Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

عود، بخور اور خوشبویات: عرب مہمان نوازی اور ورثے کی علامت

سعودی عرب میں رمضان المبارک کے دوران اور عید الفطر قریب آتے ہی عود و بخور کی طلب میں غیرمعمولی اضافہ ہو جاتا ہے۔ دارالحکومت ریاض میں خاص طور پر بخور اور عطریات کی فروخت بڑھ گئی ہے۔
ان خوشبویات کا سعودی عرب کی سماجی روایات کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔ خاندانی اجتماعات میں مہمانوں کا خیرمقدم کرنے، مساجد کو معطر بنانے اور رمضان کے دوران روحانی ماحول کو خوشگوار رکھنے کے لیے ان کا استعمال کیا جاتا ہے۔
سعودی خبررساں ایجنسی ایس پی اے کے مطابق بخور کا عام طور پر استعمال رمضان المبارک کے دوران مساجد اور محافل میں کیا جاتا ہے۔
خوشبویات کی دکانوں میں اعلٰی معیار کی قدرتی بخور کی لکڑی اور عطر رکھے جاتے ہیں۔
اعلٰی معیار کی بخور کی لکڑی جنوبی ایشیائی ممالک سے درآمد کی جاتی ہے، جن میں بھارت، ویتنام، کمبوڈیا، ملائیشیا اور انڈونیشیا شامل ہیں، اور یہ ممالک بخور کی پیداوار میں عالمی سطح پر شہرت رکھتے ہیں۔
مملکت میں ایک کلو قدرتی اور نایاب روغنِ بخور کی قیمت لاکھوں ریال تک پہنچ جاتی ہے، جبکہ ایک اونس عود 100 ریال سے لے کر 6 ہزار ریال تک فروخت ہوتا ہے۔
ماہِ رمضان میں عود اور مشرقی عطر کی طلب میں غیر معمولی اضافہ ہو جاتا ہے۔ بیشتر لوگ انہیں سماجی اور گھریلو تقریبات میں بطور تحفہ پیش کرنے کے لیے خریدتے ہیں۔

جوں جوں عید الفطر قریب آ رہی ہے، عود، بخور اور مشرقی عطر کی طلب میں بھی غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آتا ہے۔ یہ خوشبویات روایتی تحائف کے طور پر ایک مقبول انتخاب سمجھی جاتی ہیں۔
یہ عود کی ثقافتی اور اقتصادی اہمیت کو بھی ظاہر کرتا ہے، جو نسل در نسل عرب مہمان نوازی اور ورثے کی علامت رہا ہے۔

 

شیئر: