Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

لیڈی ڈیانا کے ’مسٹر ونڈرفل‘ اب پاکستان میں: ڈاکٹر حسنات خان کی نئی ذمہ داریاں

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں صحت کے شعبے میں ایک بڑی اور اہم تبدیلی اس وقت سامنے آئی جب عالمی شہرت یافتہ کارڈیوتھوراسک سرجن ڈاکٹر حسنات خان کو نو تعمیرشدہ جناح انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کا پہلا ڈین مقرر کر دیا گیا۔ 
بظاہر تو یہ ایک سرکاری تعیناتی ہے لیکن اس کے پیچھے دہائیوں پر محیط ایک ایسی داستان بھی ہے جس میں پیشہ ورانہ مہارت، بین الاقوامی شہرت اور انسانی ہمدردی کے جذبے یکجا نظر آتے ہیں۔ 
حکومت پنجاب کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ اور وزیراعلٰی پنجاب مریم نواز شریف کے ساتھ ڈاکٹر حسنات خان کی حالیہ ملاقات نے طبی حلقوں اور عوامی سطح پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ 
یہ تعیناتی ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب پنجاب حکومت صوبے میں علاج معالجے کی سہولیات کو بین الاقوامی معیار کے مطابق ڈھالنے کے دعوے کر رہی ہے۔ 
ڈاکٹر حسنات خان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے۔ ان کی شہرت کے دو بڑے پہلو ہیں، ایک ان کی سرجری کی دنیا میں غیر معمولی مہارت اور دوسرا ان کا برطانوی شاہی خاندان کی سابقہ بہو لیڈی ڈیانا کے ساتھ گہرا تعلق۔ 
ڈاکٹر حسنات خان کا تعلق جہلم سے ہے لیکن انہوں نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا بڑا حصہ برطانیہ کے معروف ہسپتالوں میں گزارا جہاں انہوں نے دل کے پیچیدہ آپریشنز میں وہ نام کمایا جو بہت کم ڈاکٹروں کے حصے میں آتا ہے۔ 
سنہ 1990 کی دہائی میں جب وہ لندن کے رائل برومپٹن ہسپتال میں خدمات انجام دے رہے تھے، تب ان کی ملاقات لیڈی ڈیانا سے ہوئی جو اپنے ایک دوست کے آپریشن کے سلسلے میں وہاں موجود تھیں۔ 
یہیں سے ان کی دوستی کا وہ سفر شروع ہوا جس نے عالمی میڈیا کی توجہ حاصل کی۔ لیڈی ڈیانا انہیں پیار سے ’مسٹر ونڈرفل‘ کہا کرتی تھیں اور کہا جاتا ہے کہ وہ ان کی سادگی اور انسانیت کی خدمت کے جذبے سے بے حد متاثر تھیں۔ 
یہاں تک کہ شہزادی ڈیانا نے ڈاکٹر حسنات کے خاندان سے ملنے کے لیے پاکستان کے نجی دورے بھی کیے تھے، تاہم ڈاکٹر حسنات خان ہمیشہ ایک لو پروفائل شخصیت رہے اور انہوں نے کبھی بھی اس تعلق کو اپنی تشہیر کے لیے استعمال نہیں کیا، بلکہ ہمیشہ اپنے کام اور پیشہ ورانہ اخلاقیات کو ترجیح دی۔
میڈیکل کمیونٹی میں ڈاکٹر حسنات خان کا پیشہ ورانہ کیریئر کئی دہائیوں کی سخت محنت اور تحقیق سے عبارت ہے۔ انہوں نے برطانیہ کے معروف طبی اداروں میں سینیئر کنسلٹنٹ کے طور پر کام کیا اور ہزاروں مریضوں کی جانیں بچائیں۔
ان کی مہارت خاص طور پر ہارٹ ٹرانسپلانٹ اور پھیپھڑوں کی سرجری میں مانی جاتی ہے۔ پاکستان واپسی اور یہاں کے نظام میں شامل ہونے کا فیصلہ ان کے ایک دیرینہ خواب کی عکاسی کرتا ہے۔
اس خواب کا تذکرہ وہ اکثر نجی محفلوں میں کیا کرتے تھے کہ وہ اپنی زندگی کے آخری سال اپنے ہم وطنوں کی خدمت میں گزارنا چاہتے ہیں۔ اب جبکہ انہیں جناح انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کی ذمہ داری سونپی گئی ہے، تو طبی ماہرین اسے لاہور میں امراض قلب کے علاج کے حوالے سے ایک گیم چینجر قرار دے رہے ہیں۔
