امریکہ کے ساتھ امن مذاکرات کے نئے دور میں شرکت کا تاحال فیصلہ نہیں ہوا ہے: ایران
ایران نے پیر کے روز کہا ہے کہ اس نے ابھی تک امریکہ کے ساتھ امن مذاکرات کے نئے دور میں شرکت کا فیصلہ نہیں کیا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایران کے بیان نے مشرق وسطیٰ کی جنگ کو دوبارہ شروع ہونے سے روکنے کی کوششوں پر غیر یقینی کے بادل منڈلا دیے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو کہا تھا کہ وہ خطے کو اپنی لپیٹ میں لینے والی جنگ کے خاتمے کے لیے اپنے مذاکرات کار پاکستان بھیج رہے ہیں، جس نے عالمی منڈیوں کو بھی ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے دھمکی دی کہ اگر ایران نے معاہدہ نہ کیا تو اس کے انفراسٹرکچر پر حملہ کیا جائے گا۔
رواں ماہ کے آغاز میں اسلام آباد میں ہونے والے ابتدائی مذاکرات کسی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے تھے، جس کے بعد دونوں فریقین نے ایک دوسرے پر عارضی جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام لگایا ہے جس کی مدت منگل کو ختم ہو رہی ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پیر کو کہا، ’ہمارا اگلے دور کے مذاکرات کا کوئی منصوبہ نہیں ہے اور اس سلسلے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’امریکہ کا رویہ کسی بھی طرح سفارتی عمل کی پیروی میں سنجیدگی ظاہر نہیں کرتا۔‘ انہوں نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی اور حال ہی میں ایک جہاز قبضے میں لینے کو ’جنگ بندی کی کھلی خلاف ورزی‘ قرار دیا۔
دوسری جانب ٹرمپ نے بھی تہران پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام لگایا ہے، جو منگل کی رات ختم ہو رہی ہے، اور کہا کہ ایران نے آبنائے ہرمز کے تجارتی راستے پر بحری جہازوں پر فائرنگ کی ہے، جسے ایران نے تقریباً مکمل بند کر رکھا ہے۔
ان الزامات نے اس جنگ کو ختم کرنے کی کوششوں پر شکوک و شبہات پیدا کر دیے ہیں جو 28 فروری کی صبح ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں سے شروع ہوئی تھی، جس میں ملک کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای جاں بحق ہو گئے تھے۔
پیر کے روز تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا کیونکہ یہ خدشہ پیدا ہو گیا ہے کہ کئی ہفتوں سے جاری اس جنگ میں دوبارہ دشمنی شروع ہو سکتی ہے، کیونکہ ایران نے ہفتے کے آخر میں تھوڑی دیر کے لیے کھولنے کے بعد آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کر دیا ہے۔
پاکستان میں مذاکرات کے حوالے سے غیر یقینی کے باوجود اسلام آباد میں سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔ حکام نے شہر بھر اور راولپنڈی میں سڑکوں کی بندش اور ٹریفک پر پابندیوں کا اعلان کیا ہے۔
امریکی صدر نے کہا تھا کہ ان کے مذاکرات کار پیر کو اسلام آباد پہنچیں گے، تاہم مقامی وقت کے مطابق شام تک ان کی روانگی کا کوئی اعلان نہیں ہوا تھا۔ وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے بتایا کہ نائب صدر جے ڈی وینس وفد کی قیادت کریں گے۔ ان کے ساتھ مشرق وسطیٰ کے لیے نمائندہ خصوصی سٹیو وٹکوف اور ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر بھی شامل ہوں گے۔
تلخیاں اور رکاوٹیں
ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز بند کیے جانے کے بعد سے ٹرمپ پر دباؤ ہے کہ وہ اس بحران سے نکلنے کا کوئی راستہ تلاش کریں۔ لیکن بحری ناکہ بندی اور کارگو جہاز قبضے میں لینے کے اقدامات نے تہران کو مذاکرات کی میز پر لانے کے بجائے مزید دھمکیوں پر اکسا دیا ہے۔
ایرانی پاسداران انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ اجازت کے بغیر آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کسی بھی کوشش کو ’دشمن کے ساتھ تعاون‘ سمجھا جائے گا اور اس جہاز کو نشانہ بنایا جائے گا۔
مذاکرات میں ایک بڑا مسئلہ ایران کے افزودہ یورینیم کا ذخیرہ بھی ہے، جس کے بارے میں ٹرمپ نے جمعہ کو کہا تھا کہ ایران اسے حوالے کرنے پر راضی ہو گیا ہے۔ تاہم ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ یہ ذخیرہ کہیں منتقل نہیں کیا جائے گا اور اسماعیل بقائی کے مطابق، امریکی مذاکرات کاروں کے ساتھ اس معاملے پر کبھی بات ہی نہیں ہوئی۔
