چوہے اور پسوؤں نے غزہ کے بے گھر افراد کی زندگی اجیرن
اقوام متحدہ کے مطابق، غزہ کے 22 لاکھ افراد میں سے 17 لاکھ اب بھی بے گھر کیمپوں میں رہ رہے ہیں۔ (فوٹو: اے ایف پی)
جیسے ہی غزہ میں بہار کے موسم کے ساتھ درجہ حرارت بڑھ رہا ہے، چوہوں، پسوؤں اور دیگر حشرات کی افزائش نے لاکھوں بے گھر افراد کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے، جو دو سال سے زائد عرصے کی جنگ کے بعد اب بھی خیموں میں رہنے پر مجبور ہیں۔
فلسطینیوں نے اے ایف پی کو بتایا کہ ناکافی رہائش اور تقریباً نہ ہونے کے برابر صفائی کی سہولیات کے باعث یہ کیڑے مکوڑے ان کے عارضی گھروں میں گھس رہے ہیں، بچوں کو کاٹ رہے ہیں اور خوراک کو آلودہ کر رہے ہیں۔
جبکہ امدادی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ عوامی صحت کے لیے بڑھتا ہوا خطرہ ہے۔
جنوبی شہر خان یونس کے قریب خیمے میں رہنے والے ایک بے گھر فلسطینی محمد الرقّاب نے کہا، ’میرے بچوں کو کاٹا گیا ہے۔ میرے ایک بیٹے کی ناک پر بھی کاٹا گیا۔‘
انہوں نے اے ایف پی کو بتایا، ’میں رات بھر سو نہیں پاتا کیونکہ مجھے مسلسل بچوں کی نگرانی کرنا پڑتی ہے۔‘ 32 سالہ تعمیراتی مزدور کا تعلق بنی سہیلا سے ہے۔
چونکہ بحیرۂ روم کے کنارے نرم ریت پر خیمے نصب کیے گئے ہیں، اس لیے چوہے آسانی سے خیموں کے نیچے سرنگیں بنا کر اندر داخل ہو جاتے ہیں اور وہاں تباہی مچاتے ہیں، جہاں لوگوں نے عارضی کچن اور ذخیرہ گاہیں بنا رکھی ہیں۔
رقّاب نے کہا کہ ’چوہوں نے میرا خیمہ تک کتر ڈالا ہے۔‘
اکتوبر 2023 میں اسرائیل پر حملے کے بعد شروع ہونے والی جنگ کے دوران اسرائیلی انخلا کے احکامات اور فضائی حملوں کے باعث غزہ کی تقریباً پوری آبادی بے گھر ہو گئی۔
اقوام متحدہ کے مطابق، غزہ کے 22 لاکھ افراد میں سے 17 لاکھ اب بھی بے گھر کیمپوں میں رہ رہے ہیں اور وہ جنگ بندی کے باوجود اپنے گھروں یا ان علاقوں میں واپس نہیں جا سکتے جو ابھی بھی اسرائیلی فوج کے کنٹرول میں ہیں ۔
مرکزی غزہ کے الاقصیٰ ہسپتال میں شعبہ اطفال کے سربراہ ہانی الفلیت نے اے ایف پی کو بتایا کہ ان کی ٹیم کو روزانہ جلدی بیماریوں جیسے خارش (اسکیبیز) کے کیسز کا سامنا ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’ان جلدی بیماریوں کی شدت اس وجہ سے بڑھ گئی ہے کہ بچے اور ان کے خاندان انتہائی خراب حالات میں رہ رہے ہیں جہاں بنیادی صفائی اور محفوظ پانی مکمل طور پر موجود نہیں ہے۔‘
صبرین ابو طیبہ، جن کے بیٹے کو جلدی خارش لاحق ہے، نے کیمپ کے حالات کو ذمہ دار ٹھہرایا۔
انہوں نے کہا کہ ’ہم خیموں اور ایسے سکولوں میں رہ رہے ہیں جو گندے پانی (سیوریج) سے بھرے ہوئے ہیں۔‘ انہوں نے اپنے بیٹے کے جسم پر پھیلے دانے دکھائے۔
’میں اسے ڈاکٹروں اور ہسپتالوں میں لے گئی ہوں، مگر کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ جیسا کہ آپ دیکھ سکتے ہیں، خارش اب بھی موجود ہے۔‘