ڈاکٹر حسنات کو کس ہسپتال میں تعینات کیا گیا؟
جناح انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی جس کے وہ اب ڈین مقرر ہوئے ہیں، خود بھی اپنی تعمیر اور نام کے حوالے سے خبروں کی زینت رہا ہے۔ اس ہسپتال کا منصوبہ لاہور کی بڑھتی ہوئی آبادی اور دل کے مریضوں کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے شروع کیا گیا تھا۔ 
یہ سٹیٹ آف دی آرٹ ادارہ جدید ترین مشینری اور بین الاقوامی معیار کے آپریشن تھیٹرز سے لیس ہے، تاہم اس کے افتتاح سے قبل ایک تنازع اس وقت پیدا ہوا جب سوشل میڈیا اور بعض حلقوں میں یہ افواہ پھیلی کہ اس کا نام تبدیل کر کے مریم نواز انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی رکھا جا رہا ہے۔ 
اس خبر نے سیاسی اور عوامی سطح پر کافی ردعمل پیدا کیا جس کے بعد حکومت پنجاب کو باقاعدہ وضاحت جاری کرنا پڑی کہ ادارے کا نام جناح انسٹی ٹیوٹ ہی رہے گا اور نام کی تبدیلی کے حوالے سے تمام خبریں بے بنیاد ہیں۔
 حکومت کا موقف تھا کہ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے نام سے منسوب اس ادارے کی شناخت کو برقرار رکھا جائے گا اور اسے سیاست کی نذر نہیں کیا جائے گا۔ 
حکومت کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر حسنات خان کی تعیناتی کا عمل مکمل طور پر شفاف رکھا گیا ہے۔ اس حوالے سے صوبائی وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق نے اردو نیوز کو تفصیلات سے آگاہ کیا۔
وہ کہتے ہیں کہ ’محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن نے ڈین کی اسامی کے لیے باقاعدہ اشتہار دیا تھا، جس کے جواب میں ڈاکٹر حسنات نے بھی درخواست جمع کرائی۔ جے آئی سی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے تمام امیدواروں کے کوائف اور تجربے کا جائزہ لینے کے بعد ڈاکٹر حسنات کے نام کی سفارش کی، جسے وزیراعلٰی پنجاب نے منظور کر لیا۔‘
اسی طرح سیکرٹری صحت پنجاب عظمت محمود کا کہنا ہے کہ ’ہر تعیناتی کے لیے مقررہ معیار کو سختی سے فالو کیا گیا ہے تاکہ کسی بھی قسم کے اعتراض کی گنجائش نہ رہے۔‘ ’ڈاکٹر حسنات جیسے قابل ماہر کی موجودگی سے نہ صرف مریضوں کو فائدہ ہوگا بلکہ نوجوان ڈاکٹروں کو بھی ان کے تجربے سے سیکھنے کا موقع ملے گا۔‘ 
تعیناتی کے بعد وزیراعلٰی پنجاب مریم نواز شریف نے ڈاکٹر حسنات خان کے ساتھ ملاقات بھی کی ہے۔ اس ملاقات میں مریم نواز نے ڈاکٹر حسنات کو نئی ذمہ داری سنبھالنے پر مبارکباد دی اور ان کے جذبے کی تعریف کی کہ انہوں نے انگلینڈ جیسے ملک کی آسائشیں چھوڑ کر اپنے ہم وطنوں کے لیے کام کرنے کو ترجیح دی۔
ملاقات کے دوران ہسپتال کے انتظامی امور اور اسے دنیا کا بہترین ادارہ بنانے کے حوالے سے بھی تفصیلی مشاورت ہوئی۔ وزیراعلٰی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پنجاب حکومت صوبے کو میڈیکل ٹورازم کا مرکز بنانا چاہتی ہے جہاں نہ صرف پاکستان بلکہ بیرون ملک سے بھی لوگ علاج کے لیے آئیں، اور اس مقصد کے لیے جناح انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کو ایک ماڈل کے طور پر پیش کیا جائے گا۔

شیئر: