صدر ٹرمپ نے امریکی نشریاتی ادارے سی این بی سی کے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’میں ایسا نہیں کرنا چاہتا۔ ہمارے پاس زیادہ وقت نہیں ہے، جیسا کہ آپ جانتے ہیں، انہیں آگے بڑھنے کی اجازت مل گئی ہے، حالانکہ مجھے معلوم تھا کہ وہ ویسے بھی ایسا کریں گے۔ میرے خیال میں ان کے پاس کوئی اور راستہ نہیں۔ انہیں مذاکرات کرنا ہوں گے۔‘
جب ان سے ایران میں پلوں اور بجلی گھروں پر حملے کی اپنی دھمکی کے اثرات کے بارے میں پوچھا گیا تو صدر ٹرمپ نے زور دیا کہ اس سے ایران کو فوجی طور پر نقصان پہنچے گا۔
انہوں نے کہا کہ ’یہ میرا انتخاب نہیں ہے، لیکن اس سے انہیں نقصان ہوگا۔ یہ انہیں فوجی طور پر متاثر کرے گا۔ وہ پلوں کو اپنے ہتھیاروں اور میزائلوں کی نقل و حرکت کے لیے استعمال کرتے ہیں۔‘
امریکی صدر نے مزید کہا کہ دونوں فریقوں نے جنگ بندی کے دوران اپنی طاقت کو ’ری سٹاک‘ کے لیے وقت استعمال کیا ہے۔
ٹرمپ کے مطابق ایران کے پاس امریکہ کے ساتھ معاہدہ کرنے کی مضبوط وجہ موجود ہے۔ انہوں نے وہاں کے عوام کو لاجواب قرار دیا، تاہم قیادت کو ’خونخوار‘ اور ’سخت‘ کہا۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’اس جہاز میں چین کی طرف سے ایک تحفہ تھا جو زیادہ اچھا نہیں تھا۔‘ (فوٹو:اے ایف پی)
انہوں نے کہا کہ ’اگر ایران معاہدہ کر لے تو وہ اپنے آپ کو ایک بہت مضبوط پوزیشن میں لا سکتا ہے۔ وہ دوبارہ ایک مضبوط اور شاندار ملک بن سکتا ہے۔‘
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’ہم ایک بہترین معاہدے تک پہنچیں گے۔ میرا خیال ہے کہ ان کے پاس کوئی اور راستہ نہیں... ہم مذاکرات میں بہت، بہت مضبوط پوزیشن میں ہیں۔‘
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی افواج نے ایک ایسے جہاز کو روک لیا ہے جو چین کی جانب سے ایران کے لیے ایک ’تحفہ‘ لے جا رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ تہران جنگ بندی کے دوران اپنی فوجی طاقت دوبارہ بحال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’اس جہاز میں چین کی طرف سے ایک تحفہ تھا جو زیادہ اچھا نہیں تھا۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’میں کچھ حیران ہوا۔‘ ’مجھے لگا تھا کہ میری چین کے صدر شی جن پنگ کے ساتھ اس معاملے پر انڈرسٹینڈنگ ہو چکی ہے۔‘
ٹرمپ کے مطابق ایران کے پاس امریکہ کے ساتھ معاہدہ کرنے کی مضبوط وجہ موجود ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
ایک ہفتہ قبل ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ شی جن پنگ نے انہیں یقین دہانی کرائی تھی کہ چین ایران کو کوئی ہتھیار فراہم نہیں کرے گا، جبکہ ایران کئی سالوں سے بیجنگ کا قریبی شراکت دار رہا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر امریکہ اور ایران جنگ بندی میں توسیع کے لیے بدھ کی شام تک کسی معاہدے تک نہ پہنچ سکے تو وہ ایران پر بمباری جاری رکھنے کی توقع رکھتے ہیں۔
’مجھے توقع ہے کہ میں بمباری کروں گا کیونکہ میرا خیال ہے کہ یہ ایک بہتر رویہ ہے جس کے ساتھ مذاکرات میں جانا چاہیے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ’لیکن ہم تیار ہیں۔ میرا مطلب ہے کہ فوج مکمل طور پر تیار ہے۔ وہ واقعی ناقابلِ یقین ہیں۔‘
نائب صدر جے ڈی وینس اور ٹرمپ انتظامیہ کے دیگر اعلیٰ عہدیداروں کی آج پاکستان روانگی کا امکان ہے، جہاں مذاکرات کے دوسرے اہم دور کا انعقاد ہوگا۔