ریئل اسٹیٹ میں ’فائل سسٹم‘ ختم کرنے کا فیصلہ، متبادل نظام کیسے کام کرے گا؟
ریئل اسٹیٹ میں ’فائل سسٹم‘ ختم کرنے کا فیصلہ، متبادل نظام کیسے کام کرے گا؟
جمعہ 12 جون 2026 5:48
رائے شاہنواز -اردو نیوز، لاہور
پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی نے پورے صوبے کا نظام ڈیجیٹل کر دیا ہے (فوٹو: فون ورلڈ)
پاکستان کے ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں اس وقت ایک بڑی تبدیلی ہونے جا رہی ہے اور دہائیوں پرانا طریقہ یکسر تبدیل ہونے جا رہا ہے۔
جائیداد کی خرید و فروخت میں طویل عرصے سے رائج ’فائل سسٹم‘ اب ختم ہونے جا رہا ہے جو سرمایہ کاری کا ایک آسان ذریعہ ہونے کے ساتھ ساتھ بڑے پیمانے پر فراڈ، غیر قانونی ہاؤسنگ سکیموں کی بھرمار اور نوسرباز ڈویلپرز کی من مانیوں کا گڑھ بن چکا تھا۔
حالیہ دنوں میں اس سلسلے میں ہونے والی نمایاں ترین پیش رفت چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ نذیر احمد بٹ کا لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں تاجر برادری سے اہم خطاب اور ایل ڈی اے کے ڈائریکٹر جنرل طارق فاروق کی جانب سے جاری کردہ نئی پالیسی دستاویزات ہیں جنہوں نے ریئل اسٹیٹ مارکیٹ میں ایک زبردست ہلچل مچا دی ہے۔
حکومت نے واضح کر دیا ہے کہ آئندہ چند ماہ کے اندر فائل ٹریڈنگ کی قانونی حیثیت مکمل طور پر ختم کر دی جائے گی اور اس کی جگہ ایک ایسا جدید، ڈیجیٹل اور شفاف نظام نافذ العمل ہوگا جس سے جائیداد کی خریداری مکمل طور پر محفوظ ہو جائے گی۔
پنجاب میں یکم جولائی کے بعد پلاٹ کی فائل خریدنے اور فروخت کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے اور تمام ہاوسنگ سکیموں کو 30 جون تک خود کو نئے ڈیجیٹل سسٹم پر رجسٹر ہونے کی ڈیڈ لائن دی گئی ہے۔
فائل سسٹم ہے کیا؟
اس پورے معاملے کو مکمل طور پر سمجھنے کے لیے سب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ یہ فائل سسٹم آخر ہے کیا اور اس نے مارکیٹ کو کس طرح اپنے چنگل میں جکڑا ہوا ہے؟ ریئل اسٹیٹ کی زبان میں ’فائل‘ دراصل کسی ہاؤسنگ سوسائٹی میں ایک ایسے پلاٹ کی کاغذی ملکیت یا وعدہ ہوتی ہے جس کا زمین پر ابھی کوئی وجود، نمبر یا حدود متعین نہیں ہوتی۔
ڈی جی ایل ڈی اے طاہر فاروق کہتے ہیں کہ ’سوسائٹیاں زمین کی باقاعدہ منتقلی اور ترقیاتی کاموں سے بہت پہلے کاغذ کے ان ٹکڑوں کو مارکیٹ میں فروخت کر دیتی ہیں۔ چھوٹے اور بڑے سرمایہ کار کم قیمت کی وجہ سے ان فائلوں کو خریدتے ہیں اور پھر سٹے بازی یا فرضی قیمتوں کے اُتار چڑھاؤ کے ذریعے ان فائلوں کی مارکیٹ میں بار بار خرید و فروخت ہوتی ہے، جس سے جائیداد کی قیمتوں کو مصنوعی طور پر کنٹرول کیا جاتا ہے۔‘
