Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ریاض میں سعودی عرب کے پہلے ڈبلیو ہوٹل کا افتتاح

اس ہوٹل میں 210 کمرے ہیں جن میں 17 سویٹ اور دو پینٹ ہاؤس بھی ہیں (فوٹو: میریٹ)
ریاض کے کنگ عبداللہ فنانشل ڈسٹرکٹ (کے اے ایف ڈی) میں پہلے ڈبلیو ہوٹل کا افتتاح ہو گیا ہے جس کے بعد سعودی عرب میں اس ہوٹل چین کا باقاعدہ آغاز ہوگیا ہے۔
عرب نیوز کے مطابق کے اے ایف ڈی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ہوٹل کے افتتاح کا ہونا ڈسٹرکٹ کی مہمان نوازی کو گہرا کرنے اور اس کے بطور کاروبار اور سیاحت کے لیے بہترین مقام کے طور پر منوانے کی علامت ہے۔
فنانشل ڈسٹرکٹ کا ماسٹر پلان 2007 میں تیار کیا گیا تھا جس کے بعد یہ وژن 2030 کے تحت ترقی کے کئی مقاصد کے طور پر ابھر رہا ہے۔
اس کے علاوہ ڈسٹرکٹ میں حالیہ دنوں میں کھلنے والے ہوٹل چینز کی برانچوں میں کمپٹن کے اے ایف ڈی ریاض شامل ہے جس کا افتتاح ستمبر 2025 میں ہوا تھا۔
اکتوبر 2025 میں فیوچر انویسٹمنٹ انیشیٹیو کانفرنس کے دوران ہلٹن کے ساتھ بھی ہوٹل مینیجمنٹ کا معاہدہ کیا گیا تھا جس میں کے اے ایف ڈی میں 450 کمروں پر مشتمل ہوٹل کا قیام تھا۔
یہ نیا ہوٹل کے اے ایف ڈی کے دفاتر، رہائشی علاقوں، دکانوں اور ثقافتی مراکز کے بالکل قریب ہے۔ اس کے علاوہ یہاں سے کے اے ایف ڈی میٹرو اور کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ تک بھی رسائی حاصل کی جا سکتی ہے۔
اس ہوٹل میں 210 کمرے ہیں جن میں 17 سویٹ اور دو پینٹ ہاؤس بھی ہیں۔
یہاں سات مختلف ریستوران اور لاؤنجز بنائے گئے ہیں جن میں لاطینی امریکہ کا ریستوران سِیرا بھی شامل ہے جہاں کھلی آگ پر کھانا بنایا جاتا ہے جبکہ بینی آل ڈے کافی سے کرافٹ کافی اور آئس کریم ملتی ہے جبکہ ویٹ ڈیک نامی اوپن ایئر پول سائڈ سے بحیرۂ روم کے کھانوں کا ذائقہ لیا جا سکتا ہے۔

یہ نیا ہوٹل کے اے ایف ڈی کے دفاتر، رہائشی علاقوں، دکانوں اور ثقافتی مراکز کے بالکل قریب ہے (فوٹو: میریٹ)

اس ہوٹل میں ایک ہزار مربع میٹر سے زیادہ کا ایونٹ سپیس ہے۔
کے اے ایف ڈی ڈی ایم سی کے چیف کمرشل آفیسر سلطان العبیدہ کہتے ہیں کہ ’ہم کے اے ایف ڈی میں ڈبلیو ہوٹل کو مملکت میں ڈیبیو کرنے پر خوش آمدید کہتے ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’ڈبلیو ریاض کے کھلنے سے عالمی برینڈز کو اپنی جانب راغب کرنے کی ہماری مسلسل صلاحیت کی عکاسی ہوتی ہے جس سے ڈسٹرکٹ کا بزنس اور لائف سٹائل ایکوسسٹم بڑھتا ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’چونکہ سعودی عرب 2030 تک 15 کروڑ سیاحوں کی سالانہ آمد کا ہدف رکھتا ہے اور سیاحت کا ملکی معیشت میں حصہ 10 فیصد ہونے کی توقع ہے تو ہائی کوالٹی اور مرکزی ہوٹلوں کی مانگ میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔‘

 

شیئر: