Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ٹرمپ کا کہنا ہے ایران سے معاہدہ چند گھنٹوں میں متوقع، اسرائیل پر تاخیر کا الزام

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ امن معاہدہ اب بھی چند گھنٹوں میں طے پانے کی راہ پر گامزن ہے، تاہم بیروت پر اسرائیلی حملے نے اس عمل میں تاخیر پیدا کر دی ہے۔
اے ایف پی کے مطابق امریکی نیوز ویب سائیٹ ایکسیوس سے ٹیلیفونک گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’اس حملے نے معاملات کو متاثر کیا ہے۔ معاہدے پر دستخط میں چند گھنٹوں کی تاخیر ہوئی ہے۔ دستخط اب تک ہو جانے چاہئیں تھے، لیکن اب یہ چند گھنٹوں بعد متوقع ہیں۔‘
صدر ٹرمپ نے اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بیروت پر حملہ ایسے وقت میں کیا گیا جب معاہدے پر دستخط متوقع تھے۔
انہوں نے کہا کہ ’یہ بہت برا ہوا، میں یقین نہیں کر سکا۔ معاہدے پر دستخط سے صرف ایک گھنٹہ پہلے یہ حملہ کیا گیا۔‘
ایکسیوس  کے مطابق ٹرمپ نے اسرائیل کی جانب سے بیروت کے جنوبی مضافات پر حملے کے بعد نیتن یاہو سے سخت لہجے میں بات کی۔ اسرائیل کا کہنا تھا کہ یہ حملہ شمالی اسرائیل پر حزب اللہ کی فائرنگ کے جواب میں کیا گیا، جبکہ اس حملے میں تین افراد ہلاک ہوئے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے نیتن یاہو کو واضح طور پر اپنی ناراضی سے آگاہ کیا اور ان کے فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔
دوسری جانب ایران کا مؤقف ہے کہ جنگ کے خاتمے کے لیے کسی بھی معاہدے میں لبنان میں جاری تنازع بھی شامل ہونا چاہیے، جہاں اسرائیل ایران نواز تنظیم حزب اللہ کے خلاف کارروائیاں کر رہا ہے۔
اس سے قبل ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کہا تھا کہ بیروت پر اسرائیلی حملہ  کہ ن’ہیں ہونا چاہیے تھا۔
یہ بیان ایران کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آنے کے بعد دیا گیا، جس سے اس تاثر کو تقویت ملی کہ مجوزہ امن معاہدہ مشکلات کا شکار ہو سکتا ہے۔
تاہم صدر ٹرمپ نے اس بات پر زور دیا کہ معاہدہ اب بھی قریب ہے اور تمام فریقوں کو اسے ناکام بنانے سے گریز کرنا چاہیے۔
انہوں نے لکھا کہ ’ہم ایک ایسے معاہدے کے بہت قریب ہیں جو لبنان سمیت پورے خطے میں امن لا سکتا ہے اور تمام فریقوں کو کشیدگی کم کرنی چاہیے۔‘
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ ’آج صبح بیروت پر حملہ نہیں ہونا چاہیے تھا، خاص طور پر ایسے اہم دن پر۔‘
مبصرین کے مطابق ان کا اشارہ ممکنہ طور پر اسی روز معاہدے پر دستخط کی امید کی جانب تھا۔
ادھر ایران کے چیف مذاکرات کار اور پارلیمنٹ کے سپیکر باقر قالیباف نے کہا ہے کہ بیروت پر حملے نے یہ ظاہر کر دیا ہے کہ امریکہ یا تو اپنے وعدوں پر عمل درآمد کرانے کی خواہش نہیں رکھتا یا اس کی صلاحیت نہیں رکھتا۔
انہوں نے ایکس پر لکھا، ’’اگر آپ کے پاس اپنے وعدے پورے کرنے کی نہ خواہش ہے اور نہ ہی صلاحیت، تو پھر اس راستے پر آگے بڑھنے یا مذاکرات جاری رکھنے کا کوئی فائدہ نہیں۔‘‘
یاد رہے کہ اس سے قبل بیروت کے مضافاتی علاقوں پر اسرائیلی حملوں کے بعد اپریل میں ہونے والی جنگ بندی شدید دباؤ کا شکار ہو گئی تھی، جس کے جواب میں ایران نے اسرائیل پر میزائل حملے کیے تھے اور اسرائیل نے بھی جوابی کارروائی کی تھی۔
ایرانی بریگیڈیئر جنرل Mohammad Jafar Asadi نے خبردار کیا ہے کہ تازہ اسرائیلی حملہ ’’بغیر جواب کے نہیں رہے گا‘‘۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ وہ آئندہ چند گھنٹوں میں اسرائیلی سرزمین کی جانب ممکنہ حملوں کے پیشِ نظر تیاری کر رہی ہے۔
 

شیئر: