ریاض: باہم جڑی فلپائنی بچیوں کا پیچیدہ ترین آپریشن 24 گھنٹے میں مکمل ہوگا
جمعرات 23 اپریل 2026 18:15
سعودی کونجوئنڈ ٹوئنز پروگرام کا آغاز 1990 میں کیا گیا تھا (فوٹو: ایس پی اے)
سعودی کونجوئنڈ ٹوئنز پروگرام کی میڈیکل اور سرجیکل ٹیم نے جمعرات کو باہم جڑے فلپائنی بچیوں ’کلیا اور موریس این‘ کو علیحدہ کرنے کے آپریشن کا آغاز کیا ہے۔
اسے دنیا کی اپنی نوعیت کی پیچیدہ سرجریوں میں سے ایک کہا جا رہا ہے، آپریشن 24 گھنٹے میں مکمل ہونے کی توقع ہے۔
یہ بچیاں پہلی مرتبہ 17 مئی 2025 مملکت پہنچں تھیں، تفصیلی طبی معائنے نے ان کے کیس کی پیچیدہ نوعیت کو اجاگر کیا۔
یہ کئی طبی عوامل کی وجہ سے اہم ہے، جن میں ایک دوسرے جڑے ہوئے سروں کا پیچیدہ زاویہ، دماغی وینس سائنوس کا وسیع اشتراک اور دماغی ٹیشوز کا اوور لیپ ہونا شامل ہیں۔
ایک بچی ’کلیا‘ کو دل کی کمزوری اور گردے فیل ہونے کا بھی سامنا ہے، جس سے سرجری کا خطرہ مزید بڑھ گیا۔
ریاض کے کنگ عبداللہ سپیشلائزڈ چلڈرن ہسپتال میں پیڈیا ٹرک نیورو سرجری کنسلٹنٹ ڈاکٹر معتم الزعبی کی سربراہی میں سر جیکل ٹیم نے پانچ مراحل میں آپریشن فیصلہ کیا۔
میڈیکل ٹیم 30 افراد پر مشتمل ہے، جس میں کنسلٹنٹ کے علاوہ نرسنگ اور ٹیکنیکل سٹاف، اینستھیزیا، انتہائی نگہداشت، جدید ریڈیو لوجی اور پلاسٹک سرجری کے ماہرین شامل ہیں۔

ڈاکٹر الربیعہ نے بتایا کہ ’کیس سے منسلک طبی چیلنجوں کی وجہ سے خطرے کی شرح 50 فیصد تک ہے۔ شدید اعصابی پیچیدگیوں اور ممکنہ معذوری کا خطرہ 60 فیصد تک ہے۔‘
یاد رہے کہ سعودی کونجوئنڈ ٹوئنز پروگرام کا آغاز 1990 میں کیا گیا تھا۔
پروگرام کے تحت اب تک پانچ براعظموں کے 28 ممالک کے 157 کیسز کا جائزہ لیا گیا جن مین 69 جڑے ہوئے بچوں کو کامیابی سے الگ کیا گیا۔ انہیں مکمل دیکھ بھال فراہم کی جس میں نفسیاتی، سماجی اور تعلیمی مدد بھی شامل ہے۔
