Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

لاہور پولیس نے انڈین سکھ خاتون یاتری کا گمشدہ پرس چند گھنٹوں میں کیسے ڈھونڈا؟

سکھ خاتون نے اپنے اہل خانہ کے ہمراہ فوری طور پر پولیس سے رجوع کیا (فوٹو: ویڈیو گریب)
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر لاہور میں پولیس نے انڈین خاتون سکھ یاتری کا گمشدہ پرس چند گھنٹوں میں ڈھونڈ کر خاتون کے حوالے کر دیا۔
خاتون سکھ یاتری گزشتہ روز واہگہ بارڈر کے راستے انڈیا واپس روانہ ہوئیں۔
گزشتہ دنوں انڈیا سمیت دنیا بھر سے سکھ یاتری بیساکھی میلہ منانے کے لیے پاکستان آئے تھے۔
پنجاب کے مختلف علاقوں میں مذہبی و ثقافتی رسومات کی ادائیگی کے بعد یاتری لاہور آئے۔ ان میں ایک خاتون سکھ یاتری رمن پریت کور بھی تھیں جو اپنی فیملی کے ہمراہ گردوارہ چونا منڈی میں مذہبی رسومات کی ادائیگی کے لیے لاہور آئی تھیں۔ 
لاہور پولیس کے مطابق عبادت کے بعد رمن پریت کور قریبی علاقے پرانی کوتوالی چوک میں خریداری کے لیے نکلیں جہاں مختلف دکانوں پر جاتے ہوئے وہ اپنے ہینڈ بیگ میں رکھا چھوٹا پرس سنبھالنے کی کوشش کر رہی تھیں کہ اسی دوران ان کا پرس کہیں گر گیا۔
پولیس کے مطابق ابتدا میں خاتون یاتری کو اس کا اندازہ نہیں ہوا۔ مستی گیٹ پولیس سٹیشن میں تعینات سب انسپکٹر طالب رشید نے اردو نیوز کو بتایا ’خاتون یاتری شاپنگ کر رہی تھیں جبکہ ان کا پرس کہیں گر گیا تھا تاہم ٹکسالی گیٹ پر جب انہوں نے رکشے سے اتر کر کرایہ دینا چاہا تو ان کا پرس غائب تھا۔‘
پولیس حکام کے مطابق خاتون کے پرس میں قریباً 13 ہزار 800 انڈین روپے کے علاوہ دیگر قیمتی اشیاء اور ضروری دستاویزات بھی موجود تھیں جو سفر کے دوران ان کے لیے نہایت اہمیت رکھتی تھیں۔
خاتون نے اپنے اہل خانہ کے ہمراہ فوری طور پر پولیس سے رجوع کیا اور صورتحال بیان کی۔
طالب رشید بتاتے ہیں ’جب خاتون نے پولیس کو مطلع کیا تو اطلاع ملتے ہی مستی گیٹ تھانے کے ایس ایچ او موقعے پر پہنچے اور معاملے کی حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری کارروائی کا آغاز کیا۔‘

پولیس تفتیش کے دوران رمن پریت کور اور ان کی فیملی پولیس کے ہمراہ مختلف مقامات پر جاتی رہی (فائل فوٹو: روئٹرز)

پولیس کے مطابق سکھ یاتریوں کی موجودگی اور ان کے تحفظ کو یقینی بنانے کے حوالے سے یہ معاملہ خاص اہمیت اختیار کر گیا تھا جس کے باعث پولیس نے پرس کو تلاش کرنے کے لیے تین ٹیمیں تشکیل دیں۔ پولیس حکام اس حوالے سے بتاتے ہیں ’ابتدائی طور پر ان تمام مقامات پر جاکر تلاش کی گئی جہاں خاتون خریداری کے دوران گئی تھیں۔ دکانوں کے باہر، اندر اور آس پاس کے علاقوں میں چھان بین کی گئی لیکن پرس کا کوئی سراغ نہ مل سکا۔ اس کے بعد تفتیش کا دائرہ سی سی ٹی وی کیمروں تک بڑھایا گیا۔ مختلف کیمروں کی فوٹیج کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔‘
پولیس کے مطابق ایک مقام پر ایسی ویڈیو سامنے آئی جس میں دیکھا جا سکتا تھا کہ خاتون پرس کو اپنے ہینڈ بیگ میں رکھنے کی کوشش کر رہی ہیں اور اسی لمحے وہ نیچے گر جاتا ہے۔ یہ سراغ ملنے کے بعد پولیس اہلکار فوری طور پر اس مقام پر پہنچے تاہم وہاں پرس موجود نہیں تھا۔
پولیس نے اس کے بعد قریبی دکانداروں اور راہگیروں سے پوچھ گچھ کا سلسلہ شروع کیا گیا۔ معلومات اکٹھی کرنے پر پتا چلا کہ چند گھنٹے قبل ایک شخص کو یہ پرس ملا تھا جس میں غیر ملکی کرنسی بھی موجود تھی۔
سب انسپکٹر طالب رشید اس حوالے سے بتاتے ہیں ’مزید تحقیق سے معلوم ہوا کہ اس شخص نے پرس اپنے پاس رکھنے کی بجائے ایک قریبی دکاندار کے حوالے کر دیا تھا۔ پولیس اہلکار اس دکان تک پہنچے جہاں سے پرس برآمد کر لیا گیا۔ تصدیق کے بعد پرس رمن پریت کور کے حوالے کیا گیا۔‘
پولیس کے مطابق پرس میں موجود تمام نقدی بشمول انڈین کرنسی اور دیگر قیمتی اشیاء اپنی جگہ پر موجود تھیں۔
پولیس تفتیش کے دوران رمن پریت کور اور ان کی فیملی پولیس کے ہمراہ مختلف مقامات پر جاتی رہی تاکہ تلاش کے عمل میں مدد فراہم کی جا سکے۔
ڈی آئی جی آپریشنز کے ترجمان کا کہنا ہے کہ پولیس نے شواہد اور دستیاب معلومات کی بنیاد پر تیزی سے کارروائی کرتے ہوئے گمشدہ پرس تلاش کیا اور اسے بحفاظت مالک کے حوالے کیا۔

شیئر: