پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے شہر راولاکوٹ میں گزشتہ کئی روز سے جاری کشیدگی کے بعد حکام نے بتایا ہے کہ کالعدم ’جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی‘ (جے اے اے سی) نے اپنا دھرنا ختم کر دیا ہے جبکہ کمیٹی کی قیادت کا کہنا ہے کہ دھرنا عارضی طور پر ختم کیا تھا اور اب مظاہرین واپس آ گئے ہیں۔‘
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان تازہ جھڑپوں میں ایک نوجوان کی ہلاکت کے بعد خطے میں پانچ روز کے دوران ہلاک ہونے والوں کی مجموعی تعداد 12 سے تجاوز کر چکی ہے۔
اس سے قبل جمعرات کی صبح کمشنر پونچھ سردار وحید نے اردو نیوز کو بتایا تھا کہ ’مظاہرین کا دھرنے کے شرکاء رات کو منشتر ہو گئے تھے۔‘
اس کے بعد کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کی قیادت نے کہا کہ ’رات کو مظاہرین کو حکمت عملی کے تحت منتشر ہونے کو کہا گیا تھا، ان تمام دھرنے پھر فعال ہو گئے ہیں اور ہم اپنے مطالبات کی منظوری تک دھرنا برقرار رکھیں گے۔‘
دریک عیدگاہ گراؤنڈ میں اس وقت مظاہرین بڑی تعداد میں واپس جمع ہو گئے ہیں اور گزشتہ چند روز کے برعکس خواتین بھی اس دھرنے میں شامل ہو گئی ہیں۔
دوسری جانب کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے رکن شوکت نواز میر کا ایک مبینہ آڈیو پیغام بھی سامنے آیا ہے جس میں انہیں یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ ’مشاورتی عمل جاری ہے، جلد اگلے لائحۂ عمل سے مظاہرین کو آگاہ کیا جائے گا۔‘
سرکاری حکام کے مطابق جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب راولاکوٹ کے دو مقامات، دریک عیدگاہ گراؤنڈ اور متیالمیرہ میں پڑاؤ ڈالے ہوئے لانگ مارچ کے شرکاء اس وقت منتشر ہونا شروع ہوئے جب دھرنے کے سٹیج سے ممکنہ سکیورٹی آپریشن کے خدشات سے متعلق اعلانات کیے گئے۔
مزید پڑھیں
-
کشمیر میں بے چینی، مرہم کس کے پاس ہے؟ اجمل جامی کا کالمNode ID: 905237
جمعے کی صبح کمشنر پونچھ سردار وحید خان نے اردو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے دھرنے کے شرکاء کے منتشر ہونے کی تصدیق کی۔
انہوں نے بتایا ’ہم نے دھرنوں میں بیٹھے افراد کو وارننگ دی تھی کہ اگر آپ یہاں سے نہیں جائیں گے تو آپ کے خلاف سخت کارروائی ہو گی۔ اس کے بعد وہ چلے گئے۔ مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ہمیں کسی (مسلح) آپریشن کی ضرورت نہیں پڑی۔‘
کچھ مظاہرین پھر گراؤنڈ میں آئے
دوسری جانب دریک کے ایک مقامی رہائشی نے بتایا کہ ’جمعے کی صبح بارش ہوئی اور اب کچھ لوگ عیدگاہ گراؤنڈ میں واپس آئے ہیں۔‘
جمعرات کی صبح 11 بجے کالعدم جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنما عمر نذیر نے اپنے آفیشل فیس بک پیج پر لکھا کہ ’رات گئے عوام کو محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا تھا۔ صبح ہوتی ہی عوام واپس اپنے دھرنوں میں پہنچ چکی۔ ہماری پُرامن جدوجہد ہر صورت جاری رہے گی۔‘
اس سے قبل رات کو عمر نذیر نے کہا تھا کہ ’ہم اپنی طرف سے اسے ہر ممکن پُرامن رکھنے کی حکمت عملی اپنائے ہوئے ہیں- اسی وجہ سے ہم نے لاکھوں کے مجمعے کو عارضی طور پر منتشر کیا۔‘
حکام کا کہنا ہے کہ راولاکوٹ شہر جہاں گزشتہ تین دن سے کرفیو نافذ ہے، وہاں حالات اب بالکل پرامن ہیں، تاہم شہر میں آمد و رفت پر پابندی تاحال برقرار ہے اور پورے خطے میں مسلسل چھٹے روز بھی موبائل ڈیٹا اور انٹرنیٹ سروسز معطل ہیں۔
’پس پردہ بات چیت جاری تھی‘
راولاکوٹ کے اردو اخبار ’کشمیر دھرتی‘ کے ایڈیٹر اور سینیئر صحافی عابد صدیق نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’رات قریباً ساڑھے بارہ بجے کے قریب متالمیرہ کے دھرنے کے شرکاء کو جب ممکنہ آپریشن کے بارے میں بتایا گیا تو وہ منتشر ہونے لگے۔‘
انہوں نے بتایا کہ ’اس کے تھوڑی دیر بعد دریک عیدگاہ گراؤنڈ والے دھرنے میں کسی شخص نے سٹیج سے اعلان کیا کہ آپریشن ہونے والا ہے، جس نے جان بچانی ہے، وہ گراؤنڈ سے ادھر اُدھر ہو جائے۔ اس کے بعد بہت سے لوگ چلے گئے۔‘
عابد صدیق کے مطابق ’صبح مقامی افراد جب دیکھا تو دریک عید گاہ گراؤنڈ میں کچھ نہیں تھا۔ جو لوگ رات سوئے تھے، وہ اِدھر اُدھر چلے گئے تھے۔‘
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ’گزشتہ روز سے کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے قائدین راولاکوٹ کے قائدین کے ساتھ پس پردہ بات چیت جاری تھی جس میں کمیٹی کی قیادت کا مطالبہ تھا کہ ان کے گروپ کو کالعدم قرار دیے جانے کا نوٹیفیکشن واپس لیا جائے لیکن حکام کا اصرار تھا کہ پہلے وہ یہ لانگ مارچ اور دھرنا ختم کریں۔‘
سکیورٹی فورسز کے ممکنہ آپریشن کی خبروں سے متعلق انہوں نے بتایا کہ ’جمعرات اور جمعے کی شب سکیورٹی فورسز اور انتظامیہ کے تیور کچھ ایسے ہی تھے۔ ہسپتال کے دن کے عملے کو بھی بلا لیا گیا تھا اور ہسپتال کے قریبی علاقوں سے کچھ گھروں کو بھی خالی کرا لیا گیا تھا۔‘
مذاکرات سے انکار اور پرانے مقدمات کی بحالی
مظاہرین کے منتشر ہونے سے چند گھنٹے قبل پاکستان کے وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر واضح کیا تھا کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات نہیں ہو رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’انتشار پر اکسانے اور امن کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف آئینی اور قانونی دائرہ کار کے اندر رہتے ہوئے سخت کارروائی کی جائے گی۔‘
اسی دوران پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کی حکومت نے ایک بڑے انتظامی فیصلے میں کالعدم جے اے اے سی کے رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف گزشتہ دو برسوں کے دوران واپس لیے گئے تمام فوجداری مقدمات کو فوری طور پر بحال کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔
محکمہ قانون کے جمعرات کے نوٹیفیکشن کے مطابق صدرِ ریاست نے 5 جون کو کابینہ کے اجلاس میں کیے گئے فیصلے کی روشنی میں ان تمام پرانے صدارتی اور وزارتی احکامات کو منسوخ کر دیا ہے جن کے تحت مئی 2024 اور دسمبر 2025 کے مظاہروں کے دوران درج سنگین مقدمات (توڑ پھوڑ، کارِ سرکار میں مداخلت اور دفعہ 144 کی خلاف ورزی) میں نامزد افراد کو قانونی ریلیف دیا گیا تھا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ان پرانے احکامات کی منسوخی کا مقصد ایکشن کمیٹی کے روپوش قائدین کے گرد قانونی گھیرا تنگ کرنا ہے۔













