اس سے قبل ایران کو خبردار کیا تھا کہ اگر تہران نے ان کی شرائط کو مسترد کیا تو امریکہ ایران میں موجود ہر پل اور پاور پلانٹ کو تباہ کر دے گا اور ایسی دھمکیوں کا سلسلہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے جاری رہا ہے۔
دوسری جانب ایران کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ نے بنیادی انفراسٹرکچر پر حملہ کیا تو وہ خلیجی عرب پڑوسیوں کے پاور سٹیشنز اور ڈی سیلینیشن پلانٹس کو نشانہ بنائے گا۔
صدر ٹرمپ کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان کے نمائندے دو ہفتے کی جنگ بندی ختم ہونے سے قبل پیر کی شام اسلام آباد پہنچیں گے اور امریکی وفد کی قیادت کریں گے جبکہ وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار کا کہنا ہے کہ امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کریں گے، جنہوں نے ایک ہفتہ قبل جنگ کے پہلے امن مذاکرات کی قیادت کی تھی۔
امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے لیے مرکزی کردار ادار کرنے والے پاکستان کے دو سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکہ کے دو بڑے کارگو طیارے سی 17 اتوار کی سہ پہر کو ایئر بیس پر اترے جو امریکی وفد کی آمد کی تیاری کے حوالے سے حفاظتی سامان اور گاڑیاں لے کر آئے تھے۔
امریکہ ایران مذاکرات کے لیے مرکزی کردار ادا کرنے والے پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کی انتظامیہ شہر میں پبلک اور ہیوی ٹرانسپورٹ روک دی ہے اور سرینا ہوٹل کے قریب خاردار تاریں بچھائی گئی ہیں، جہاں پچھلے ہفتے بھی مذاکرات ہوئے تھے اور اس بار بھی اس کو خالی کرا لیا گیا ہے۔

 

شیئر: