Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

جنگ بندی معاہدے کے بدلے ایران کو کوئی فنڈز منتقل نہیں کیے جائیں گے: وینس

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے واضح کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ کے خاتمے اور تزویراتی طور پر اہم آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے طے پانے والے فریم ورک معاہدے کے بدلے تہران کو کوئی فنڈز جاری نہیں کیے جائیں گے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اس معاہدے کا باقاعدہ متن رواں ہفتے کے دوران پبلک کر دیا جائے گا۔
امریکی ٹیلی ویژن نیٹ ورک اے بی سی کے پروگرام ’گڈ مارننگ امریکہ‘ میں گفتگو کرتے ہوئے نائب صدر جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ جمعے کوزسوئٹزرلینڈ میں ایران کے ساتھ مفاہمت کی جس یادداشت پر دستخط متوقع ہیں، اس کے نتیجے میں ایران کے منجمد اثاثے بحال نہیں ہوں گے۔
جے ڈی وینس نے انکشاف کیا کہ اس فریم ورک معاہدے پر اتوار کو ہی ڈیجیٹل طریقے سے دستخط کیے جا چکے ہیں اور اس دوران کسی قسم کی رقم منتقل نہیں کی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ ’کوئی رقم ریلیز نہیں کی گئی اور یہ پالیسی تبدیل نہیں ہو گی۔‘
اثاثوں کی بحالی جوہری پروگرام کے خاتمے سے مشروط
امریکی نائب صدر نے واضح کیا کہ ایران کو منجمد فنڈز یا اقتصادی ریلیف صرف اسی صورت میں مل سکتا ہے جب وہ اپنے پاس موجود انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخائر کو تلف کرنے کے لیے تصدیق شدہ اور ٹھوس اقدامات اٹھائے گا۔
انٹرویو کے دوران ان کا کہنا تھا ’اگر ہم دیکھیں گے کہ ایرانیوں نے، مثال کے طور پر، افزودہ مواد کے ذخیرے کو ختم کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے ہیں، تو یقیناً پابندیوں میں نرمی کی جائے گی۔ اگر تہران ایک ایسے مانیٹرنگ اور تصدیقی نظام کی اجازت دیتا ہے جس سے ہمیں یہ یقین ہو جائے کہ وہ جوہری ہتھیار نہیں بنائیں گے، تو ہی انہیں اقتصادی ریلیف ملے گا۔‘
جے ڈی وینس نے سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے مزید کہا کہ اگر ایران نے درست اقدامات نہ کیے اور بین الاقوامی معائنہ کاروں کو تصدیق کا نظام فراہم نہ کیا، تو انہیں اپنے جوہری پروگرام کو دوبارہ کھڑا کرنے کے لیے کبھی کوئی رقم حاصل نہیں ہو سکے گی۔
آبنائے ہرمز اور تجارتی ٹول ٹیکس کا تنازع
دوسری جانب پیر کو ہی سی این بی سی کو دیے گئے ایک اور انٹرویو میں جے ڈی وینس نے عالمی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والی تجارتی گزرگاہ ’آبنائے ہرمز‘ کے مستقبل پر بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ یہ توقع رکھتا ہے کہ اس اہم بحری راستے کو طویل مدت کے لیے بغیر کسی ٹول ٹیکس یا اضافی فیس کے بحری ٹریفک کے لیے کھولا جائے گا۔

امریکہ توقع رکھتا ہے کہ آبنائے ہرمز میں غیر کسی ٹول ٹیکس یا اضافی فیس کے بحری ٹریفک کے لیے کھولا جائے گا (فائل فوٹو: اے ایف پی)

ان کا کہنا تھا کہ ’ہماری توقع یہی ہے کہ آبنائے ہرمز طویل عرصے کے لیے ٹول فری رہے گا۔ یہ وہ بنیادی امور ہیں جنہیں ہم آنے والے دنوں میں تکنیکی مذاکرات کے دوران طے کریں گے۔ اب بھی میز پر بیٹھ کر بہت سی اہم تفصیلات پر بحث کرنا اور آگے کا راستہ نکالنا باقی ہے۔‘
واضح رہے کہ امریکہ اور ایران کی جانب سے جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو کھولنے کے اعلان کے بعد عالمی مارکیٹ اور اسٹاک ایکسچینج نے سکھ کا سانس لیا ہے۔ تاہم، مبصرین کا خیال ہے کہ اس معاہدے کا مستقبل لبنان میں جاری کشیدگی کے خاتمے اور تہران کے جوہری پروگرام پر ہونے والے آئندہ کے مذاکرات سے جڑا ہوا ہے۔
فروری کے بعد سب سے بڑی سفارتی پیش رفت
اگرچہ یہ تاحال ایک ابتدائی فریم ورک معاہدہ ہے، لیکن اسے رواں سال فروری میں ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کے بعد شروع ہونے والے اس ہولناک تنازعے کو حل کرنے کی سمت میں سب سے بڑی سفارتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ اس جنگ کے نتیجے میں اب تک ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور عالمی توانائی کی مارکیٹ شدید بحران کا شکار رہی ہے۔
نائب صدر جے ڈی وینس نے بتایا کہ جمعے کو سوئٹزرلینڈ میں ہونے والی باقاعدہ دستخطوں کی تقریب میں ایران کی نمائندگی وہاں کے وزیرِ خارجہ اور پارلیمنٹ کے سپیکر کریں گے۔ تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ اس اہم سفارتی تقریب میں امریکہ کی جانب سے کون شریک ہو گا۔

شیئر: