ایران سے بات چیت صرف ’غیر مشروط ہتھیار ڈالنے‘ پر ہوگی: صدر ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کو ایران سے ’غیر مشروط ہتھیار ڈالنے‘ کا مطالبہ کر دیا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ٹرمپ کا تازہ ترین مطالبہ ایک ہفتہ قبل اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف شروع کی گئی امریکی جنگ میں ان کے مطالبات میں ایک ڈرامائی اضافہ ہے۔
صدر ٹرمپ ایران سے غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ سوشل میڈیا پر اس وقت کیاجب اس سے چند گھنٹے پہلے ایران کے صدر نے اعلان کیا تھا کہ کچھ ممالک نے اس تنازع کو ختم کرنے کے لیے ثالثی کی کوششیں شروع کر دی ہیں۔
یہ اس جنگ کے خاتمے کے لیے کسی بھی سفارتی کوشش کا پہلا اشارہ تھا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے لکھا کہ ’ایران کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں ہوگا سوائے غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’اس کے بعد، اور ایک عظیم اور قابلِ قبول رہنما یا رہنماؤں کے انتخاب کے بعد، ہم اور ہمارے بہت سے بہادر اتحادی اور شراکت دار پوری محنت سے کام کریں گے تاکہ ایران کو تباہی کے دہانے سے واپس لایا جا سکے اور اسے معاشی طور پر پہلے سے زیادہ بڑا، بہتر اور مضبوط بنایا جا سکے۔‘
جمعرات کو ٹرمپ نے روئٹرز کو ٹیلیفونک انٹرویو میں بتایا تھا کہ وہ یہ مطالبہ بھی کر رہے ہیں کہ انہیں ایران کے نئے سپریم لیڈر کے انتخاب میں مدد کرنے کا حق دیا جائے، جو کہ جنگ کے پہلے دن مارے جانے والے علی خامنہ ای کی جگہ لے گا۔
اسرائیل نے جمعہ کو لبنان کے دارالحکومت بیروت پر شدید بمباری کی۔ اس سے پہلے اسرائیل نے شہر کے جنوبی مضافاتی علاقوں کو مکمل طور پر خالی کرنے کا غیر معمولی حکم دیا تھا، جو جنگ کے بڑے پھیلاؤ کی نشاندہی کرتا ہے۔
اس کے علاوہ اسرائیل نے ایران پر بھی حملوں کی ایک نئی لہر کا آغاز کیا اور کہا کہ اس کے 50 جنگی طیاروں نے تہران میں تباہ شدہ کمپاؤنڈ کے نیچے موجود ایک بنکر کو نشانہ بنایا، جو علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد بھی ایرانی قیادت استعمال کر رہی تھی۔
اس سے قبل ایران کے صدرمسعود پزشکیان نے ایکس پر لکھا کہ ’کچھ ممالک نے ثالثی کی کوششیں شروع کر دی ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’واضح رہے کہ ہم خطے میں دیرپا امن کے لیے پرعزم ہیں، لیکن اپنے ملک کی عزت اور اختیار کے دفاع میں ہمیں ذرا بھی ہچکچاہٹ نہیں ہے۔ ثالثوں کو اُن لوگوں سے بات کرنی چاہیے جنہوں نے ایرانی عوام کو کمزور سمجھا اور اس تنازع کو بھڑکایا۔‘
ایران کے نظامِ حکومت میں صدر، سپریم لیڈر کے ماتحت ہوتا ہے، لیکن اس وقت پزشکیان ایک ایسے پینل میں شامل ہیں جس نے خامنہ ای کی ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں۔
