Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

جہاز رانی اور آئل انفراسٹرکچر پر ایرانی حملے، عالمی منڈی میں تیل مہنگا

ایرانی حملوں کے تسلسل نے جمعرات کو عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچا دی جبکہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر فضائی حملوں کا سلسلہ بھی جاری رہا اور جنگ کے خاتمے کے آثار کہیں دکھائی نہیں دے رہے۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ایران نے دبئی کے ساحل کے قریب ایک کنٹینر جہاز کو نشانہ بنایا، بحرین کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قریب آگ بھڑک اٹھی، سعودی عرب کے ایک بڑے تیل کے میدان پر ڈرون حملہ کیا گیا جبکہ خلیج عرب میں واقع بصرہ بندرگاہ پر حملے کے بعد عراق کو اپنے تمام آئل ٹرمینلز پر کام معطل کرنا پڑا۔
ایران نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک روز قبل منظور ہونے والی اس قرارداد کو بھی نظر انداز کر دیا جس میں خلیجی ہمسایہ ممالک پر حملے روکنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اس کے باوجود کویت اور متحدہ عرب امارات میں بھی نئے حملوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔
اسرائیل نے کہا کہ ایران سے داغے گئے میزائلوں کو روکنے کی کوشش کی جا رہی ہے جس کے بعد علی الصبح سے پہلے یروشلم میں خطرے کے سائرن گونج اٹھے۔ اسرائیل نے یہ بھی اعلان کیا کہ اس نے تہران پر ’وسیع پیمانے پر حملوں کی نئی لہر‘ شروع کر دی ہے۔ لبنان میں، جہاں اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ ایران سے منسلک حزب اللہ کے جنگجوؤں کو نشانہ بنا رہا ہے، علی الصبح ہونے والے دو حملوں میں 11 افراد ہلاک ہو گئے۔
28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے کے بعد شروع ہونے والی جنگ کے جواب میں تہران نے ایسی حکمت عملی اختیار کی ہے جس کا مقصد عالمی معیشت پر اتنا دباؤ ڈالنا ہے کہ دونوں ممالک اپنے حملے روکنے پر مجبور ہو جائیں۔
خطے میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کے علاوہ ایران آبنائے ہرمز پر بھی مؤثر گرفت رکھتا ہے۔ یہ خلیج عرب سے بحر ہند تک جانے والا اہم سمندری راستہ ہے جس سے دنیا کے تقریباً پانچواں حصہ تیل گزرتا ہے۔
آبنائے ہرمز میں جہاز رانی عملاً رک جانے کے باعث جمعرات کو عالمی معیار سمجھے جانے والے برینٹ کروڈ کی قیمت میں مزید 9 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی جو جنگ شروع ہونے کے وقت کے مقابلے میں تقریباً 38 فیصد زیادہ ہے۔

خطے میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کے علاوہ ایران آبنائے ہرمز پر بھی مؤثر گرفت رکھتا ہے (فوٹو: اے ایف پی)

خلیجی عرب ممالک پر ایرانی حملے، خلیج میں جہاز کو بھی نشانہ بنایا گیا
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے بدھ کے روز ایک قرارداد منظور کی تھی جس میں ایران سے خلیجی پڑوسی ممالک پر اس کے ’سنگین حمل‘ فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا گیا تاہم تہران نے اپنی حکمت عملی میں تبدیلی کے کوئی آثار نہیں دکھائے۔
جمعرات کو خلیج عرب میں دبئی کے ساحل کے قریب ایک کنٹینر جہاز پر نامعلوم شے سے حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں معمولی آگ لگ گئی۔ برطانوی فوج کے یونائیٹڈ کنگڈم میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز سینٹر کے مطابق جہاز کا عملہ محفوظ رہا۔
بحرین میں ایران کے ایک ابتدائی حملے کے نتیجے میں محرق جزیرے پر بڑی آگ بھڑک اٹھی جہاں ملک کا بین الاقوامی ہوائی اڈہ واقع ہے۔ حکام نے شہریوں کو دھوئیں سے بچنے کے لیے گھروں میں رہنے اور کھڑکیاں بند رکھنے کی ہدایت کی۔ اس علاقے میں جیٹ فیول کے ٹینک موجود ہیں جبکہ دیگر ذخائر مملکت کی آئل انڈسٹری سے منسلک ہیں۔
کویت کی وزارتِ دفاع نے بتایا کہ ایک ایرانی ڈرون رہائشی عمارت سے ٹکرا گیا جس سے دو افراد زخمی ہو گئے۔ متحدہ عرب امارات کے مطابق دبئی کو حملوں سے بچانے کے لیے فضائی دفاعی نظام دو مرتبہ فعال کیا گیا، جبکہ دبئی کریک ہاربر کے ایک ٹاور میں ڈرون گرنے سے لگنے والی آگ کو فائر فائٹرز نے بجھا دیا۔
سعودی عرب نے کہا کہ اس نے دارالحکومت ریاض کے سفارتی علاقے کو نشانہ بنانے والے ایک ڈرون کو مار گرایا جبکہ مملکت کے مشرقی علاقوں میں بھی کئی ڈرون تباہ کیے گئے، جن میں کم از کم ایک الربع الخالی کے صحرا میں واقع شیبہ آئل فیلڈ کو نشانہ بنانے کی کوشش کر رہا تھا۔
عراق کی بصرہ بندرگاہ پر حملے میں کم از کم ایک شخص کی ہلاکت کے بعد حکام نے جمعرات کو بتایا کہ ملک کے تمام آئل ٹرمینلز پر کام عارضی طور پر روک دیا گیا ہے۔
عراق کی جنرل کمپنی فار پورٹس کے ڈائریکٹر جنرل فرحان الفرتوسی کے مطابق حملہ خلیج عرب میں واقع بندرگاہ کے اس حصے میں ایک جہاز پر کیا گیا جہاں جہاز سے جہاز میں تیل منتقل کیا جاتا ہے۔

لبنان میں  علی الصبح ہونے والے دو اسرائیلی حملوں میں 11 افراد ہلاک ہو گئے (فوٹو: اے ایف پی)

یروشلم میں دھماکے، لبنان اور تہران پر اسرائیلی حملے
یروشلم اور اسرائیل کے دیگر علاقوں میں آدھی رات کے فوراً بعد خطرے کے سائرن بجنے لگے اور زور دار دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے تہران پر ’وسیع پیمانے کے نئے حملوں‘ کا آغاز کر دیا ہے۔
رات بھر ایران اور حزب اللہ کی جانب سے داغے گئے میزائلوں کے باعث تل ابیب سمیت کئی علاقوں اور لبنان سے متصل شمالی سرحدی علاقوں میں اسرائیلی شہریوں کو پناہ گاہوں کا رخ کرنا پڑا۔
جمعرات کو بیروت کے ساحلی سیاحتی علاقے رملۃ البیضا میں ایک گاڑی اسرائیلی حملے کا نشانہ بنی، جہاں درجنوں بے گھر افراد نے پناہ لے رکھی تھی۔ لبنانی وزارت صحت کے مطابق اس حملے میں آٹھ افراد ہلاک اور 31 زخمی ہوئے۔ اسرائیلی فوج کے پریس آفس نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ اسے اس مقام پر کسی حملے کا علم نہیں۔
بیروت سے تقریباً 10 کلومیٹر جنوب میں واقع قصبے آرامون میں بھی اسرائیل کے ایک اور علی الصبح حملے میں تین افراد ہلاک اور ایک بچہ زخمی ہوا۔

جمعرات کو عالمی معیار سمجھے جانے والے برینٹ کروڈ کی قیمت میں مزید 9 فیصد اضافہ ہوا (فوٹو: اے ایف پی)

جاری جنگ میں ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ
لبنان کی وزارت صحت کے مطابق حالیہ لڑائی شروع ہونے کے بعد سے ملک میں کم از کم 634 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کا کہنا ہے کہ لبنان میں کم از کم 7 لاکھ 59 ہزار افراد اندرونِ ملک بے گھر ہو چکے ہیں۔
ایرانی حکام کے مطابق وہاں 1,300 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ اسرائیل میں 12 افراد کی موت کی تصدیق کی گئی ہے۔ امریکہ کے سات فوجی ہلاک اور آٹھ شدید زخمی ہوئے ہیں۔

شیئر: