Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایران، امریکہ امن معاہدے کے بارے میں اب تک ہم کیا جانتے ہیں؟

ایران اور امریکا نے تقریباً چار ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے پر ایک معاہدہ کر لیا ہے (فوٹو: اے ایف پی)
ایران اور امریکہ نے تقریباً چار ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے پر ایک معاہدہ کر لیا ہے، جس سے ایران کے جوہری پروگرام اور اس حوالے سے پابندیوں میں نرمی سے متعلق تفصیلی مذاکرات کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔
عرب نیوز کے مطابق اگرچہ سرکاری سطح پر زیادہ تفصیلات جاری نہیں کی گئیں، لیکن ایرانی میڈیا نے 14 نکاتی معاہدے کی کچھ تفصیل شائع کی ہے۔
معاہدے کے اعلان سے قبل ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا تھا کہ تفصیلات صرف اس وقت سامنے لائی جائیں گی جب معاہدے پر باضابطہ دستخط ہو جائیں گے۔
منجمد اثاثے
اعلان کے بعد ایران کی خبر رساں ایجنسی مہر نے وہ مواد دوبارہ شائع کیا جسے اس نے اس فریم ورک کا حصہ قرار دیا، تاہم ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا کہ یہ حتمی متن نہیں ہے۔
مہر کے مطابق معاہدے میں لبنان سمیت تمام محاذوں پر ’جنگ کے مستقل اور فوری خاتمے‘ کی شق شامل ہے۔
معاہدے میں 60 روزہ مذاکراتی دور کے دوران ایران کے 24 ارب ڈالر کے منجمد اثاثے جاری کرنے کی شق بھی شامل ہے، جس میں سے نصف رقم مذاکرات شروع ہونے سے قبل جاری کر دی جائے گی۔
مسودے میں ایرانی تیل، پیٹروکیمیکل مصنوعات اور ان کی ذیلی مصنوعات کی فروخت پر پابندیوں کی معطلی کی بھی بات کی گئی ہے۔
معاہدے کے تحت امریکہ 13 اپریل سے جاری ایرانی بندرگاہوں اور ساحلی علاقوں کی ناکہ بندی ختم کرے گا، اور اپنی فوجیں ایران کے قریبی علاقوں سے واپس بلا لے گا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ آبنائے ہرمز کو بغیر ٹول کے کھولا جائے گا (فوٹو: روئٹرز)

ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا کہ ’حتمی مذاکرات صرف اسی وقت شروع ہوں گے جب امریکہ فریم ورک کے اہم نکات پر عمل کرے گا، جن میں بحری ناکہ بندی کا خاتمہ، فوجی کارروائیوں کو روکنا اور ایران کے منجمد فنڈز کی واپسی شامل ہے۔‘
انہوں نے کہا، ’یہ فوری اقدامات جب مکمل ہو جائیں گے تو ہم فوراً مذاکراتی عمل کا حصہ بن جائیں گے۔‘
ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ ’وہ معاہدے کے نکات کو حتمی شکل دیے جانے کے بعد ہی اس فریم ورک کی تفصیلات عوام کے سامنے لائیں گے۔‘
انہوں نے جمعہ کے روز یہ کہا کہ ’معاہدے کے تمام نکات پر اتفاق ہو جائے گا تو میں عوام کو اس کی تفصیلات سے آگاہ کر دوں گا۔‘
آبنائے ہرمز
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے معاہدے کا اعلان کرنے کے بعد سوشل میڈیا پر کہا کہ آبنائے ہرمز کو ’بغیر ٹول کے کھولا جائے گا۔‘
خبر رساں ادارے مہر نے رپورٹ کیا کہ ایران اس آبی گزرگاہ کو ’30 دن کے اندر ایرانی بندوبست کے تحت‘ دوبارہ کھولے گا، تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
پیر کے روز ایران کی فارس خبر رساں ایجنسی نے کہا کہ ایران نے مذاکرات کے آخری مراحل میں ہرمز میں بحری سروس فیس عائد کرنے کی شق شامل کی ہے۔
ایجنسی نے ایک باخبر ذریعے کے حوالے سے یہ کہا کہ ’بحری خدمات‘ کی اصطلاح کا مطلب یہ ہے کہ امریکہ نے خود یہ تسلیم کیا ہے کہ ایران کو فیس ادا کی جائے گی۔
عباس عراقچی نے جمعہ کو یہ کہا کہ بین الاقوامی قانون کے تحت ٹول وصول کرنا قابل قبول نہیں ہوگا، تاہم ایران سروس فیس وصول کرے گا، اور مستقبل میں یہ انتظامات عمان کے تعاون سے نافذ کیے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ آبنائے ہرمز کا انتظام اب پہلے جیسا نہیں رہے گا، اور یہ آبی گزرگاہ ایران کے لیے ’روک تھام کا ایک ذریعہ‘ رہے گی۔
60 روزہ مذاکرات
یہ فریم ورک 60 روزہ مذاکرات کے لیے ایک ابتدائی مرحلہ ہے، جس میں ایران کے جوہری پروگرام سمیت اہم تنازعات پر بات چیت ہوگی۔
اس دوران ایران کی افزودگی کی سرگرمیاں، انتہائی افزودہ یورینیم کا ذخیرہ، اور امریکہ و اقوام متحدہ کی طویل پابندیاں زیر بحث آئیں گی۔
ایرانی نائب وزیر خارجہ کے مطابق جنگ کے بعد کی ’تعمیرِ نو اور معاشی ترقی‘ بھی ایک موضوع ہوگی، تاہم انہوں نے اس حوالے سے کوئی تفصیل نہیں بتائی۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ معاہدے کی پاسداری کو یقینی بنانے کا ایک طریقۂ کار بھی زیر غور آئے گا۔
عباس عراقچی نے جمعہ کے روز یہ بھی کہا کہ ’ایران اپنے انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو ملک کے اندر ہی کمزورکرنے کو ترجیح دے گا۔‘

معاہدے میں لبنان سمیت تمام محاذوں پر ’جنگ کے مستقل اور فوری خاتمے‘ کی شق شامل ہے (فوٹو: اے ایف پی)

اخبار نیویارک ٹائمز نے پیر کے روز ایک فون انٹرویو کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ اس نکتے پر بات چیت جاری ہے کہ آیا ایران اپنی افزودگی 20 سال کے لیے معطل کرے گا، تاہم انہوں نے اشارہ دیا کہ وہ 15 سال کی معطلی پر بھی رضامند ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’ایران کی یورینیم افزودگی کسی بھی صورت فوجی استعمال کے قابل نہیں ہونی چاہیے اور یہ کہ یہ ’ایک مخصوص حد سے زیادہ نہیں کی جا سکتی۔‘
کیا نکات شامل نہیں؟
یہ واضح نہیں کہ آیا مذاکرات میں ایران کے میزائل پروگرام یا اسرائیل کے خلاف مزاحمتی گروہوں کی حمایت پر بات ہوگی، جنہیں مجموعی طور پر ’مزاحمت کا محور‘ کہا جاتا ہے۔
یہ دونوں مسائل اسرائیل کے لیے طویل عرصے سے بنیادی تشویش کا باعث بنے رہے ہیں۔
مہر کی رپورٹ کے مطابق ایران کے ’میزائل پروگرام اور مزاحمتی گروہوں کی حمایت کو حتمی طور پر ایجنڈے سے خارج کر دیا گیا ہے۔‘

شیئر: