رمضان کا آخری عشرہ، مکہ اور مدینہ میں آپریشنل پلان کے تحت 18 ہزار اہلکار تعینات
خدامت کی فراہمی کی نگرانی کے لیے فلیڈ ٹیمیں بھی تعینات ہیں۔(فوٹو: ایس پی اے)
سعودی عرب میں رمضان المبارک کے آخری عشرے کے لیے تیاریاں تیز کردی گئی ہیں۔ مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ میں جامع آپریشنل پلان پرعمل درآمد کیا جا رہا ہے۔
سعودی خبرساں ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق دونوں مقدس شہروں کی میونسپلٹی نے آپریشنل پلان کے تحت 18 ہزار اہلکار، 6 ہزار گاڑیاں اور ڈیوائسز مخصوص کی ہیں۔
ادارہ امور حرمین نے زائرین کے آرام اور روحانی طور پر بھر پور تجربے کو یقینی بنانے کے لیے رہنمائی، تنظیم، ہیلتھ کیئر، ترجمے، مہمان نوازی سمیت متعدد خدمات فراہم کی ہیں۔
آمد ورفت کے رااستوں کو منظم کرنے اور خدامت کی فراہمی کی نگرانی کے لیے فلیڈ ٹیمیں بھی تعینات ہیں۔
وزارت بلدیات نے بتایا آپریشنل منصوبے کے تحت صفائی کے کاموں کو منظم کرنے کے لیے نگران ٹیمیں مقرر کی گئی ہیں۔
مکہ ریجن کی بلدیہ کا کہنا ہے مسجد الحرام کے مرکزی علاقے اور اطراف میں صفائی کے لیے 13 ہزاراہلکاروں کو متعین کیا گیا ہے۔
بلدیہ نے شہر کے پانچ مقامات پر کار پارکنگ کا انتظام ہے جہاں 42 ہزار کے قریب گاڑیاں بیک وقت پارک کی جاسکتی ہیں جس کا مقصد مسجد الحرام اور مرکزی ایریا میں ٹریفک کی روانی کو بحال رکھنا ہے۔
مدینہ منورہ میں بھی بلدیہ کی جانب سے رمضان المبارک کے آخری عشرے کے حوالے سے جامع آپریشنل پلان پر عمل درامد کیا جا رہا ہے۔
صفائی منصوبے کے تحت 5 ہزار سے زائد کارکن تعینات ہیں جبکہ بلدیہ کی تفتیشی ٹیمیں اشیائے خورونوش کی دکانوں اور مارکیٹوں کے تفتیشی دورے کررہی ہیں۔
