اس کے علاوہ اسلام آباد کے بیشتر تعلیمی ادارے آن لائن کلاسز کا انعقاد کر رہے ہیں۔ تاہم انتظامیہ کی جانب سے شہر میں عام تعطیل کا اعلان نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے ریڈ زون کے باہر واقع سرکاری اور نجی دفاتر کھلے ہیں۔
دوسری جانب شہر کی متعدد اہم شاہراہوں کو آمد و رفت کے لیے بند کر دیا گیا ہے، جبکہ بعض دیگر راستوں کو مختلف اوقات میں ٹریفک کے لیے بند کیا جاتا ہے۔
اسلام آباد ٹریفک پولیس نے فیصل ایونیو (اسلام آباد ہائی وے) کو زیرو پوائنٹ سے کورال تک بند رکھنے کا اعلان کیا ہے جبکہ سری نگر ہائی وے بھی سرینا چوک سے سیون ایونیو انڈر پاس تک ٹریفک کے لیے بند ہے۔
اسی طرح اسلام آباد کی اہم ترین شاہراہ، جناح ایونیو کو بھی خیبر پلازہ سے ڈی چوک کی جانب ہر قسم کی آمد و رفت کے لیے بند کر دیا گیا ہے، جبکہ ریڈ زون کے گرد و نواح میں واقع دیگر راستے بھی بند ہیں۔
اہم شاہراہوں کی بندش کے باعث ٹریفک کا تمام تر دباؤ اب ایک چھوٹی سڑک گارڈن ایونیو پر ہے، جہاں غیر معمولی رش کی وجہ سے ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے۔
ریڈ زون کے قریو واقع کاروباری مراکز کو سکیورٹی کی وجہ سے بند کیا گیا ہے: فوٹو اے ایف پی
موجودہ صورتحال کے پیشِ نظر، اسلام آباد ٹریفک پولیس نے شہریوں سے ٹریفک پلان پر عمل درآمد اور پولیس حکام کے ساتھ بھرپور تعاون کی اپیل کی ہے۔
اسلام آباد میں امن و امان اور سکیورٹی کی مجموعی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے 10 ہزار کے قریب اہلکار فرائض سرانجام دے رہے ہیں، جن میں اسلام آباد اور پنجاب پولیس کے ساتھ ساتھ پاکستان رینجرز، ایف سی اور فوج کے دستے بھی شامل ہیں۔
اسلام آباد کی طرح جڑواں شہر راولپنڈی میں بھی آجصورتحال زیادہ مختلف نہیں ہے، جہاں مسلسل تیسرے روز بھی سخت سکیورٹی اقدامات نافذ ہیں اور شہر کی متعدد اہم شاہراہیں بند رکھی گئی ہیں۔
ہائی سکیورٹی زون میں واقع سرکاری دفاتر کو گھر سے کام کرنے اور تعلیمی اداروں کو آن لائن کلاسز کے انعقاد کی ہدایت کی گئی ہے، جبکہ جڑواں شہروں ضلعی انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ یہ تمام غیر معمولی اقدامات اسلام آباد میں ممکنہ اہم سفارتی سرگرمیوں کے پیشِ نظر کیے گئے ہیں۔