پاکستان سکیورٹی پرنٹنگ کارپوریشن نے پاسپورٹ کی چھپائی کیوں بند کر دی؟
پاکستان سکیورٹی پرنٹنگ کارپوریشن نے پاسپورٹ کی چھپائی کیوں بند کر دی؟
جمعہ 13 مارچ 2026 6:52
صالح سفیر عباسی، اسلام آباد
اس سے قبل بھی پاکستان میں پاسپورٹس کے بیک لاگ کا بڑا مسئلہ سامنے آ چکا ہے (فائل فوٹو: ویڈیو گریب)
پاکستان سکیورٹی پرنٹنگ کارپوریشن (پی ایس پی سی) نے مبینہ طور پر واجبات کی عدم ادائیگی کے باعث پاسپورٹ کی کاپیاں چھاپنا بند کر دیا ہے۔
اب اس صورتحال کے بعد یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ عید کے بعد نئے پاکستانی پاسپورٹ کی تیاری کا عمل بند ہو سکتا ہے۔
اردو نیوز نے جب پاسپورٹ آفس سے رابطہ کیا تو انہوں نے تصدیق کی کہ واجبات کی عدم ادائیگی سے متعلق اس نوعیت کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، تاہم ان کے پاس پہلے سے کافی مقدار میں کاپیاں موجود ہیں، جس کی وجہ سے فوری طور پر کسی بحران کے پیدا ہونے کا خدشہ نہیں ہے۔
دستیاب معلومات کے مطابق پاکستان سکیورٹی پرنٹنگ کارپوریشن نے قریباً نو ارب روپے کے واجبات ادا نہ ہونے کے بعد پاسپورٹ کی کاپیاں چھاپنا روکی ہیں اور اس حوالے سے پاسپورٹ آفس کو بھی مطلع کیا گیا ہے۔
جبکہ دوسری جانب مبینہ طور پر وزارت خزانہ کی جانب سے فنڈز کی عدم فراہمی کے سبب بیرون ملک تعینات پاسپورٹ عملے کی تنخواہیں بھی رک گئی ہیں۔
اس حوالے سے خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر وزارت خزانہ کی جانب سے فنڈز جاری نہ کیے گئے تو نہ صرف پاسپورٹ کاپیوں کا بحران جنم لے سکتا ہے بلکہ بیرون ملک عملے کی تنخواہوں کا مسئلہ بھی بڑھ سکتا ہے۔
اس سلسلے میں وزارت خزانہ کے ترجمان سے موقف لینے کی کوشش کی گئی، تاہم اب تک ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں آیا۔
تاہم اردو نیوز کو وزارت خزانہ کے ایک اعلیٰ افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اگر پرنٹنگ کارپوریشن یا پاسپورٹ آفس کو اس حوالے سے کوئی تحفظات ہیں تو انہیں دستاویزی ثبوت فراہم کرنا ہوں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ہر سال پرنٹنگ کے لیے بجٹ میں ایک رقم مختص کی جاتی ہے جس کا مکمل بجٹ تمام متعلقہ محکموں کو بھیج دیا جاتا ہے۔ اگر کسی محکمے نے وہ رقم کسی دوسرے مد میں استعمال کی ہے تو اس کی ذمہ داری وزارت خزانہ پر نہیں عائد ہوتی۔‘
پاسپورٹ کی کاپیاں کیسے چھپتی ہیں؟
پاکستان میں پاسپورٹ کی کاپیاں پاکستان سکیورٹی پرنٹنگ کارپوریشن چھاپتی ہے جو حکومتِ پاکستان کا ایک سرکاری محکمہ ہے۔
یہ محکمہ وزارت خزانہ کے ماتحت کام کرتا ہے اور پاسپورٹ بُک لیٹس کے علاوہ دیگر اہم سکیورٹی دستاویزات بھی پرنٹ کرتا ہے۔
پاکستان میں پاسپورٹ کے لیے استعمال ہونے والا خاص سکیورٹی پیپر بیرون ملک سے درآمد کیا جاتا ہے کیونکہ اس میں واٹر مارک، فائبرز اور دیگر حفاظتی فیچرز ہوتے ہیں۔
بعد ازاں اس سکیورٹی پیپر پر پاکستان سکیورٹی پرنٹنگ کارپوریشن پاسپورٹ کے مختلف صفحات پرنٹ کرتی ہے، جن میں پاکستان کا نشان، اندرونی ڈیزائن، سکیورٹی پیٹرن اور صفحہ نمبر وغیرہ شامل ہوتے ہیں۔
سکیورٹی پیپر پر پاکستان سکیورٹی پرنٹنگ کارپوریشن پاسپورٹ کے مختلف صفحات پرنٹ کرتی ہے (فائل فوٹو: پی سی پی)
اردو نیوز نے جب امیگریشن ماہر میجر ریٹائرڈ بیرسٹر ساجد مجید سے رابطہ کیا تو انہوں نے بتایا کہ حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ اس نوعیت کے اخراجات کے لیے بجٹ پہلے سے مختص کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’اس وقت مالی سال کا آخری شروع ہونے والا ہے اور اگر واقعی ادائیگیاں نہیں ہوئیں تو اس مسئلے کو فوری طور پر کیسے حل کیا جائے گا، یہ ایک بڑا سوال ہے۔‘
انہوں نے اس بات پر تشویش ظاہر کی کہ ’اگر ادائیگی نہ ہونے کے باعث پاسپورٹ بُک لیٹس کی پرنٹنگ رک جاتی ہے تو اس کا براہِ راست نقصان عوام کو ہو گا کیونکہ لوگ اپنے پاسپورٹ حاصل نہیں کر سکیں گے۔‘
ان کے مطابق یہ نہ صرف ایک بحران کی صورت اختیار کر سکتا ہے بلکہ حکومت کے لیے بھی باعثِ شرمندگی ہو سکتا ہے۔
میجر ریٹائرڈ ساجد مجید نے واضح کیا کہ دنیا کے زیادہ تر ممالک میں اس طرح کے مسائل سامنے نہیں آتے۔
انہوں نے یاد دلایا کہ اس سے قبل بھی پاکستان میں پاسپورٹس کے بیک لاگ کا بڑا مسئلہ سامنے آ چکا ہے اور اگر اس بار بھی بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو مسائل مزید بڑھ سکتے ہیں۔