برطانیہ کی عدالت نے ’فلسطین ایکشن‘ کو دہشت گرد تنظیم قرار دے کر پر پابندی لگانے کو درست قرار دے دیا
عدالت کے باہر جاری بیان میں ہُدیٰ عموری نے کہا کہ یہ آزادیٔ اظہار اور حقِ احتجاج پر جدید برطانوی تاریخ کے شدید ترین حملوں میں سے ایک ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
برطانوی کورٹ آف اپیل نے قرار دیا کہ حکومت کا فلسطین کی حامی تنظیم ’فلسطین ایکشن‘ کو دہشت گرد تنظیم قرار دے کر اس پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ قانونی ہے، کیونکہ یہ گروپ تشدد کی حمایت کرتا ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یہ فیصلہ لندن کی اپیل کورٹ نے پیر کے روز سنایا۔
فلسطین ایکشن، جس نے برطانیہ میں اسرائیل سے منسلک دفاعی کمپنیوں کو نشانہ بنانے کی کارروائیاں تیز کر دی تھیں، خاص طور پر اسرائیل کی بڑی دفاعی کمپنی ایلبٹ سسٹیمز کو ہدف بنایا گیا، اسے گزشتہ سال انسدادِ دہشت گردی قوانین کے تحت کالعدم قرار دیا گیا تھا۔
لندن کی ہائی کورٹ نے فروری میں، تنظیم کے شریک بانی کی قانونی درخواست کے بعد، یہ قرار دیا تھا کہ پابندی آزادی اظہار میں غیر قانونی مداخلت ہے، تاہم حکومت کی اپیل تک یہ پابندی برقرار رہی۔
عدالت کا فیصلہ: پابندی ’متناسب‘ ہے
فلسطین ایکشن کی شریک بانی ہُدیٰ عموری نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ اس پابندی نے فلسطین کے حق میں آواز اٹھانے والے بڑے طبقے کے بنیادی آزادیٔ اظہار اور اجتماع کے حقوق کو سخت متاثر کیا ہے۔
تاہم اپیل کورٹ کے پانچ سینئر ججوں نے نچلی عدالت کا فیصلہ مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ اس نوعیت کی پابندی ’انتہائی متنازع‘ ہے، لیکن یہ متناسب ہے۔
ججوں نے اس دلیل کو بھی مسترد کر دیا کہ فلسطین ایکشن کو سُفریجٹس (خواتین کے حقِ رائے دہی کی تحریک)، یا نسل پرستی کے خلاف تحریکوں اور عراق جنگ مخالف مہمات جیسی پرامن تحریکوں سے تشبیہ دی جائے۔
عدالت کی چیف جسٹس سُو کیر نے کہا کہ یہ سمجھنا ایک بنیادی غلطی ہوگی کہ فلسطین ایکشن محض پرامن احتجاجی گروہ ہے۔ ان کے مطابق یہ گروپ کھلے اور شفاف احتجاج کے بجائے ایک خفیہ تنظیم کے طور پر کام کرتا ہے اور ایسے اقدامات کی حوصلہ افزائی کرتا ہے جن میں تشدد، املاک کی تباہی اور افراد کو نقصان پہنچانا شامل ہے۔
عدالت کے باہر جاری بیان میں ہُدیٰ عموری نے کہا کہ یہ آزادیٔ اظہار اور حقِ احتجاج پر جدید برطانوی تاریخ کے شدید ترین حملوں میں سے ایک ہے اور تنظیم اس فیصلے کو برطانیہ کی سپریم کورٹ اور یورپی عدالتِ انسانی حقوق میں چیلنج کرے گی۔
