سعودی عرب کا امریکہ، ایران معاہدے کا خیرمقدم، پاکستان اور قطر کی کوششوں کو سراہا
آبنائے ہرمز 28 فروری سے پہلے والی حالت میں بحال کرنے پر زور دیا۔( فوٹو: ایس پی اے)
سعودی عرب نے امریکہ اور ایران کے درمیان فوجی کارروائیوں کے خاتمے اور 60 دن کے اندر تفصیلی مذاکرات شروع کرنے کے معاہدے کا خیر مقدم کیا ہے تاکہ ایک مستقل ایگریمنٹ تک پہنچا جا سکے۔
سعودی عرب نے پاکستان اور قطر کی جانب سے ثالثی کی کوششوں، امریکہ اور ایران کے مثبت جواب کو سراہا، جس نے معاہدے کے حصول کی راہ ہموار کی۔
ایس پی اے کے مطابق وزارت خارجہ نے پیر کو بیان میں امید ظاہر کی کہ ایک پائیدار امن معاہدہ وہ ہوگا جو خطے اور بین الاقوامی امن و سلامتی میں مدد کرے۔ علاقائی ریاستوں کے سکیورٹی مفادات کو مدنظر رکھے اور ایک دوسرے کے داخلی معاملات میں عدم مداخلت کے اصول پر قائم رہے۔
مملکت نے آبنائے ہرمز میں سکیورٹی اور فریڈم آف نیویگیشن کو 28 فروری سے پہلے والی حالت میں بحال کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
یاد رہے وزیراعظم شہباز شریف نے اتوار اور پیر کی درمیان شب اعلان کیا تھا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان طویل اور اہم مذاکرات کے بعد امن معاہدہ طے پا گیا ہے۔ م
عاہدے پر دستخط کی باضابطہ تقریب جمعہ 19 جون کو سوئٹزرلینڈ میں منعقد ہوگی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی معاہدہ طے پا نے کی تصدیق کی تھی۔
یہ معاہدہ اتوار کو لبنان پر اسرائیلی حملے کے باوجود طے پایا ہے جس پر ایران اور امریکی صدر ٹرمپ دونوں نے تنقید کی تھی۔
