قدرتی مناظر اور پُرسکون ماحول: مملکت میں دیہی سیاحت کی مقبولیت میں اضافہ
حالیہ برسوں میں دیہی سیاحتی فارم سعودی عرب کی مقامی سیاحت کے شعبے کا تیزی سے بڑھنے والا اور اہم حصہ بنتے جا رہے ہیں۔
مملکت بھر میں زرعی فارموں کو سیاحت کے ایسے مقامات میں تبدیل کیا جا رہا ہے جہاں قدرتی مناظر، میزبانی اور سچے اور کھرے دیہی تجربات اکٹھے ہو جاتے ہیں اور یہ تبدیلی فطری خوبصورتی پر مبنی سیاحت کی طلب میں بڑھتے ہوئے اضافے کو اجاگر کر رہی ہے۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق زرعی، دیہی اور ماحولیاتی سیاحت کی کوآپریٹیو ایسوسی ایشن کے مطابق سعودی عرب میں دیہی سیاحت سے منسلک 450 لائسنس والے علاقے ہیں۔ یہ تعداد، سیاحت کے قومی منظر نامے میں اِس شعبے اور اِس کے کشادہ ہوتے ہوئے کردار پر مسلسل بڑھنے والی سرمایہ کاری کی اہمیت کو نمایاں کرتے ہیں۔
رضی الفریدی جو کوآپریٹیو ایسوسی ایشن کے چیئرمین ہیں، کہتے ہیں کہ مقامی فصلوں اور پروڈکٹس سے متعلق سرگرمیوں اور مشاغل میں اضافہ کرکے نہ صرف دیہی سیاحت کو بڑھایا جا سکتا ہے بلکہ ایسے مقامات سے سیاحوں کے رابطے کو زیادہ مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ دیہی سیاحت کے کامیاب تجربات وہ ہیں جن میں سیاحوں کو زرعی زندگی اور زرعی پیداور کے طریقوں اور مقامی پروڈکٹس سے متعارف کرایا گیا ہے۔ ساتھ ساتھ انھیں یہ موقع بھی فراہم کیا گیا کہ وہ اِن پروڈکٹس کو چکھیں اور چاہیں تو خرید بھی لیں۔

الفریدی کے مطابق سعودی عرب میں پایا جانے والا ماحولیاتی اور زرعی تنوع کئی اقسام کے تجربات کے مواقع تخلیق کرتا ہے جن میں کھجور کے درختوں، گلابوں اور سعودی کافی سے لے کر پھلوں کے باغات، شہد کے کھیت اور موسمی فصلیں تک شامل ہیں۔
جوں جوں اِس شعبے میں ترقی ہو رہی ہے، دیہی سیاحتی فارم زیادہ سے زیادہ تعداد میں مقامی ثقافت، زراعت اور کمیونٹیوں کی خدمت کے مقامات میں تبدیل ہو رہے ہیں اور پائیدار دیہی ترقی میں تعاون کا سبب بھی بن رہے ہیں۔