Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

امریکہ اور ایران جنگ بندی میں توسیع پر غور کریں اور مذاکرات کو ایک موقع دیں: اسحاق ڈار

پاکستان میں امریکہ کی ناظم الامور نیٹلی بیکر نے منگل کو اسلام آباد میں نائب وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار سے ملاقات کی۔
پاکستانی دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ملاقات میں خطے میں ہونے والی حالیہ پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔‘
ملاقات میں اسحاق ڈار نے کہا کہ ‘خطے میں پائیدار امن، استحکام اور چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بات چیت اور سفارت کاری ہی موثر ذرائع ہیں۔‘
امریکی ناظم الامور سے بات چیت میں انہوں نے مزید کہا کہ ’مسئلے کے لیے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت ضروری ہے۔‘
پاکستان کے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے فریقین پر زور دیا کہ ’وہ جنگ بندی میں توسیع پر غور کریں، اور مذاکرات اور سفارت کاری کو ایک موقع دیں۔‘ 
امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر نے خطے میں امن کے فروغ اور مذاکراتی عمل میں سہولت کاری پر پاکستان کے کردار کو سراہا۔
اس کے بعد منگل کی شام کو ایک بیان میں پاکستان کے وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے دوسرے ممکنہ راؤنڈ کے حوالے سے صورتِ حال واضح کی۔
اپنے ایکس اکاؤنٹ پر ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ’ایران کی جانب سے اسلام آباد امن مذاکرات میں شرکت کی تصدیق کا انتظار ہے۔‘
عطا اللہ تارڑ نے اس حوالے سے مزید کہا کہ ’ایران کی جانب سے مذاکرات میں شرکت کے لیے تاحال باضابطہ جواب موصول نہیں ہوا۔‘
’پاکستان بطور ثالث ایرانی حکام سے مسلسل رابطے میں ہے اور سفارت کاری اور مذاکراتی عمل کو آگے بڑھا رہا ہے۔‘
پاکستان کے وزیر اطلاعات کا کہنا ہے کہ ’پاکستان نے ایران کو مذاکراتی عمل میں شرکت کے لیے آمادہ کرنے کی مخلصانہ کوششیں کی ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’دو ہفتے کی جنگ بندی کے اختتام سے قبل ایران کا مذاکرات میں شرکت کا فیصلہ اہمیت کا حامل ہے۔’
عطا اللہ تارڑ نے مزید بتایا کہ ’امریکہ اور ایران میں دو ہفتے کی جنگ بندی پاکستانی وقت کے مطابق 22 اپریل کی صبح 4 بج کر 50 منٹ پر ختم ہو گی۔‘

شیئر: