ایران اور امریکہ کے درمیان امن معاہدے پر متوقع دستخط سے پہلے اسرائیل کے بیروت پر فضائی حملے
اسرائیلی فوج نے اتوار کو کہا کہ اس نے بیروت میں حزب اللہ کے انفراسٹرکچر کو نشانہ بناتے ہوئے فضائی حملے کیے ہیں، حالانکہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق حملوں کے بعد لبنانی دارالحکومت بیروت کے اوپر دھویں کے بادل اٹھتے دیکھے گئے۔
اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو کے دفتر نے کہا کہ یہ حملے شمالی اسرائیل پر حزب اللہ کی جانب سے کیے گئے حملوں کے جواب میں کیے گئے۔
اسرائیلی فوج کے مطابق، حزب اللہ نے اتوار کے روز شمالی اسرائیل کی جانب تین راکٹ فائر کیے۔ فوج کی جانب سے جاری کردہ ویڈیو میں زور دار دھماکے کی آواز سنی جا سکتی ہے جبکہ دھویں کا ایک بڑا بادل بھی اٹھتا دکھائی دیتا ہے۔
اسرائیل نے ایک ہفتہ قبل بھی بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں پر حملے کیے تھے، جس کے نتیجے میں 7 اپریل کو نافذ ہونے والی نازک جنگ بندی کے بعد سب سے سنگین کشیدگی پیدا ہوئی تھی۔ ان حملوں کے جواب میں ایران نے اسرائیل پر حملے کیے جبکہ اسرائیل نے اگلے روز ایران کو نشانہ بنایا۔
امریکہ وعدے پورے نہیں کر سکتا تو مذاکرات بے معنی ہیں، ایران
دوسری جانب ایران کے چیف مذاکرات کار اور پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے اتوار کو کہا ہے کہ اگر امریکہ اپنے وعدوں اور ذمہ داریوں پر عمل درآمد یقینی بنانے میں ناکام رہتا ہے تو اس کے ساتھ امن مذاکرات جاری رکھنے کا کوئی فائدہ نہیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق باقر قالیباف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ لبنان کے جنوبی مضافاتی علاقے ضاحیہ پر اسرائیلی حملے نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ امریکہ یا تو اپنے وعدوں پر عمل درآمد کرانے کی خواہش نہیں رکھتا یا پھر اس کی صلاحیت نہیں رکھتا۔
’صہیونیوں کی جانب سے ضاحیہ پر جارحیت نے ایک بار پھر یہ ظاہر کر دیا کہ امریکہ یا تو اپنے وعدوں کو عملی جامہ پہنانے کا ارادہ نہیں رکھتا یا پھر ایسا کرنے کی قدرت نہیں رکھتا۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’اگر آپ کے پاس اپنے وعدے پورے کرنے کی نہ خواہش ہے اور نہ ہی صلاحیت، تو پھر اس راستے پر مزید آگے بڑھنے یا مذاکرات جاری رکھنے کی کوئی وجہ باقی نہیں رہتی۔‘
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب متحارب فریقوں کے درمیان امن معاہدے کو حتمی شکل دینے کی کوششیں جاری ہیں۔
ایران کا مؤقف ہے کہ لبنان پر اسرائیلی حملوں کے بعد امریکہ نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ اپنے وعدوں اور ذمہ داریوں پر عمل درآمد کرانے میں یا تو ناکام ہے یا اس کے لیے سنجیدہ نہیں۔
