معاہدے کے باوجود امریکہ پر ’گہرا عدم اعتماد‘ برقرار ہے: ایرانی وزارت خارجہ
معاہدے کے باوجود امریکہ پر ’گہرا عدم اعتماد‘ برقرار ہے: ایرانی وزارت خارجہ
پیر 15 جون 2026 15:06
ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی معاہدے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے آبنائے ہرمز میں ایرانی بندرگاہوں کی امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ (فوٹو: روئٹرز)
ایران کی وزارتِ خارجہ نے پیر کے روز کہا کہ جنگ کے خاتمے کے لیے طے پانے والے فریم ورک معاہدے کے باوجود تہران کو اب بھی امریکہ پر ’گہرا عدم اعتماد‘ ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ ’بدقسمتی سے یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ امریکہ پر ایران کا گہرا عدم اعتماد امریکی رہنماؤں کی طویل عرصے پر محیط غلط پالیسیوں اور اقدامات کا نتیجہ ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’امریکہ کو ایرانی عوام کا اعتماد حاصل کرنے کے لیے ابھی بہت طویل سفر طے کرنا ہے۔‘
اسماعیل بقائی نے واضح کیا کہ یہ فریم ورک معاہدہ صرف کشیدگی کم کرنے اور اس جنگ کے خاتمے کی جانب ایک قدم ہے جو فروری کے آخر میں شروع ہوئی تھی۔
انہوں نے اشارہ دیا کہ اگرچہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان تناؤ میں کمی کی جانب پیش رفت ہے، تاہم ایران اب بھی امریکہ کے ارادوں اور پالیسیوں کے بارے میں محتاط اور شکوک و شبہات کا شکار ہے۔
قبل ازیں ایک سفارتکار نے اے ایف پی کو بتایا کہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والے معاہدے پر باضابطہ دستخط سے قبل امریکہ اور ایران اس ہفتے دوحہ میں بالواسطہ ملاقاتیں کریں گے۔
نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر گفتگو کرتے ہوئے سفارتکار نے کہا نے کہا کہ ’اس ہفتے دوحہ میں دونوں فریقوں کے ساتھ علیحدہ علیحدہ ابتدائی ملاقاتیں ہوں گی، جس کے بعد سوئٹزرلینڈ میں معاہدے پر باضابطہ دستخط اور تکنیکی مذاکرات کا آغاز ہوگا۔‘
ذرائع کے مطابق قطری ثالث 17 گھنٹے طویل اور انتہائی اہم مذاکرات کے بعد تہران سے روانہ ہوئے۔ یہ مذاکرات اتوار کو شروع ہوئے تھے اور بالآخر ایک معاہدے پر اتفاقِ رائے ہو گیا۔
امریکہ اور ایران جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے ایک معاہدے پر پہنچ گئے ہیں، جس سے لڑائی شروع ہونے کے تین ماہ سے زائد عرصے بعد عالمی معیشت کو کچھ ریلیف ملنے کی توقع ہے۔
معاہدے کی تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آئیں۔
اہم ثالث پاکستان نے بتایا کہ معاہدے پر دستخط جمعہ کے روز سوئٹزرلینڈ میں ہوں گے۔ ایران کے جوہری پروگرام جیسے اہم معاملات پر بعد میں بات چیت متوقع ہے۔
پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے پیر کے روز امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے معاہدے کو ’امن کی جانب ایک تاریخی قدم‘ قرار دیا۔ ان کی حکومت گزشتہ کئی ہفتوں سے دونوں متحارب فریقوں کے درمیان ثالثی کر رہی تھی۔
پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’آج دنیا نے امن کی جانب ایک تاریخی قدم دیکھا ہے۔ جنگ کی تاریکی کے بعد امن کا سورج طلوع ہو چکا ہے۔‘
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ امریکہ کو ایرانی عوام کا اعتماد حاصل کرنے کے لیے ابھی بہت طویل سفر طے کرنا ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
اس سے قبل انہوں نے اعلان کیا تھا کہ معاہدے پر 19 جون کو جنیوا میں دستخط کیے جائیں گے۔
ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے پیر کے روز ترکی، عراق اور مصر کے وزرائے خارجہ سے علیحدہ علیحدہ ٹیلیفونک گفتگو میں کہا کہ لبنان پر اسرائیلی حملے مکمل طور پر بند ہونے چاہئیں اور جنگ کے خاتمے کے فریم ورک معاہدے پر عمل درآمد کی ذمہ داری امریکہ پر عائد ہوتی ہے۔ یہ بات ان کے ٹیلیگرام اکاؤنٹ پر جاری بیان میں کہی گئی۔
شہباز شریف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ اس معاہدے میں ’تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کے فوری اور مستقل خاتمہ‘ شامل ہے جس میں لبنان بھی ہے۔
لبنان مذاکرات میں ایک اہم رکاوٹ رہا ہے، کیونکہ حالیہ ہفتوں میں اسرائیل اور حزب اللہ نے ایک دوسرے پر حملے بند کرنے کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ اور دیگر عالمی رہنماؤں کی اپیلوں کو نظر انداز کیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی معاہدے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے آبنائے ہرمز میں ایرانی بندرگاہوں کی امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ یہ ناکہ بندی ایران کی جانب سے اس اہم آبی گزرگاہ پر کنٹرول کے ردعمل میں عائد کی گئی تھی۔
ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ’سب کو مبارک ہو۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’میں آبنائے ہرمز کو بغیر کسی محصول کے کھولنے کی مکمل اجازت دیتا ہوں، اور اسی کے ساتھ امریکی بحری ناکہ بندی کے فوری خاتمے کی بھی منظوری دیتا ہوں۔‘