پاکستان میں لاکھوں روپے کی سرمایہ کاری سے چھتوں پر سولر پینلز لگانے والے نئے صارفین اس وقت بجلی کے زیادہ بل آنے کی شکایت کر رہے ہیں۔
نیپرا کی فروری 2026 کی نئی پالیسی کے بعد ’نیٹ بلنگ‘ کے نظام کے تحت رجسٹر ہونے والے ان صارفین کو ماضی کے متبادل توانائی استعمال کرنے والوں کے برعکس اپنے بلوں میں غیر متوقع اور نمایاں اضافہ دیکھنا پڑا ہے۔
وہ شہری جو یہ سمجھ رہے تھے کہ سولر پینلز لگوانے کی بدولت ان کے ماہانہ بجٹ پر بوجھ کم ہو جائے گا، اب اس نئی ریگولیٹری تبدیلی کے بعد تشویش کا شکار ہیں کیونکہ ان کے بلوں کی رقم توقعات سے کہیں زیادہ ہے۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے رہائشی ساجد حسین کو بھی اسی قسم کی صورتِ حال کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جنہوں نے گزشتہ سال کے آخر میں اپنے گھر پر سولر سسٹم لگوایا اور نیٹ میٹرنگ کے لیے درخواست دی۔ لیکن وہ اس بات سے بالکل بے خبر تھے کہ جب تک ان کی درخواست منظور ہوگی، تب تک حکومت سولر کی پوری پالیسی ہی بدل چکی ہوگی۔
مزید پڑھیں
فروری 2026 کے بعد جب انہیں کنیکشن ملا، تو ان پر پرانے قوانین کے بجائے ’نیٹ بلنگ‘ کا نیا نظام لاگو کر دیا گیا۔
ساجد حسین کہتے ہیں کہ ’ہمیں حکومت کے ساتھ اس معاہدے کا اب کوئی فائدہ نہیں ہو رہا۔ دن کو ہماری سستی بجلی گرڈ لے لیتا ہے، لیکن رات کو جو بجلی ہم استعمال کرتے ہیں، وہ ہمیں عام شہریوں کی طرح مہنگے نرخوں پر ہی ملتی ہے۔‘
اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’اس نئی پالیسی کی وجہ سے مئی کے مہینے میں ان کا بل توقع سے 10 سے 15 روپے زیادہ آیا ہے۔‘

وہ لاکھوں روپے خرچ کرنے کے بعد بھی بھاری بل ملنے پر اب اس اُلجھن میں ہیں کہ حکومت کے ساتھ یہ معاہدہ چلائیں یا پھر سرکاری گرڈ سے کنکشن کاٹ کر اپنے سولر کو مکمل طور پر الگ (آف گرڈ) کر لیں۔
نئے سولر صارفین کے بل زیادہ کیوں آ رہے ہیں؟
صارفین کے بلوں میں اضافے کی سب سے بڑی وجہ نیٹ میٹرنگ سے نیٹ بلنگ پر منتقلی ہے۔ ماہرین اس فرق کو ’یونٹ کے بدلے یونٹ‘ اور ’پیسے کے بدلے پیسے‘ کا تبادلہ قرار دیتے ہیں۔
واضح رہے کہ اس سے قبل سولر صارفین کو گرڈ کو دی جانے والی اضافی بجلی پر تقریباً 22 سے 27 روپے فی یونٹ تک کا کریڈٹ ملتا تھا، جو کہ درآمدی یونٹس کی قیمت کے کافی قریب تھا۔
جبکہ نئے نظام کے تحت اب صارفین کے ساتھ یونٹس کا تبادلہ نہیں ہو رہا۔ دن کے وقت جب آپ کی سولر بجلی گرڈ کو جاتی ہے، تو کمپنی اسے نیشنل ایوریج انرجی پرچیز پرائس کے مطابق 11 سے 13 روپے فی یونٹ میں خریدتی ہے۔ لیکن رات کے وقت یا ضرورت پڑنے پر جب آپ گرڈ سے بجلی لیتے ہیں تو کمپنی آپ کو وہ موجودہ قیمت یعنی 37 سے 55 روپے فی یونٹ کے حساب سے بیچتی ہے۔
صارفین کے بل کیسے زیادہ آ رہے ہیں؟
پاکستان میں سولر صارفین کے بل پہلے کی نسبت زیادہ آنے کے معاملے پر ہم نے اسلام آباد میں پاور سیکٹر اور بلنگ امور کے ماہر محمد حسین سے گفتگو کی ہے۔
انہوں نے اردو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ’نیٹ میٹرنگ نظام کے تحت اب سولر صارفین اور عام صارفین کے بلوں میں کوئی خاص فرق نہیں رہا۔‘
انہوں نے مثال دیتے ہوئے واضح کیا کہ ’کوئی صارف اگر دن بھر میں اپنی ضرورت سے زائد 50 یونٹ گرڈ کو فراہم (فروخت) کرتا ہے، تو موجودہ نرخوں کے مطابق اسے قریباً 12 روپے فی یونٹ کے حساب سے 600 روپے کا کریڈٹ ملتا ہے۔‘

’لیکن رات کے وقت یا ابر آلود موسم میں جب وہی صارف گرڈ سے اپنے استعمال کے 50 یونٹ واپس لیتا ہے، تو نان پروٹیکٹڈ سلیب کے مہنگے نرخوں، ٹیکسوں اور تھری فیز میٹر کے فکسڈ چارجز کے باعث اس کا بل 2,000 روپے کے قریب بن جاتا ہے۔ یوں نیٹ میٹرنگ کے پرانے نظام کے برعکس، جہاں یہ بل صفر ہو جاتا تھا، اب نئے نیٹ بلنگ سسٹم میں یونٹس برابر ہونے کے باوجود اسلام آباد کے اس شہری کو تقریباً 1,400 روپے کا نقد بل ادا کرنا پڑ رہا ہے۔‘
توانائی کے ماہرین کے مطابق نئے قوانین کا اطلاق فی الحال صرف فروری 2026 کے بعد آنے والے نئے صارفین پر ہو رہا ہے، جبکہ پرانے سولر صارفین اب بھی کسی حد تک ریلیف میں ہیں۔
نئی پالیسی سے پہلے اپنے معاہدے مکمل کرنے والے صارفین کے لیے ’یونٹ کے بدلے یونٹ‘ کا پرانا نظام برقرار ہے۔ یعنی دن کے وقت گرڈ کو دیے گئے سستے یونٹس رات کے وقت واپس لیے گئے مہنگے یونٹس کو برابر (آف سٹ) کر دیتے ہیں، جس کی وجہ سے ان پرانے صارفین کے ماہانہ بل اب بھی یا تو بالکل صفر آ رہے ہیں یا پھر انہیں صرف تھری فیز میٹر کے بنیادی فکسڈ چارجز اور ٹیکسز ہی ادا کرنے پڑ رہے ہیں۔

تاہم، ان پرانے صارفین کے سروں پر بھی اب تبدیلی کی تلوار لٹک رہی ہے۔ نیپرا کے قوانین کے تحت نیٹ میٹرنگ کا یہ پرانا معاہدہ عام طور پر 3 سے 7 سال کی مدت کے لیے ہوتا ہے، اور جیسے ہی ان صارفین کے موجودہ معاہدے کی مدت ختم ہوگی، انہیں بھی لازمی طور پر ’نیٹ بلنگ‘ کے اسی نئے اور مہنگے نظام پر منتقل ہونا پڑے گا۔
یہی وجہ ہے کہ مستقل ریلیف پانے والے یہ پرانے شہری بھی اب مستقبل کے لیے متبادل حل تلاش کر رہے ہیں، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ معاہدے کی مدت ختم ہوتے ہی ان کی یہ بچت بھی نئے صارفین کی طرح ختم ہو جائے گی۔