اس نظام کا سب سے تاریک پہلو یہ رہا ہے کہ کئی غیر منظور شدہ ہاؤسنگ سوسائٹیاں اپنے پاس موجود اصل اراضی یا لینڈ بینک سے چار گنا زیادہ فائلیں مارکیٹ میں بیچ دیتی ہیں، اور جب کوئی عام شہری برسوں کی جمع پونجی لگانے کے بعد پلاٹ کا قبضہ لینے پہنچتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ زمین پر اس کے پلاٹ کا کوئی وجود ہی نہیں ہے اور وہ ایک بڑے فراڈ کا شکار ہو چکا ہے۔
نیا نظام کیا ہے؟
حکومت اب اس فرسودہ اور غیرمحفوظ کاغذی نظام کو جڑ سے اُکھاڑنے کے لیے جو نیا نظام لا رہی ہے، وہ مکمل طور پر جدید ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹلائزیشن پر مبنی ہے۔
ایل ڈی اے کی نئی پالیسی کے تحت یکم جولائی 2026 سے تمام ہاؤسنگ سکیموں میں جائیداد کا ہر قسم کا لین دین صرف اور صرف پنجاب لینڈ ریکارڈز اتھارٹی کے جاری کردہ ’پراپرٹی سرٹفیکیٹ‘ کے ذریعے ہی ممکن ہو سکے گا۔
ڈی جی ایل ڈی اے کہتے ہیں کہ ’پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی یعنی پیلرا نے پورے صوبے کا نظام ڈیجیٹل کر دیا ہے۔ اس ڈیجیٹل سرٹفیکیٹ پر ایک مخصوص ’کیو آر کوڈ‘ درج ہوگا، جس کو سکین کرتے ہی جائیداد کی مکمل تاریخ، اصل مالک کا نام اور اس کی قانونی حیثیت چند لمحوں میں سامنے آ جائے گی۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’تمام نجی ہاؤسنگ سوسائٹیز کو سخت ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ 30 جون تک اپنا تمام تر ریکارڈ سرکاری ’ہاؤسنگ سوسائٹیز مینجمنٹ سسٹم‘ پر منتقل کر دیں۔ اس نئے نظام کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اسے سب رجسٹرار کے اختیارات کے ساتھ ڈیجیٹل پورٹل پر لنک کر دیا گیا ہے، یعنی اب کوئی بھی سوسائٹی اپنے طور پر اراضی کی فائلیں بنا کر نہیں بیچ سکے گی اور ہر سودا ایل ڈی اے ایکٹ کے تحت حکومت کے مرکزی نظام میں ریکارڈ ہوگا۔‘
’یہ نظام روایتی فائل سسٹم سے اس لیے مختلف ہے کیونکہ اس میں کاغذی فائلوں کی بجائے ہر پلاٹ کی ایک واضح اور منفرد ڈیجیٹل شناخت ہوگی۔‘
حکومت کا نیا نظام مکمل طور پر جدید ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹلائزیشن پر مبنی ہے (فوٹو: پرو پاکستانی)
ماہرین کے مطابق اس اصلاحاتی عمل میں نیشنل اکاؤنٹیبلٹی بیورو (نیب) کی شمولیت نے قانون کے نفاذ کو مزید یقینی بنا دیا ہے۔ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں تاجروں اور ڈویلپرز سے بات کرتے ہوئے چیئرمین نیب نے یہ کہا کہ ’اگلے چار مہینوں کے اندر فائل سسٹم کی حیثیت کو قانونی طور پر مکمل ختم کر دیا جائے گا۔‘
انہوں نے کہا کہ ’نیب کی نئی حکمتِ عملی کے تحت اب کسی بھی ہاؤسنگ سکیم میں فروخت ہونے والے پلاٹوں کی تعداد حقیقت میں دستیاب اور منظور شدہ پلاٹوں سے زیادہ نہیں ہو سکے گی، یعنی ڈویلپرز اپنے لینڈ بینک سے زائد ایک مرلہ زمین بھی نہیں بیچ پائیں گے۔ علاوہ ازیں، پراپرٹی مارکیٹ میں نقد لین دین کی حوصلہ شکنی کی جا رہی ہے اور یہ لازمی قرار دیا جا رہا ہے کہ مستقبل میں ریئل سٹیٹ سیکٹر کی تمام تر ادائیگیاں صرف اور صرف بینکنگ چینلز کے ذریعے کی جائیں تاکہ رقم کی منتقلی کا ایک ایک ریکارڈ موجود رہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’لین دین کا ایک مربوط نظام اور ون ونڈو سہولت متعارف کروائی جا رہی ہے تاکہ سرمایہ کاروں کو تو تحفظ ملے ہی بلکہ کاروباری افراد کے لیے بھی سرکاری اداروں کی طرف سے منظوری کا عمل تیز اور آسان ہو سکے۔‘
وہ لوگ جو پہلے فائلیں خرید چکے ہیں؟
اب آتے ہیں اس سب سے اہم اور حساس پہلو کی طرف کہ وہ عام شہری جنہوں نے پہلے ہی فائلیں خرید رکھی ہیں، یا جن کے پاس اس وقت مختلف سوسائٹیز کی فائلیں موجود ہیں، تو وہ اب کیا کریں گے اور ان کا کیا بنے گا؟
ڈی جی ایل ڈی اے طاہر فاروق کہتے ہیں کہ ’اس نئے قانون کے آنے سے عام شہریوں کو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ انہیں فوری طور پر متحرک ہونا پڑے گا۔ ایسے تمام افراد جن کے پاس کسی بھی سوسائٹی کی فائل موجود ہے، وہ فوری طور پر متعلقہ ہاؤسنگ سوسائٹی کے دفتر سے رجوع کریں اور یہ یقینی بنائیں کہ ان کی فائل کا ڈیٹا 30 جون کی ڈیڈ لائن سے پہلے حکومت کے ’ہاؤسنگ سوسائٹیز مینجمنٹ سسٹم‘ پر لازمی طور پر اَپ لوڈ ہو جائے۔‘
نئے نظام کے تحت پلاٹ خریدنے والا براہ راست پورٹل پر اپنے پلاٹ کا نمبر اور لوکیشن بھی دیکھ سکے گا (فائل فوٹو: اے ایف پی)
انہوں نے مزید کہا کہ ’شہریوں کو چاہیے کہ وہ اپنی سوسائٹی کا نو آبجیکشن سرٹفیکیٹ (این او سی) اور منظور شدہ لے آؤٹ پلان خود بھی چیک کریں۔ اگر کسی شہری کی فائل اس مقررہ وقت کے اندر ڈیجیٹلائز نہیں ہوتی اور ’پراپرٹی سرٹفیکیٹ‘ میں تبدیل نہیں کی جاتی تو اگلے چار ماہ بعد وہ فائل محض کاغذ کا ایک بے وقعت ٹکڑا رہ جائے گی جسے نہ تو مارکیٹ میں بیچا جا سکے گا اور نہ ہی قانوناً اس کی منتقلی ممکن ہو سکے گی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ایک بار جب ہاؤسنگ سوسائٹیز کا سارا ریکارڈ ہمارے پاس آ جائے گا تو اس کے بعد ایسے لوگ جن کو فائل تو مل گئی ہے لیکن پلاٹ نہیں ملا تو ان کا کیس اور بھی مضبوط ہو جائے گا۔ جب یہ واضح ہو گا کہ کس ہاوسنگ سوسائٹی نے اپنی حقیقی زمین سے زیادہ فائلز بیچ رکھی ہیں تو حکومت ایک نیا قانون بھی لا رہی ہے کہ وہ ایسی ہاوسنگ سوسائٹیز کو ایک اور موقع دے گی تاکہ وہ اپنے معاملات درست کر لیں۔ اگر ایسا نہیں ہو گا تو پھر قانون کے مطابق ایسی سوسائٹیز کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔‘
اس نئے نظام کے تحت پلاٹ خریدنے والا براہ راست پورٹل پر اپنے پلاٹ کا نمبر اور لوکیشن بھی دیکھ سکے گا اور ہاوسنگ سوسائٹی کے پاس یہ اختیار نہیں ہو گا کہ وہ کسی کو الاٹ کردہ پلاٹ کو کینسل کر سکے یا اس کی لوکیشن تبدیل کر سکے۔