سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان اور پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے فوجی تصادم کے دوران مملکت پر ایران کے حملوں پر تبادلہ خیال کیا۔
شہزادہ خالد نے سنیچر کی صبح سوشل میڈیا پر لکھا ’ہم نے مملکت پر ایرانی حملوں اور ہمارے مشترکہ سٹریٹجک دفاعی معاہدے کے فریم ورک کے تحت انہیں روکنے کے لیے ضروری اقدامات پر بات چیت کی۔‘
انہوں نے مزید کہا ’ہم نے اس بات پر زور دیا کہ اس طرح کی کارروائیاں علاقائی سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتی ہیں اور اس امید کا اظہار کیا کہ ایرانی فریق دانشمندی کا مظاہرہ کرے گا اور غلط فہمیوں سے بچنے کی کوشش کرے گا۔‘
مزید پڑھیں
-
ایران سے بات چیت صرف ’غیر مشروط ہتھیار ڈالنے‘ پر ہوگی: صدر ٹرمپNode ID: 901496
امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی مہم کا آغاز کیا تھا۔ تب سے ایران نے خلیج بھر میں متعدد مقامات کو نشانہ بنایا ہے۔
جنگ میں شدت آنے کے ساتھ ہی تہران نے امریکی اور اسرائیلی فوجی اثاثوں پر بھی حملے کیے ہیں جس سے پرامن جزیرہ نما خلیج عرب میں زندگی متاثر ہوئی ہے اور عالمی معیشت کے متزلزل ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے کیونکہ ایران نے آبنائے ہرمز کے ذریعے توانائی کی ترسیل پر پابندیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔
التقيت معالي قائد قوات الدفاع قائد الجيش الباكستاني المشير عاصم منير.
بحثنا الاعتداءات الإيرانية على المملكة في إطار اتفاقية الدفاع الإستراتيجي المشترك بين بلدينا الشقيقين، وسبل وقف هذه الاعتداءات التي لا تصب في مصلحة أمن واستقرار المنطقة، متمنيّن أن يُغلب الجانب الإيراني الحكمة… pic.twitter.com/ex5Qf32lMj— Khalid bin Salman خالد بن سلمان (@kbsalsaud) March 7, 2026
سعودی وزارتِ دفاع نے بتایا کہ سنیچر کو ’ربع الخالی‘ میں شیبہ آئل فیلڈ کو نشانہ بنانے والے متعدد ڈرونز کو مار گرایا گیا ہے۔
منگل کو ریاض میں امریکی سفارت خانے پر بھی ایک ڈرون حملہ ہوا تھا جس سے معمولی آگ لگی تاہم اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
سعودی عرب اور پاکستان نے ستمبر میں ایک ’سٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے‘ پر دستخط کیے تھے جس میں عہد کیا گیا تھا کہ کسی ایک ملک کے خلاف جارحیت کو دونوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
التقى صاحب السمو الملكي الأمير خالد بن سلمان بن عبدالعزيز وزير الدفاع، في الرياض، معالي قائد قوات الدفاع قائد الجيش الباكستاني المشير عاصم منير.
وجرى خلال اللقاء بحث الاعتداءات الإيرانية على المملكة في إطار اتفاقية الدفاع الإستراتيجي المشترك بين البلدين الشقيقين، وسبل وقف هذه… pic.twitter.com/kJHmjA56PY
— وزارة الدفاع (@modgovksa) March 7, 2026
سعودی پریس ایجنسی نے سنیچر کو رپورٹ کیا کہ علیحدہ طور پر سعودی وزیر داخلہ شہزادہ عبدالعزیز بن سعود بن نائف کو ان کے پاکستانی ہم منصب محسن رضا نقوی کی کال موصول ہوئی جنہوں نے مملکت کو نشانہ بنانے والے ان کھلے حملوں کی مذمت کی اور مملکت کی سلامتی و استحکام کو لاحق کسی بھی خطرے کا مقابلہ کرنے میں اپنے ملک کی یکجہتی کا اعادہ کیا۔












