Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ابہا میں موسم بہار کی دلکشی، قطار در قطار ’جکرانڈا‘ کے درخت

یہاں کی سڑکیں اور پارکس دلکش مناظر میں تبدیل ہوگئی ہیں۔ (فوٹو: ایس پی اے)
عسیر ریجن کے پہاڑی سلسلے میں ان دنوں موسم بہار کی دلکشی عروج پر ہے جو فطرت، ثقافت اور معیار زندگی یکجا کرتا ہے۔
ابھا شہر ان دنوں ’جکرانڈا‘ کے درختوں پر کھلنے والے بنفشی پھولوں کا مشاہدہ کر رہا ہے، یہاں کی سڑکیں اور پارکس دلکش مناظر میں تبدیل ہوگئی ہیں۔ 
ایس پی اے کے مطابق یہ مناظر عیسر ریجن کے پہاڑی ماحول کی عکاسی کرتے ہیں۔ ابہا شہر موسمی سیاحتی منزل کے طور پر سیاحوں کے لیے باعث کشش ہے۔
شہر کی شاہراہوں اور مختلف راستوں پر ’جکرانڈا‘ کے درخت قطار در قطار لگے ہیں جن پر کھلنے والے پھول فٹ پاتھوں پر گرتے ہیں تو قدرتی راہداری کی صورت اختیار کرلیتے ہیں۔
یہ دلکش نظارے یہاں کے رہائشیوں اور سیاحوں دونوں کو اپنی جانب متوجہ کرتے ہیں۔ موسمِ بہار سے لطف اندوز ہونے کےلیے لوگ بڑی تعداد میں یہاں کا رخ کرتے ہیں۔

ان قدرتی مناظر کو اپنے کیمروں میں قید کرنے کے لیے فوٹو گرافر اور کانٹینٹ کری ایٹرز بھی یہاں موجود ہیں۔
عسیر ریجن کی میونسپلٹی کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ ابھا شہر میں ’جکرانڈا‘ کے درختوں کی تعداد 14 ہزار سے بڑھ چکی ہے۔ یہ اقدام شہری منظر نامے کو بہتر بنانے اور سبزہ زاروں میں اضافے کےلیے جاری کوششوں کا حصہ ہے۔
 سڑکوں کے کنارے اور چوراہوں پر شجر کاری میں اضافے کا منصوبہ ہے جو ماحولیاتی پائیداری اور معیار زندگی کے اہداف کے مطابق ہے، اس سے شہر کا حسن  مزید نکھرے گا۔

 شجرکاری کے منصوبوں سے نہ صرف سبزے میں اضافہ ہوا بلکہ علاقے کی آب و ہوا میں بہتری کا ہدف بھی حاصل کیا گیا۔
ابھا میں موسم بہار ماحولیاتی سیاحت کےلیے اہم ہے، مملکت کے مختلف علاقوں اور بیرون ملک سے سیاح یہاں کا رخ کرتے ہیں۔

علاوہ ازیں کنگ خالد یونیورسٹی نے اس موسم کے ساتھ مختلف سرگرمیوں کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے جن میں ’انٹرنیشنل جکرانڈا ریس‘ شامل ہے۔
اس ریس میں 10، 21 اور 50 کلومیٹر کے ٹریکس بنائے گئے ہیں، ریس جیتنے والوں کو انعامات بھی دیے جاتے ہیں۔ 
یونیورسٹی نے طلبا اور عملے کےلیے واک اور دیگر تفریحی و تعلیمی سرگرمیوں کا بھی اہتمام کیا ہے، جس میں ماحولیاتی تحفط کی اہمیت اور خطے کے قدرتی وسائل کے پائیدار استعمال کو اجاگر کیا گیا۔

 

شیئر: